تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پاکستان نے افغان سفیر کی ’جھوٹی‘ بیٹی کا راز فاش کردیا!

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں اس کے شہریوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور ان کی پوری حفاظت ہوگی۔ اسی دوران اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغو کے معاملہ پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی ہے۔
اس میڈیا شو میں سوائے اس کے کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ آئی جی پولیس نے بالواسطہ طور سے افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کے اغوا اور تشدد کے مؤقف کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ 300 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی پڑتال اور ایک سو افراد سے پوچھ گچھ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سلسلہ اپنے روٹ کے بارے میں جو معلومات فراہم کرتی ہے ، وہ درست نہیں ہیں۔ اگر افغانستان نے ایسے پاکستانی سی سی ٹی کیمروں کی صلاحیت کو چیلنج کردیا جو اس سے پہلے کسی صحافی پر حملہ آوروں کا سراغ نہیں لگاسکے لیکن اس معاملہ میں ساری تفصیلات اگل رہے ہیں تو شاہ محمود قریشی افغان ہم منصب کو کیا جواب دیں گے۔
تاہم وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اس بارے میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھے گی۔ گویا ابھی کچھ اور بھی ہے جس کا راز کھلنا باقی ہے۔ حالانکہ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے پاکستان کے خلاف بھارتی ’ہائیبرڈ وار فئیر‘ کی تفصیلات بتا کر اپنے تئیں سارے راز کھول دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی عناصر سوشل میڈیا پر افغان سفیر کی بیٹی کی غلط تصاویر اور بے بنیاد معلومات عام کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی حوالے سے انہوں نے یورپئین یونین کے بھارتی ’ڈس انفو لیب‘ اسکینڈل کا حوالہ بھی دیا جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارتی نیوز نیٹ ورک کس طرح پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔
اس طویل پریس کانفرنس کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا حکومت پاکستان افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کے الزامات کو جھوٹ کہتی ہے اور اس معاملہ کا سارا بوجھ ایک نوجوان لڑکی کی غلط بیانی پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ پریس کانفرنس میں اسلام آباد پولیس کا سربراہ ، سلسلہ علی خیل کے بیان کے بارے میں شبہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا تھا اور ملک کے وزیر داخلہ ایک روز پہلے اسے ایک سانحہ کی بجائے ’بین الاقوامی سازش‘ قرار دے کر بھارتی ایجنسی ’را ‘ کا کارنامہ قرار دے چکے ہیں۔ پریس کانفرنس میں معید یوسف نے مدلل طریقے سے پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا پس منظر بتانے کے علاوہ یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ سوشل میڈیا پر اس واقعہ کو بنیاد بنا کر جھوٹ پھیلانے اور پاکستان کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عام سامع کے لئے ان دو افراد کی گفتگو کا تال میل سمجھنا آسان نہیں ہے۔
یہ معاملہ قابل فہم ہے کہ بھارت عالمی اداروں میں بھی پاکستان کے خلاف سرگرم رہتا ہے اور سوشل میڈیا کو بھی پاکستان کی شہرت خراب کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایسی معلومات نہیں ہیں جن کے لئے معید یوسف کو چارٹوں اور ماضی کی تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے ایک ایسی پریس کانفرنس میں گفتگو کے لئے بلایا جاتا جو بنیادی طور پر ایک سفیر کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کے افسوسناک واقعہ کی تفصیلات بتانے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ بظاہراس موقع پر معید یوسف کی بات چیت کا مقصد اس تاثر کو تقویت دینا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی بھی پاکستان دشمنوں کا آلہ کار بنی ہوئی تھی اور اس نے خود اپنے اغوا اور تشدد کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ یعنی پاکستانی حکام ایک ٹھوس جرم کی بنیاد سے انکار کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر خارجہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں افغان سفیر اور ان کے عملے کی حفاظت کی جائے گی۔ پاکستان اس حوالے سے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گا۔
اس پریس کانفرنس کی وجہ تسمیہ جاننے سے پہلے اس خبر کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ ’ پاکستان اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دونوں قوموں کے درمیان نفرت میں اضافہ کی ایسی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہو‘۔ گویا اس مخصوص واقعہ میں کابل حکومت اور طالبان کا مؤقف یکساں ہے ۔ یعنی افغان سفیر کی بیٹی کے خلاف ایک سنگین جرم سرزد ہؤا جس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمی اور نفرت میں اضافہ ہوگا۔ اس صورت حال میں جب حکومت پاکستان کی نمائیندگی کرنے والی اعلیٰ قیادت ایک پریس کانفرنس میں متاثرہ لڑکی کو ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے واقعہ کی نوعیت سے انکار کررہی ہو اور اس کے ساتھ ہی قومی سلامتی کے مشیر بھارتی پروپگنڈا کا تفصیل سے ذکر کریں تو منظر پر ایک ہی تصویر ابھرتی ہے کہ اس واقعہ کا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کی سازش اور پروپیگنڈا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیاجاسکے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے ٹوئٹ کی روشنی میں معید یوسف کے بیان کا جائزہ لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ بھارتی عناصر ایسا زہریلا اور مؤثر پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ طالبان بھی اس گمان میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ سلسلہ کو واقعی بعض جرائم پیشہ عناصر نے اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ ایسا واقعہ تو محض ’ہائیبرڈ وار فئیر ‘ کا شاخسانہ تھا۔
سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ اگر پاکستانی حکام کے بالواسطہ طور سے سامنے آنے والے اس بیان کو درست مان لیا جائے کہ سلسلہ علی خیل کا بیان اور الزام غلط ہے اور وہ 16 جولائی کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنی مصروفیات کی ساری تفصیلات نہیں بتا رہی جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں نے اس کا ’جھوٹ ‘ پکڑ لیا ہے۔ کسی دوسرے ملک کے سفیر کی بیٹی کے معاملہ میں غلط بیانی کا انکشاف ہونے کے بعد کیا شفاف اور مناسب ترین سفارتی طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ ملکی قیادت پریس کانفرنس میں اس ’جھوٹ‘ کا راز فاش کرے اور افغانستان کی حکومت پر واضح کرے کہ یہ ہتھکنڈے دراصل ’را‘ کی منصوبہ بندی ہیں ۔ اس لئے افغان حکومت کو متنبہ رہنا چاہئے اور پاکستان کی باتوں کو درست مان لینا چاہئے۔ پولیس کو باقاعدہ شکایت کی صورت میں لگائے گئے الزام پر جب ایک پبلک پلیٹ فارم سے بیان بازی کی جائے گی تو کیا اس کے جواب میں کابل کی طرف سے پھولوں کا تحفہ بھیجا جائے گا؟ کیا یہی سب سے مناسب سفارتی طریقہ ہے جس سے ایک ایسے ملک کی حکومت سے نمٹا جاسکتا ہے جہاں جنگ کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں اور جس سرزمین پر برپا ہونے والے فساد سے پاکستان کے مفادات متاثر ہونے کا شدید اندیشہ ہے؟
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر کسی وجہ سے سفیر کی نوجوان بیٹی غلط بیانی سے کام لے رہی تھی تو اس معاملہ کو درون خانہ بات چیت میں واضح کیا جاتا تاکہ کسی کی عزت و آبرو پر حرف نہ آتا۔ نہ افغان سفیر اسے اپنی ہتک سمجھتا، نہ کابل حکومت پریشانی کا اظہار کرتی اور پاکستان کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوجاتا۔ لیکن جس خبر کو میڈیا سے بچانے کی ضرورت تھی اسے تو عام کرکے افغانستان کو نیچا دکھانے اور افغان حکومت کو بھارتی ایجنڈے کا آلہ کار ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن جس معاملہ کی تفصیلات عام کرکے چین کے ساتھ غلط فہمی دور کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی سرد مہری کو ختم کرنے کی ضرورت تھی، اس کے بارے میں خفیہ طور سے بات چیت ہی کو کافی سمجھا جارہا ہے۔ پانچ روز گزرنے کے بعد بھی پاکستانی عوام کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ 14 جولائی کو داسو ڈیم منصوبہ پر چینی انجینئرز کو ٹرانسپورٹ کرنے والی بس کسی تخریب کاری کا نشانہ بنی تھی یا جیسا کہ وزارت خارجہ اور شاہ محمود قریشی نے اب تک بیان کیا ہے، یہ محض ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ تھا؟
کوہستان بس سانحہ اگر صرف ایکسیڈنٹ تھا اور چین کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی تو پہلے عمران خان نے چینی وزیر اعظم کو اور اب آرمی چیف نے چینی سفیر کو یہ یقین دلانے کی ضرورت کیوں محسوس کی ہے کہ پاکستان میں چینیوں کی حفاظت کی جائے گی اور کسی ناخوشگوار سانحہ کو دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کوہستان بس سانحہ اور افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا و تشدد کے معاملہ سے جس طرح نمٹا گیا ہے ، اس سے حکومت کی عاقبت نااندیشی واضح ہوتی ہے۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا الزام دینے سے پہلے معید یوسف اگر ان دونوں واقعات میں حکومتی عہدیداروں کے بیانات اور دلائل کا جائزہ لینے کا حوصلہ کرسکیں تو انہیں احساس ہوگا کہ ملکی مفاد کے ایسے ترجمانوں کی موجودگی میں پاکستان کو دشمنوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اس معاملہ میں خود کفیل ہے۔
آج کی پریس کانفرنس میں معید یوسف نے سوشل میڈیا پر بھارتی ’ہائیبرڈ وار فئیر‘ کی تفصیلات بتائی ہیں لیکن قومی سلامتی کے مشیر اپنی ہی حکومت کو یہ بتانے اور سمجھانے میں ناکام ہیں کہ دشمن کے پروپیگنڈا کو ناکام بنانے کے لئے قومی میڈیا کو آزادی اور خود مختاری دینا اہم ہوتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ برسر اقتدار طبقہ ’قومی مفاد‘ یا حب الوطنی پر اجارہ داری کا دعویدار نہ ہو بلکہ کسی بھی بحران میں تمام سیاسی مخالفین اور سماج پر اثر انداز ہونے والے عناصر کو ساتھ لے کر چلے۔ جو حکومت حب الوطنی کو اپنی جاگیر سمجھنے کی غلطی کرے گی وہ دراصل ملکی مفاد کو داؤ پر لگانے کا سبب بنتی ہے۔ میڈیا سنسر شپ آمریت کا ہتھکنڈا ہوتا لیکن موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت قومی معاملات میں اپوزیشن کو ’چور اچکے‘ قرار دے کر مسترد کرتی ہے اور میڈیا کومعاون بنانے کی بجائے، پابند فرمان کرنے کے اقدام کئے گئے ہیں۔
کوہستان سانحہ اور سلسلہ علی خیل اغوا کیس میں سرکاری حکمت عملی سے واضح ہورہا ہے کہ اس وقت ملک پر ایک ایسا ٹولہ حکمران ہے جسے امور مملکت، سفارتی حساسیت اور درپیش مشکلات سے دامن بچانے کی نہ تو ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس کا اہل ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker