کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی کے تین صوبائی حلقوں پر کل ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں جن میں پی بی 50 قلعہ عبداللہ، پی بی 22 لسبیلہ اور پی بی 20 خضدار کی نشستیں شامل ہیں۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ ان کی جماعت پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی۔
پی بی 20 خضدار سے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کامیاب ہوئے تھے لیکن قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے کے باعث انھوں نے اس نشست کو خالی کیا تھا۔الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 100 ہے جن کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 93 ہزار 425 ہے، جن میں سے 52 ہزار 777 مرد اور 40 ہزار 648 خواتین شامل ہیں۔دوسری نشست پی بی 22 لسبیلہ سے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن جام کمال خان منتخب ہوئے تھے، تاہم قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے باعث انھوں نے بلوچستان اسمبلی کی اس نشست کو چھوڑ دیا تھا۔
پی بی 22 لسبیلہ میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 129 ہے جن میں سے59 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔اس حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد ہے۔
بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار انجنیئر زمرک کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیکر اس نشست پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب سنیچر کو پشین میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یوآئی نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ صرف پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے پارٹی نے اپنے امیدوار کو ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے یہاں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ اب اس نشست پر دھاندلی نہیں ہوگی لیکن شواہد ایسے ہیں کہ دوبارہ دھاندلی ہوگی اس لیے ان کی جماعت اس نشست پر بھی ضمنی انتخاب کابائیکاٹ کرتی ہے ۔
پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں کُل پولنگ اسٹیشنزکی تعداد 125 ہے جن میں سے 47 پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور 78 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

