ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔
جمعہ, مئی 29, 2026
تازہ خبریں:
- مْک مْکا یا جنگ کا اگلا راؤنڈ؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی : نصرت جاوید کا کالم
- ایران امریکہ جنگ بندی: خوش ہونا منع ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- امریکا اور ایران معاہدے کے بہت قریب ہیں لیکن ابھی معاہدہ ہوا نہیں : امریکی نائب صدر
- عالمی لیڈر اور اُن کا لباس ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- مریض عشق پر رحمت خدا کی :وجاہت مسعود کا کالم
- نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے : بشیر بدر رخصت ہوگئے
- تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ
- پاکستانی اخبارات بمقابلہ بی بی سی : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- جنگ بندی میں پاکستان کی خدمات اور امریکا کی گیدڑ بھبکیاں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منیٰ میں 20 لاکھ مسلمانوں نے حج کی سعادت حاصل کی
