کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعودکا کالم:گالی کلچر نہیں، جرم کی دھمکی ہے

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا ہے۔ بظاہر محترم روحیل اصغر پارلیمنٹ کے فلور پر اپنے رویے کا مسکت دفاع کرنے سے قاصر تھے چنانچہ رکھائی سے اپنا ذاتی فعل پنجاب کی ثقافت کے سر منڈھ دیا۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 80 کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں انڈر گریجویٹ طالب علم تھا اور انگریزی اختیاری کا مضمون لے رکھا تھا۔ منظور شدہ نصابی کتاب میںHerman Schnurer کا مضمونOn Vulgarity بھی شامل تھا۔ اس تحریر کے آخر میں ایک مشقی سوال تھا۔ Punjabi is a language known for full blooded vulgarity. Elaborate. اتفاق سے میں نے پنجابی ادب کا مضمون بھی لے رکھا تھا۔ پروفیسر منیر لاہوری بڑے جذب و شوق سے ہمیں پنجابی ادب پڑھاتے تھے۔ میں اس سوال پر آزردہ ہوا۔ ایک روز کتاب اٹھائی اور شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر عبد الحمید خیال صاحب کے پاس جا پہنچا۔ مذکورہ سوال دکھا کر عرض کی کہ سر، ایسا سوال لسانی تعصب کے ذیل میں آتا ہے۔ آخر فحاشی کی مثال دینے کے لئے پنجابی زبان ہی کو کیوں منتخب کیا گیا۔ پروفیسر خیال کیسے صاحب نظر اور وسیع القلب استاد تھے۔ ایک نیم دیہاتی طالب علم کے استفسار پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فرمایا کہ سہو نظر ہوا ہے۔ نصاب میں ایسا بیان شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔
آپ کو پاکستان کے بہترین بیٹوں میں سے ایک میجر جنرل (ر) خادم حسین راجہ مرحوم کی کتاب Stranger in my own country کے صفحہ 61 پر لے چلتے ہیں۔ دس اپریل 1971ءکا دن تھا۔ جنرل نیازی مشرقی پاکستان کی کمانڈ سنبھالنے ڈھاکہ پہنچ چکے تھے۔ جنرل خادم لکھتے ہیں کہ اس سہ پہر ابتدائی بریفنگ کے دوران جنرل نیازی اچانک گالیوں پر اتر آئے۔ جنرل خادم نے نیازی صاحب کے ارشادات اردو میں لکھے ہیں لیکن اس قومی ندامت کے اعادے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اہم بات یہ کہ اجلاس کے فوراً بعد ایک نوجوان بنگالی افسر میجر مشتاق نے غسل خانے میں جا کر اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی۔ جنرل نیازی نے بنگالیوں کو سیدھا کرنے کے جو نسخے تجویز کیے تھے، وہ میجر مشتاق کی برداشت سے باہر تھے۔ بنگالی زبان میں گالی موجود ہے لیکن ایسی تفصیلی دھمکی کی روایت نہیں جو بہت سے خطوں کے ذخیرہ دشنام میں پائی جاتی ہے۔ جنرل گل حسن کی یادداشتیں دیکھ لیجیے۔ ہر تیسرے صفحے پر اپنی گل افشانیوں کا فخریہ ذکر کرتے ہیں۔ درویش کا اپنا ننھیال سندھی ہے۔ 1983 کی تحریک بحالی جمہوریت اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیوں کے دوران پنجاب پولیس کی دراز دہنی کے سندھی اور اردو اسپیکنگ ہم وطنوں پر منفی اثرات کا ذاتی مشاہدہ کیا۔ پنجاب میں پھلور پولیس سکول کی روایت چلی آ رہی ہے۔ غیرملکی حکمران کے لئے پولیس نظام عدل کا جزو نہیں بلکہ رعایا پر حکمرانی کا آلہ تھی اور اس میں عام آدمی کی حتمی توہین ایک موثر ہتھیار تھی۔ یہی نفسیات حملہ آوروں کی روایتی گزرگاہ پنجاب کے طبقاتی تانے بانے میں نفوذ کر گئی۔ آزادی کے بعد یہ روایت ختم ہونا چاہیے تھی لیکن طرز حکمرانی میں اختلال اور وفاق کی اکائیوں میں اختیارات کے عدم توازن نے کھنڈت ڈال دی۔ آمریت سے غلیظ گالی کیا ہو سکتی ہے جو پوری قوم کے لئے فرد واحد کے دشنام مسلسل سے عبارت ہوتی ہے۔ اسمبلی میں گالی روحیل اصغر اور دوسرے ارکان نے نہیں دی، اس احساس نے دی ہے کہ ان کے گھرانے عشروں سے حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ سوال کرنا چاہیے کہ پارلیمنٹ میں دریدہ دہنی کرنے والوں نے طاقت کے حضور کتنی بار اپنی ’ثقافت‘ کو اذن اظہار دیا۔ پنجاب کی اصل ثقافت شاہ حسین اور بابا فرید کے میٹھے بول ہیں، زورآور کی گالی نہیں۔ پنجاب کی ثقافت اجنبی کی تواضع اور کمزور کی حفاظت ہے۔
گالی کلچر نہیں، انسانی احترام سے انکار اور جرم کی دھمکی ہے۔ گالی تذلیل اور دھمکی کا ایسا امتزاج ہے جس سے معاشرے میں تشدد کا اصول جواز پاتا ہے۔ تشدد مہذب معاشرے کو جنگل سے الگ کرنے والی لکیر ہے۔ تہذیب دلیل اور مکالمے کا تقاضا کرتی ہے۔ جنگل میں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تشدد کی دھمکی بذات خود تشدد ہے۔ پاکستان میں ہمارا بنیادی مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ ہم معاشرے سے تشدد کا اصول ختم نہیں کر پائے۔ ایک غیر مہذب معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی تشدد کی مختلف صورتوں سے ایک پیچیدہ تہذیبی بحران جنم لیتا ہے۔ جمہوری جدوجہد کا نصب العین ایسے معاشرے کا قیام ہے جہاں تشدد کو ایک اصول کے طور پر رد کیا جائے۔ ایسا پاکستان جہاں عورت کے ذکر کو توہین کا ذریعہ سمجھا جائے، جہاں عقیدے کی بنا پر امتیاز کیا جائے، جہاں کمزور کو قانون کا تحفظ نہ ملے، جمہوری پاکستان نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ تشدد کی شدت یا حجم کا نہیں، اصول کا ہے۔ جمہوری معاشرے میں تشدد کا اصول نہیں چل سکتا اور تشدد کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری سیاسی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ ہماری سیاسی روایت میں حسین شہید سہروردی آتے ہیں، اسمبلی میں نوابزادہ لیاقت علی سے گالی سہی، ایوب خان سے گولی کی دھمکی سنی، گوجرانوالہ میں ہجوم سے پتھر بھی کھائے لیکن پاکستان کا دم بھرتے رہے۔ ان کے بعد انگارے اگلنے والے شیخ مجیب الرحمن نمودار ہوئے۔ ملک ٹوٹ گیا۔ سیاسی رہنماؤں میں تحمل کی صفت سے قومیں تعمیر ہوتی ہیں۔ گالی اور دھمکی سے نفرت اور تفرقہ پھیلتا ہے۔ آج بے نظیر بھٹو شہید کا یوم پیدائش ہے۔ بے نظیر کی شائستہ سیاست ہماری میراث ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت عملی طور پر مریم نواز کے کندھوں پر ہے۔ اے این پی کی سیاسی تاریخ میں محترمہ نسیم ولی کی قیادت شامل ہے۔ پاکستانی عورت کے کردار، دیانت اور صلاحیت کا اعتراف تقاضا کرتا ہے کہ پارلیمنٹ ہی میں نہیں، معاشرے میں شائستگی بالخصوص عورت کے احترام کی ثقافت اختیار کی جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker