تہران :گزشتہ شب آئل ڈپو پر حملے کے بعد شہر کالے دھوئیں سے ڈھک گیا،بارش کے پانی میں بھی تیل کے ذرات شامل
تہران گزشتہ شب آئل ڈپو پر حملے کے بعد شہر کالے دھوئیں سے ڈھک گیا،بارش کے پانی میں بھی تیل کے ذرات شامل ہو گئے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تیل کے ڈپووں پر اسرائیلی حملے کے باعث ’فضا میں خطرناک مواد اور زہریلے مادے پھیل رہے ہیں،‘ جو ’بڑے پیمانے پر جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
گذشتہ رات اسرائیل نے ایران میں کئی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
نشانہ بنائے جانے والے تیل کے ڈپووں میں سے ایک دارالحکومت تہران کے شمال مغرب میں واقع شاہران آئل ڈپو تھا۔
گذشتہ رات اسرائیل نے تہران میں کئی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد ایران میں لوگ بی بی سی فارسی کے نمائندے غنچے حبیبیزاد کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔
تہران صوبے کے مغرب میں واقع کاراج سے 30 سال کے ایک شخص نے بتایا: ’یہ ایک سرخ روشنی سے شروع ہوا جس نے ہر چیز کو روشن کر دیا۔ اس کے بعد ایک دھماکے کی لہر آئی جس نے دروازے ہلا کر رکھ دیے۔ پھر آسمان دوبارہ روشن ہوا اور ایک بہت بڑا سرخ رنگ کا بادل نمودار ہوا۔‘
ایک 20 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ پورا شہر دھوئیں میں چھپ گیا تھا۔ ’آپ جلنے کی بو محسوس کر سکتے ہیں۔‘
وہ کہتی کہ سورج اب بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ’ایک خوفناک دھواں ہے۔ یہ اب بھی موجود ہے۔ میں بہت تھک چکی ہوں۔‘
20 سال کی ایک اور خاتون بتاتی ہیں کہ انھوں بس ایک لمحے کے لیے کھڑکی کھولی ’اور ایسا لگا جیسے پیٹرول پمپ [جلنے] کی بو آ رہی ہو۔‘
ایک اور 20 سالہ شخص بتاتے ہیں کہ کاراج کے تیل کے ڈپو پر حملے کے بعد ’زوردار دھماکہ ہوا اور کئی گھنٹوں تک آگ جلتی رہی ۔
ادھر امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’اپنے گھر میں ہی رہیں‘۔
سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت گنجان آبادی والے شہری علاقوں سے فوجی کارروائیاں کر رہی ہے۔
سینٹ کام نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ایران نے ’دزفول، اصفہان اور شیراز جیسے شہروں میں شہریوں سے گھرے ہوئے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کو ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا یہ رویہ عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے ’کیونکہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مقامات اپنی محفوظ حیثیت کھو دیتے ہیں‘ اور یہ جائز اہداف سمجھے جا سکتے ہیں۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈم بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ایران کی دہشت گرد حکومت‘ شہریوں کی جانوں کی پرواہ کیے بغیر خلیجی ممالک پر حملہ کر رہی ہے اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کی حفاظت پر سمجھوتہ کر رہی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

