تجزیےلکھاریوجاہت مسعود

فرانکو کا اسپین اور سچائی کا راستہ : وجاہت مسعود

ہم لوگ بھی کیا سادہ ہیں۔ تاریخ کے جس منطقے میں اور زمیں کے جس ٹکڑے پر جینے کا موقع ملتا ہے، ہماری دنیا، ہمارے تاثرات، تصورات اور اقدار کی تصویر اسی ہاتھ بھر کی کھڑکی سے بندھ جاتی ہے۔ خیال کی پرواز کو حاضر و موجود کی کشش سے مفر نہیں۔ ہماری تہذیب نے بھی کیا کیا اہل نظر پیدا کیے۔ میر تقی میر نے ”عالم کی بے فضائی“ کا شکوہ کیا اور غالب نے ستم زدگاں کے جہان کی تنگ دامانی کا گلہ کرتے ہوئے لکھا، ”جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے“۔ لو بھائی، اردو غزل کا بستہ برطرف کیونکہ کچھ زاہدان خشک مغز کو ناگوار گزرتا ہے۔
اگلے روز سوشل میڈیا پر ایک مختصر سی وڈیو، غالباً دو برس پرانی، دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک ٹین پاٹ بونا پارٹ صحافیوں سے خدائی کے لہجے میں بات کر رہے تھے، بات کیا کرنا تھی، بھبکیاں دے رہے تھے۔ سچ پوچھئے تو طیش نہیں آیا، زہر خند کی ایک لکیر البتہ نمودار ہوئی۔ ہمارے وطن کی تاریخ کچھ ایسی پرانی نہیں۔ کل ملا کے پون صدی گزری ہے۔ زندگی کا احسان رہا کہ اس رستاخیز کی کہانی نصف صدی سے کچھ اوپر تو براہ راست دیکھ لی۔ عقل کہتی ہے کہ کوئی زمانہ برا ہوتا ہے اور نہ انسان یزداں یا اہرمن کا پرتو۔ مگر یہ کہ اختیار اور طاقت کا واہمہ وقفہ گل کے خمار میں بدل جاتا ہے۔
راجہ الطاف حسین جنجوعہ نام تھا۔ الطاف گوہر کے نام سے بگولہ بدوش رہے۔ ذہن براق پایا تھا، قدرت اللہ شہاب کی رخصتی کے بعد ایوب خاں کا نفس ناطقہ بنے تو فرعون کا لہجہ سیکھ لیا۔ 1960 میں صحافت پر پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کا فرمانِ عتاب اترا تو اطلاعات کے سیکرٹری تھے۔ نئے قانون سے متعلق پریس کانفرنس میں سینئر صحافیوں پر یوں دھاڑے کہ بنیادی رکھ رکھاؤ کا پردہ تک اٹھا دیا۔ فیلڈ مارشل موضع ریحانہ سدھارے تو الطاف گوہر بھی نکال باہرکیے گئے۔ روز نامہ ڈان کے مدیر ہوئے تو گویا اپنے ہی بچھائے ہوئے دام میں خود چل کر آئے۔ پوچ الزامات میں قید ہوئے۔
بہت برس بعد ایک اخباری کالم میں لکھا، ”میں نے 1969ء میں انگریزی روزنامے ’ڈان‘ کی ادارت سنبھالی۔ پریس کا ’نگران‘ رہنے والا پریس کی آزادی کا شکار ہو گیا۔ اس دوران میں نے سبق سیکھا کہ سرکاری پروپیگنڈے کا آلہ کار پریس نہ تو عوام کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور نہ رائے عامہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے پریس کے ذریعے حکومتی کارناموں کا ڈھنڈورا پیٹا جا سکتا ہے۔ اختلافی رائے اور تنقید کا راستہ روکا جا سکتا ہے لیکن عوام کی رائے پر ذرہ برابر اثر انداز ہونے کی توقع رکھنا خام خیالی ہو گی۔۔۔ ارے صاحب، یہ کچھ ایسا منتہیٰ درس نہیں تھا جس کے لئے آپ کو ڈان کی ادارت کا انتظار کرنا پڑتا۔ اصل بات یہ تھی کہ آپ کارِ سرکار میں بیک وقت اپنی انا اور آمر کی ضرورت پوری کر رہے تھے۔
اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ شاہراہ خسروی پر مخصوص بینر آویزاں ہو گئے ہیں۔ حرف خوشامد سے آراستہ یہ بینر چھ برس میں تیسری بار نمودار ہوئے ہیں۔ ستمبر 2014 اور پھر اکتوبر 2016 میں بھی یہ مشق کی گئی تھی۔ تصاویر بدلتی رہیں، اقرارِ اطاعت کی مناجات میں تغیر نہیں۔ سیاستِ درباں اور روزگارِ فقیر کے ڈھنگ وہی پرانے ہیں۔ انجام کا قیاس آپ خود کر لیجیے۔
ایک سابق وزیر اعظم اور ایک سابق صدر نے ہماری عاقبت خراب کرنے پر کمر باندھی ہے۔ دونوں بڑے بڑوں کی شان میں گستاخی پہ گستاخی کیے جا رہے ہیں۔ اخبار نویس کی جان پر بنی ہے۔ خبر دینے سے قاصر ہے، تردید کی اشاعت کا پابند ہے۔ چلیے، اگر بلاول بھٹو لندن جا سکتے ہیں اور حسین نواز عازم واشنگٹن ہو سکتے ہیں تو غریب صحافی کو بدیسی تاریخ میں پناہ لینے سے کون روک سکتا ہے۔ ثروت حسین یاد آ گئے، مردہ بیل کی کھوپڑی میں چیونٹی نے گھر بنا لیا ہے۔
دو عالمی جنگوں میں دو عشروں کا فاصلہ تھا اور یہ 20 برس فسطائیت، آمریت اور جنگ جوئی کی مسلسل مشق تھے۔ اسپین پر بھی اندھیرا اترا۔ شاہ پسندی اور جمہوری امنگوں میں کشمکش تھی۔ عوام نے 1936 میں بائیں بازو کے پاپولر فرنٹ کو ووٹ دیا تو قوم پرستی کے نام پر خانہ جنگی شروع کر دی گئی۔ قدامت پسند قوم پرست جنرل فرانکو نے 1939 میں مطلق اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ فرانکو اپنی ذات میں آمریت کے اہداف اور پینتروں کا نصابی نمونہ تھا۔
1998 میں سویٹزرلینڈ کے ایک جنوبی قصبے میں درویش کو میزبان خاتون وہ مقام دکھانے لے گئیں جہاں سے اسپین کی جمہوریت بچانے کے لئے انٹرنیشنل رضاکاروں کا پہلا دستہ روانہ ہوا تھا۔ نیک دل خاتون کو خاموشی سے سنتا رہا۔ کیا کہتا کہ اقتدار کی جنگ میں اصول پسند سپاہی توپوں کا چارہ ہوتے ہیں۔ فرانکو بیک وقت سوویت آمر اسٹالن، فسطائی مسولینی، نازی ہٹلر اور اینگلو سیکسن جمہوریتوں کے ساتھ گٹھ جوڑکیے ہوئے تھا۔ بعد از جنگ کمیونسٹ دشمنی اور مذہب پسندی کا چولا اوڑھ لیا۔
1939 سے 1975 تک اسپین بدترین آمریت سے گزرا۔ لاکھوں مارے گئے، دو نسلوں کا امکان کھیت رہا۔ نومبر 75ء میں فرانکو کے مرتے ہی بادشاہ کارلوس نے نئے اسپین کا اعلان کر دیا۔ ادالفو سواریز نے نومبر 75ء سے جولائی 76ء کی مختصر مدت میں دو بنیادی اصول منوا لئے۔ اول: شہریوں کو اپنی پسند کی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی آزادی ہو گی۔ دوم: فرانکو کا نظام منہدم کر کے نیا جمہوری آئین مرتب ہو گا۔ ہزار دشواریوں کے باوجود جون 1977ء میں آزادانہ انتخابات کی منزل طے کر لی گئی۔ آج اسپین جمہوری قوموں کا حصہ ہے۔ سبق یہ کہ جاپان ہو یا جرمنی، اسپین ہو یا جنوبی افریقہ، ترقی کے راستے پر قدم اٹھانے سے پہلے ماضی کی غلطیوں کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ مفاہمت، یکجہتی اور استحکام کا دروازہ ماضی کی پردہ پوشی سے نہیں، ماضی پر کھلے مکالمے سے نکلتا ہے۔ راستہ نکالنے کے لئے خفیہ لین دین نہیں، شفاف بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہے اب بھی وقت زاہد، ترمیم زہد کر لے…
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker