تہران: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کردیا گیا ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور ایرانی عوام سے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
ادھر ایران نے نئے رہبر اعلیٰ کی قیادت میں اسرائیل پر پہلا میزائل حملہ کیا ۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ملک نے اپنے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں پہلی بار سرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔
ٹیلیگرام پر پیغام میں آئی آر آئی بی نے میزائل کی تصویر بھی پوسٹ کی جس پر یہ نعرہ درج تھا: ’لبیک سید مجتبی‘۔
ٹیلیگرام پر پیغام میں آئی آر آئی بی نے میزائل کی تصویر بھی پوسٹ کی جس پر یہ نعرہ درج تھا: ’لبیک سید مجتبی‘۔
ماضی میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ایران میں ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایران کے اندر ہر شخص، چاہے وہ نظام کا حصہ ہو یا نہ ہو، اور چاہے وہ نظام کی حمایت کرتا ہو یا نہیں، اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔
اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر اعلیٰ بنایا گیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اُن کا عہدہ ان کے والد جتنا طاقتور نہیں ہو گا جنھوں نے چالیس برس تک بھرپور اثر و رسوخ کے ساتھ قیادت سنبھالی تھی۔
شاید اب اُن کا کام نظام کے مختلف دھڑوں کے درمیان کسی حد تک ثالثی کا ہوگا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تمام صورتحال اس جنگ میں ایک اور تہہ کا اضافہ کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس نے صرف ایک ہفتے میں بے یقینی، تبدیلی اور مشکلات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
انھیں منتخب کرنے والے 88 رکنی علما کے ادارے کے لیے یہ دراصل بقا کی لڑائی ہے۔
وہ اپنے والد تک رسائی دلانے کے لیے جانے جاتے تھے اس لیے وہ لازماً نظام کے اندر ہونے والے بہت سے معاملات سے بخوبی واقف ہوں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای بنیادی طور پر دفتر میں موجود شخصیت تھے۔ چاہے وہ پہلے اُس کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے مگر اب وہی میز کے پیچھے موجود ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

