تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : وزیر اعظم کسی مسئلہ کا حل پیش نہیں کرسکے

اقتدار سنبھالنے کے ڈیڑھ ماہ بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بالآخر اپنی حکومت کے قیام اور ملکی سیاسی و معاشی صورت حال پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے ٹیلی ویژن پر خطاب کیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس تقریر میں البتہ سابقہ حکومت پر الزام تراشی کے علاوہ غریب خاندانوں کو 28 ارب روپے کا امدادی پیکیج دینے کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس وقت قوم کو ملکی قیادت کی طرف سے سیاسی لائحہ عمل اور معاشی حکمت عملی کے بارے میں دوٹوک اور واضح پیغام کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے طویل انتظار کے بعد قوم سے اس خطاب میں وزیر اعظم ایسی کوئی رہنمائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی گفتگو کا بیشتر حصہ انہی الزامات پر مشتمل تھا جنہیں سن سن کر لوگوں کے کان پک چکے ہیں۔ اس وقت قوم کے سامنے دو ہی بیانیے ہیں۔ ایک بیانیہ عمران خان کا ہے کہ ملک کو غلام بنا کر سازش کے تحت ’چوروں لٹیروں‘ کو حکومت دے دی گئی ہے اور دوسرا بیانیہ شہباز شریف حکومت کا ہے جنہوں نے آج قوم سے خطاب میں اس کی تکرار بھی کی ہے کہ سابقہ حکومت ملکی معیشت اور دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات تباہ کرگئی تھی، موجودہ حکومت اب ان دونوں شعبوں میں ان تھک کام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ تاہم وزیر اعظم یہ بتانے میں ناکام رہے کہ وہ یہ مقصد کیسے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بظاہر قوم سے اس خطاب کا ا یک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے اور 6 ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی تکمیل کے لئے بالآخر حکومت نے پیٹرولیم کی قیمت میں یک دم تیس روپے لیٹر اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس حکومتی فیصلہ کا اعلان کیا ۔ کوئی حکومتی شخصیت یہ حقیقت چھپانے کی کوشش نہیں کرتی کہ اگر آئی ایم ایف کا پیکیج نہیں ملتا تو مالیاتی فنڈ کی طرف سے فوری طور سے ایک ارب ڈالر کی رقم وصول نہیں ہوگی اور نہ ہی دیگر دوست ممالک اور امداد فراہم کرنے والے عالمی اداروں سے مالی وسائل فراہم ہونے کی امید پیدا ہوگی۔ ایسی امداد کے بغیر پاکستان تھوڑی ہی مدت میں ڈیفالٹر ہونے کی حد تک پہنچ سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسی صورت حال جس کا اس وقت سری لنکا کو سامنا ہے۔ نہ حکومت کے پاس قرض خواہوں کی ادائیگیوں کے لئے زر مبادلہ ہے اور نہ ہی ضروری اشیا مثلاً پیٹرولیم یا دیگر اہم اشیا خریدنے کے لئے وسائل فراہم ہیں۔ متعدد معاشی ماہرین پاکستان کے لئے اس صورت حال کو حقیقت سے قریب تر قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اکا دکا ایسی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ، اس لئے امریکہ یا دیگر ممالک پاکستان جیسے اہم ملک کو دیوالیہ نہیں ہونے دے سکتے۔ یہ تجزیہ کسی حقیقی معاشی صورت حال پر استوار نہیں ہے بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک اور عالمی سفارت کاری میں اہمیت کی ایک خود ساختہ تصویر کے پیش نظر تیار کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے دعوؤں کو زیادہ سے زیادہ خوش فہمی یا اپنے ملک کی ’غیر معمولی اہمیت‘ کے بارے میں شدید غلط فہمی کا نتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ ایسی قیاس آرائیوں سے حقائق کی بنیاد پر مسائل حل کرنے کا کوئی راستہ تلاش نہیں ہوسکتا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب کا بنیادی مقصد دراصل غریب خاندانوں کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان تھا۔ حالانکہ یہ اعلان گزشتہ روز وزیر خزانہ اس وقت بھی کرسکتے تھے جب انہوں نے مجبوری کے عالم میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں بیک وقت تیس روپے لیٹر اضافہ کا اعلان کیا تھا تاہم انہوں نے اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کی دل گرفتگی کا المناک قصہ سنانا کافی سمجھا تاکہ شہباز شریف قوم سے خطاب میں امدادی پیکیج کا اعلان کرکے ، اس کا سیاسی کریڈٹ لینے کی کوشش کریں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی کی عمومی صورت حال سے پیدا ہونے والی عوامی ناراضی کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔ اسی لئے اب شہباز شریف نے ملک کے ایک کروڑ چالیس لاکھ خاندانوں کے لئے دو ہزار روپے ماہانہ امداد فراہم کرنے کا اعلان کرنے کے علاوہ آٹے کی قیمت چار روپے کلو مقرر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے کہا گیا ہے کہ دس کلو آٹے کا تھیلا چار سو روپے میں فروخت کیا جائے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس اعلان سے حکومت کس حد تک اپنی سیاسی مقبولیت اور شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرسکے گی۔
اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ملک چلانے کے لئے وسائل کی شدید ضرورت ہے اور یہ وسائل آئی ایم ایف کے راستے ہی سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی دہائیوں پرانی طے شدہ مالی حکمت عملی کے مطابق ہر اس ملک کی معیشت درست کرنے کا نسخہ بتاتا ہے، جو اس سے مالی پیکیج لے کر معیشت کو رواں رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہ نسخہ بظاہر سادہ اور عام فہم ہے کہ حکومت غیر ضروری اخراجات کم کرے۔ ان غیر ضروری اخراجات میں سر فہرست غریب عوام کو مختلف مدات میں دی جانے والی رعایت یا سبسڈی ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف کے خیال میں اس طرح حکومت پر غیر ضروری اخراجات کا بار کم کرکے کسی بھی ملک کو معاشی بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ یہ حکمت عملی کارگر ہونے کے باوجود اس لحاظ سے ناکام ہے کہ اس سے کسی بھی معاشرہ میں امیر اور غریب کا فرق نمایاں ہوجاتا ہے جس سے کسی بھی معاشرے میں معاشی تحرک میں کمی آتی ہے۔ پیداوری صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وسیع البنیاد معاشی اصلاح یا تعمیر کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
پاکستان جیسے ممالک جہاں کسی نہ کسی صورت میں جمہوری طریقہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ طریقہ مزید خطرناک اور پرپیچ ہوجاتا ہے ۔ حکومت مراعات ختم کرکے عوام کی ناراضی مول لینے کا باعث بنتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سے عام لوگوں کے لئے دو وقت چولہا جلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں موجودہ اضافہ کے بعد صنعتی و زرعی پیداواری لاگت میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس اضافہ سے تمام مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی۔ افراط زر پاکستان جیسے غریب ملک میں عوامی رائے کا سیاسی وزن ایک سے دوسرے پلڑے میں لے جانے کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ اتحادی حکومت اس وقت اسی سنگین صورت حال کا مقابلہ کررہی ہے۔ خاص طور سے اتحادی حکومت میں شامل مسلم لیگ (ن) کو اس مالی بوجھ کا شدید سیاسی نقصان ہوسکتا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے قومی ذمہ داری اور ملکی مفاد جیسے بھاری بھر کم الفاظ استعمال کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے اور حکومت سنبھالنے کا مشکل فیصلہ کرنے کی باتیں کی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے لئے ایک طرف معیشت کی اصلاح اور دوسری طرف سیاسی مقبولیت کو برقرار رکھنا تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔
پاکستانی معیشت کی طویل المدت اصلاح کے لئے ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے اور اس مقصد کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی انتظامی اور سیاسی صورت حال پر مکمل اعتماد بحال ہونا بے حد اہم ہے۔ فی الوقت سرکاری حکمت عملی میں یہ دونوں عوامل ناپید ہیں۔ وزیر اعظم یہ بھی واضح نہیں کرسکے کہ عمران خان کے ناکام احتجاج کے بعد کیا حکومت آئیندہ برس تک کام کرے گی اور انتخابات کو مزید سال ڈیڑھ سال کے لئے مؤخر کیا جاسکے گا۔ یہ اعلان نہ ہونے سے بے یقینی اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہورہاہے۔ اب یہ واضح ہے کہ فوج کے علاوہ ملکی عدلیہ میں بھی سیاسی پارٹیوں کے حوالے سے رائے تقسیم ہے جو ان کے طرز عمل یا فیصلوں پر اثر انداز بھی ہورہی ہے۔ فوج کی غیرجانبداری ملک میں طاقت کے توازن میں مسلسل سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور متعدد سیاسی معاملات میں سپریم کورٹ کے ججوں کے ریمارکس اور فیصلے موجودہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے ، اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکالنے کا سبب بن رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے دھرنا منسوخ ہونے کے بعد یہ خبریں گردش میں ہیں کہ درپردہ اس بات کی یقین دہانی حاصل کرلی گئی ہے کہ موجودہ حکومت بجٹ پیش کرنے کے بعد عام انتخابات کا اعلان کردے گی۔ یعنی حکومت پر اس دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے کہ وہ مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرے اور اس کے بعد عوام کے سامنے عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں اترے جو امریکی سازش، حقیقی آزادی، قومی خود داری اور جذبہ اسلامی کی سربلندی کے نعرے لگاتے ہوئے عوام کے دل و دماغ کو جذباتی طور سے ماؤف کرچکے ہیں۔
وزیر اعظم اگر ان افواہ نما خبروں کی تردید کردیتے اور بتاتے کہ موجودہ حکومت اصلاح احوال کا مشن پورا کرکے ہی نئے انتخابات کروائے گی تو شاید مالی مارکیٹ میں کچھ امید پیدا ہوتی۔ تاہم گزشتہ روز قومی اسمبلی میں یہ کہہ کر کہ نئے انتخابات کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی اور عجلت میں انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین کے مسودے منظور کرواکے درحقیقت ان افواہوں کی تائد کی گئی ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں نے عمران خان کو محض ایک سال پہلے اقتدار سے محروم کرکے خود اس بھیانک سیاسی دلدل میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اب دکھائی دیتا ہے کہ انہیں اس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ مشکل یہ ہے کہ یہ معاملہ محض مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مستقبل تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بے یقینی کی یہ فضا عالمی مالیاتی منڈیوں پاکستان کی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔
فوری قرضوں سے عبوری مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے یا بجٹ تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے لیکن پاکستانی معیشت کو لاحق مشکل سے نجات پانے کے لئے جس سیاسی و سماجی استحکام کی ضرورت ہے، اس کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker