تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ:افسوسناک الزامات، خطرناک رجحان

پاکستان جمہوری تحریک کے اہم لیڈروں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں عمران خان پر اعتماد کے ووٹ کو مشکوک قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کے اجلاس اور اعتماد کے لئے ووٹنگ کو ’غیر قانونی‘ قرار دے چکے ہیں۔ تاہم آج مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنسوں میں اعتماد کے ووٹ کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا ہے۔
حکومت اور تحریک انصاف یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عمران خان اور حکومت نے اپنی سیاسی برتری اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنا دیا ہے۔ اسی لئے سرکاری نمائیندے اس بات کو خاص طور سے بیان کررہے ہیں کہ عمران خان کو اگست 2018 میں 176 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی تھی لیکن 6 مارچ کی ووٹنگ میں 178 اراکین نے وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس طرح انہیں پہلے کے مقابلے میں دو زیادہ اراکین نے ووٹ دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کو عمران خان کی قیادت اور حکومت پر مکمل بھروسہ و اعتماد ہے۔ کسی بھی لیڈر کو وزیر اعظم منتخب ہونے کے لئے 172 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں 6 ووٹوں کی اکثریت سے ایوان کا اعتماد حاصل کرنا بجائے خود کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے لیکن اس سے کم از کم 3 مارچ کو سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں سرکاری امید وار حفیظ شیخ کی شکست کا داغ مٹانے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔
ملک میں پائے جانے والے سیاسی بحران کا تقاضہ تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان اور حکومت درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کرتے، تصادم کی فضا کو ختم کرنے کی جاتی اور اپوزیشن کو احتجاج کی بجائے پارلیمنٹ میں واپس آکر افہام و تفہیم سے پارلیمانی امور میں حصہ دار بننے کی دعوت دی جاتی۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیر اعظم کی تقریر اہم ہوسکتی تھی۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے ایک ہی تقریر ’از بر‘ کی ہوئی ہے جس میں تبدیلی کو وہ اپنی سیاسی شان کی توہین سمجھتے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر ہرگز ملکی حالات سےمطابقت نہیں رکھتی تھی۔ سیاست کی مبادیات سے آگاہ کوئی بھی شخص وزیر اعظم اور عمران خان کو یہی مشورہ دیتا کہ ملک کی معاشی مشکلات اور داخلی و خارجی طور سے درپیش چیلنجز کی وجہ سے پاکستان کسی بڑے سیاسی بحران یا تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس مشکل سے بچنے کے لئے بیانات کو محدود کرنے اور مواصلت و مفاہمت کا کوئی راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کو یہ سمجھنے کی شدید ضرورت ہے کہ جب وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے قومی اسمبلی میں آئے اور اس سے پہلے اراکین اسمبلی اور اتحادی گروپوں کے ساتھ ملاقاتوں میں تعاون کے بدلے وعدے وعید کئے گئے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ عمران خان اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ 4 مارچ کو قوم سے خطاب میں اگرچہ عمران خان نے یہی تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ انہیں اقتدار کی پرواہ نہیں ہے۔ اگر قومی اسمبلی ان پر اعتماد نہیں کرتی تو وہ بخوشی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم فوجی قیادت سے لے کر قومی اسمبلی کے ارکان سے ملاقاتوں کے سلسلہ سے اس تاثر اور دعوے کی نفی ہوتی ہے۔ مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ان کی علیحدہ فہرست بن سکتی ہے لیکن تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو راضی کرنے کے لئے بھی بہت پاپڑ بیلنے پڑے ۔ اقتدار سے لاپرواہ اور صرف قومی بہبود کے لئے مجبوراً عہدہ سنبھالنے والا کوئی شخص ، اس قسم کے جوڑ توڑ اور سیاسی ہتھکنڈوں کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
عمران خان کی سب سے فاش سیاسی غلطی جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات وزیر اعظم کی درخواست پر ہوئی تھی۔ اس میٹنگ کے بارے میں وزیر اعظم ہاؤس نے کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا۔ اس طرح ان قیاس آرائیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا کہ عمران خان نے سینیٹ میں شکست کھانے کے بعد فوجی قیادت سے سیاسی مدد کی درخواست کی ہے۔ ایسا کوئی وقوعہ نہ بھی ہؤا ہو پھر بھی حفیظ شیخ کی شکست کو حکومت نے جس طرح انا کا مسئلہ بنایا اور وزیر اعظم نے فوری طور سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا تو اس ماحول میں ان کا فوجی قیادت سے ملنا دراصل شکوک و شبہات کو تقویت دیتا ہے۔ خاص طور سے جب کہ یہ سب پر عیاں ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی احتجاجی تحریک سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت ختم کروانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل ہے۔
الزامات اور ان کے جوابات کا سلسلہ اتنا دراز ہو چکا ہے کہ گزشہ ماہ کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل افتخار بابر کو ایک ٹیلی ویژن انٹریو میں اعلان کرنا پڑا تھا کہ’ فوجی قیادت نے اپوزیشن کے سیاسی لیڈروں سے ملاقات نہیں کی۔ پاک فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘۔ اس بیان سے پاک فوج یہ واضح کرنا چاہتی تھی کہ ملک کے موجودہ سیاسی بحران میں وہ فریق نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایسا کوئی کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ اس منظر نامہ میں اگرچہ پاک فوج کی قیادت کو بھی سینیٹ انتخاب میں شکست کھائی ہوئی حکومت کے ایسے سربراہ سے ملنے سے گریز کرنا چاہئے تھا جو خود ہی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان بھی کرچکا تھا۔ اس طرح ملک میں عسکری اداروں کی خود مختاری کے بارےمیں مزید سوالات اٹھانے کا موقع فراہم نہ ہوتا۔ تاہم کسی نہ کسی مجبوری میں یہ احتیاط نہیں کی گئی۔ لیکن اس کی سب سے بھاری ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک سیاسی معرکہ کے عین بیچ فوجی قیادت سے ملاقات کے ذریعے اپنی سیاسی برتری واضح کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک غیر اخلاقی سیاسی شعبدے بازی تھی۔
اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اعتماد کا ووٹ لینے سے عین پہلے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے وزیر اعظم کی ملاقات سے تحریک انصاف کے اندر اور اتحادیوں کے بعض ارکان اسمبلی کو عمران خان کی اصل ’قوت‘ کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ پاکستانی سیاست میں ایسے خانوادوں کی کمی نہیں ہے جو صرف اونچا اڑانے والی ہوا کے رخ پر پرواز کے عادی ہیں ۔ اس ہوا کا پیمانہ جی ایچ کیو سے موصول ہونے والے اشارے ہوتے ہیں۔ ان مواقع سے قطع نظر جب فوجی سربراہان نے آئین منسوخ یا معطل کیا اور ملک پر براہ راست حکومت کی، کسی فوجی سربراہ نے کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔ یہ کام مختلف اشاروں سے ہی لیا جاتا ہے۔ کسی بحران میں پھنسے ہوئے وزیر اعظم سے فوجی قائدین کی ملاقات ایسا ہی طاقت ور اشارہ ہے۔ اس ملاقات میں اگر عمران خان نے سیاسی مشکلات پر براہ راست گفتگو نہ بھی کی ہو تو بھی کبھی اس تاثر کو پاکستانی سیاسی حافظے سے محو نہیں کیا جاسکے گا کہ ایسے وقت میں جب فوج اعلان کررہی تھی کہ اسے ’سیاست میں نہ گھسیٹا ‘جائے، ملک کے وزیر اعظم فوج سے مدد مانگ رہے تھے۔
اعتماد کے لئے بلائے گئے اجلاس کے بارے میں جاری کئے گئے صدارتی نوٹی فیکیشن پر اپوزیشن لیڈروں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ یہ اعلامیہ دراصل صدر مملکت کا یہ اعلان ہے کہ عمران خان قومی اسمبلی کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ اس موضوع پر متعدد آئینی ماہرین کی مو شگافیاں ایک علیحدہ موضوع ہے۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس ہؤا اور اسپیکر اسد قیصر کے صدر کے نام لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا کہ عمران خان پر 178 اراکین اسمبلی نے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ وہ بدستور ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ البتہ اب بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اس بنیاد کو ہی چیلنج کیا ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ یا تو اتنی تعداد میں اراکین ایوان میں موجود ہی نہیں تھے یا انہیں ہراساں کرکے عمران خان کو ووٹ دینے کے لئے لایا گیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے الزام لگایا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اراکین کی اکثریت حاضر نہیں تھی۔ پھر عمران خان کو 178 لوگوں نے کیسے اعتماد کا ووٹ دے دیا؟ انہوں نے اس صورت حال کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان میں کسی وزیر اعظم کو ملنے والے اعتماد کے ووٹ میں ’دھاندلی‘ کے ایسے الزام کی مثال موجود نہیں ہے حالانکہ ہر چھوٹے بڑے انتخاب کے بعد ہارنے والی جماعت کی طرف سے بدعنوانی اور دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اعتماد کاووٹ باقاعدہ ایک گیلری میں جمع ہوکر دیا جاتا ہے جہاں متعلقہ طریقہ کے مطابق اراکین کی گنتی ہوتی ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد میں پارٹی لیڈروں کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے الزام لگایا ہے کہ اراکین اسمبلی کو ایجنسیوں کی مدد سے ذبردستی ایوان میں لایا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی سے تحریک انصاف کے کم از کم دو ارکان قومی اسمبلی نے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ انہیں ووٹ سے پہلے اٹھا لیا گیا تھا اور چار گھنٹے تک ایک کنٹینر میں بند رکھا گیا اور ذبردستی ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا۔ مریم نواز نے ان ارکان کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن یہ الزام بجائے خود نہایت سنگین اور افسوسناک ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے الزامات کی تردید میں دستاویزی شواہد جاری کرنے چاہئیں۔
مریم نواز نے ہفتہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کے ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جھڑپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ اگر آپ دو تھپڑ ماریں گے تو ہم دس سے جواب دیں گے۔ مسلم لیگی لیڈروں کے خلاف جس غنڈہ گردی کا مظاہرہ ہؤا ہے، وہ مسلم لیگ (ن) کے سب کارکنوں پر قرض ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسے کیسے چکانا ہے‘۔ کسی قومی لیڈر کی طرف سیاسی بنیاد پر تشدد کی براہ راست دھمکی ایک افسوسناک سانحہ ہے ۔ اس قسم کی گفتگو، دھمکیوں اور طرز عمل کو نہ تو قبول کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ سیاسی اختلاف کا اظہار نقطہ نظر سامنے لاکر اور انتخاب میں حصہ لے کر ہی ہونا چاہئے۔
سیاست میں تشدد اور اس کے پرچار کی شدید مذمت بے حد ضروری ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے سیاسی لیڈروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داری پورا کرنا ہوگی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker