تہران : خلیج کی جنگیں ماحولیات پر انتہائی مضر اثرات مرتب کر رہی ہیں 1990 میں ہونے والی Gulf War کو ماحولیاتی تباہی کے لحاظ سے جدید تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ جنگ کے اختتام پر Saddam Hussein کی فوج نے Kuwait کے تقریباً 605 تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دی۔ ان آگوں سے روزانہ اندازاً 50 سے 60 لاکھ بیرل تیل جل رہا تھا اور ماہرین کے مطابق تقریباً ایک ارب بیرل کے قریب تیل ضائع ہوا۔ اس کے نتیجے میں فضا میں 10 کروڑ ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں شامل ہوئیں۔ دھوئیں کے بادل تقریباً 1000 کلومیٹر تک پھیل گئے جس سے خلیجی خطے میں سورج کی روشنی کم ہو گئی اور درجہ حرارت میں بھی عارضی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اسی دوران تقریباً 8 سے 10 ملین بیرل خام تیل سمندر میں بہہ گیا جس نے Persian Gulf کو تاریخ کے بڑے آئل اسپِل حادثات میں شامل کر دیا اور ہزاروں آبی جانور ہلاک ہوئے۔
ریفائنری کی آگ
اسی طرح Tehran کی بڑی آئل ریفائنریوں میں لگنے والی آگ اور صنعتی حادثات بھی ماحول پر نمایاں اثرات چھوڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر تہران ریفائنری میں ایک بڑے حادثے کے دوران روزانہ ہزاروں ٹن دھواں اور سلفر ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ایسے حادثات کے وقت فضائی آلودگی کی شرح معمول سے 3 سے 5 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ تہران جیسے بڑے صنعتی شہر میں پہلے ہی PM2.5 آلودگی کی سطح عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ ہوتی ہے، اور ریفائنری کی آگ اس مسئلے کو مزید شدید بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ تیل اور کیمیائی مادوں کے رساؤ سے مٹی اور زیرِ زمین پانی متاثر ہوتا ہے جس سے زرعی زمین اور انسانی صحت دونوں کو طویل مدتی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جنگی سرگرمیاں اور توانائی کی صنعت کے حادثات نہ صرف سیاسی اور معاشی بحران پیدا کرتے ہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
خلیج کی جنگ اور عراق کی جنگوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ خصوصاً Gulf War اس وقت شروع ہوئی جب Saddam Hussein کی قیادت میں Iraq نے 2 اگست 1990 کو Kuwait پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے جنوری 1991 میں فوجی کارروائی شروع کی۔ جنگ کے اختتام پر عراقی افواج نے تقریباً 605 تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دی جس سے روزانہ 50 سے 60 لاکھ بیرل تیل جلتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس آگ سے 10 کروڑ ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں فضا میں شامل ہوئیں جبکہ تقریباً 8 سے 10 ملین بیرل خام تیل سمندر میں بہہ گیا جس نے Persian Gulf کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ دھوئیں کے بادل ہزار کلومیٹر تک پھیل گئے اور خلیجی خطے میں عارضی موسمیاتی تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں۔
بعد ازاں Iraq War اور خطے میں جاری کشیدگی نے صنعتی تنصیبات اور تیل کے مراکز کو مسلسل خطرے میں رکھا۔ حالیہ برسوں میں ایران اور خطے میں تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں Tehran کی ریفائنریوں اور دیگر آئل ڈپوؤں میں لگنے والی آگ نے فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ کیا۔ ایسے واقعات کے دوران سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ جیسی گیسوں کی مقدار معمول سے 3 سے 5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح خطے میں حالیہ فوجی حملوں اور ڈرون کارروائیوں سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے واقعات نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ جنگی سرگرمیاں صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔
خلیج کی جنگ کے ماحولیاتی اثرات
1991 میں جب Saddam Hussein کی افواج نے Kuwait سے پسپائی اختیار کی تو انہوں نے سیکڑوں تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دی۔ اس کے نتیجے میں:
فضا میں لاکھوں ٹن دھواں اور کاربن خارج ہوا جس سے فضائی آلودگی شدید بڑھ گئی۔
تیل کے دھوئیں نے بادلوں جیسی تہہ بنا دی جس سے سورج کی روشنی کم ہوئی اور بعض علاقوں میں مقامی موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔
بڑی مقدار میں خام تیل سمندر میں بہہ گیا جس سے Persian Gulf میں سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچا۔
مٹی میں تیل جذب ہونے سے زرعی زمینیں متاثر ہوئیں اور صحرا میں “oil lakes” بن گئے۔
تہران کی ریفائنریوں میں آگ کے اثرات
Tehran کی آئل ریفائنریوں میں مختلف ادوار میں لگنے والی آگ، خصوصاً ایران کے صنعتی علاقوں میں حادثات یا جنگی کشیدگی کے دوران، ماحول پر کئی طرح کے اثرات ڈالتی ہے:
ریفائنری کی آگ سے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
ان گیسوں سے اسموگ پیدا ہوتی ہے جو پہلے ہی آلودہ شہر تہران کی فضا کو مزید خراب کر دیتی ہے۔
انسانی صحت پر اثرات میں سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی جلن اور دل کی بیماریوں کا خطرہ شامل ہے۔
زمین اور زیرِ زمین پانی میں تیل کے اجزا شامل ہو کر آبی آلودگی پیدا کرتے ہیں۔
مجموعی ماحولیاتی نتیجہ
خلیج کی جنگ اور ریفائنری حادثات نے یہ واضح کیا کہ جنگ اور توانائی کی صنعت ماحول کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان واقعات کے بعد عالمی سطح پر ماہرینِ ماحولیات اور اداروں جیسے United Nations Environment Programme نے جنگی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات پر زیادہ تحقیق شروع کی۔
فیس بک کمینٹ

