ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔
جمعرات, جولائی 16, 2026
تازہ خبریں:
- مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے – یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- ضمیر کو بہلانے کے لیے ماتھا رگڑنے والوں کی کہانی : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( دوسرا حصہ )
- مزارِ قائد تین سال سے عوام کے لیے بند : لینڈ مافیا کی نظریں : مظہر عباس کا کالم
- آبنائے ہرمز اور محصول کی وصولی کا سوال ، ٹرمپ کا متضاد طرز عمل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک
- فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ )
- بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کا قتل : لاشیں خان پور ، سیالکوٹ ، نارووال پہنچ گئیں
- ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
- آبنائے ہرمز کا اجارہ دار کون ۔۔ امریکا یا ایران ۔۔ فیصلہ کن جنگ کا انتظار : نصرت جاوید کا کالم
