نَجم الاَصغر شاہیا کی نظم : زندگی سے ڈرتے ہو ؟ تم خُود اعتمادی سے کس قدَر ہو بے گانہ کیا تمہیں لڑکپن میں پیار مِل…
Browsing: نجم الا صغر شاہیا
نجم الاصغر شاہیا کی غزل : تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں میں نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں…
کیسے چپ چاپ بیٹھی ہے وہ فاختہ صبح سے یوکلپٹس کے سوکھے ہوئے پیڑ کی ادھ کھلی شاخ ِبے برگ پر ایک اجڑے ہوئے گھر کے…
شاہیا کو ادب کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کسی صورت گوارا نہ تھا۔ عروض کی غلطی ناقابل معافی جرم تھا اور مصلحت پسندی…
ساڑھے تین مہینوں سے زیادہ وقت گزر گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بیکار مباش کچھ کیا کر کے مصداق لائبریری کی صفائی‘ سٹور…
