تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ اسامہ بن لادن شہید ہے یا مجرم ۔۔پاکستان کا سرکاری مؤقف کیا ہے؟

افغان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ کیا وہ القاعدہ کے بانی و لیڈر اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں۔ ان سے قومی اسمبلی میں گزشتہ برس وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا۔ شاہ محمود قریشی کا مؤقف تھا کہ اس بیان کومیڈیا کے کچھ حصوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کیا وہ اس بیان سے اختلاف کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے پہلے وقفہ کیا اور پھر جواب دینے سے معذرت کرلی۔
دنیا کے بدنام ترین دہشت گرد کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ کے اس غیر واضح اور مبہم جواب کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں آخر پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔ کیا پاکستانی حکومت اسامہ بن لادن کو ایسا مجاہد سمجھتی ہے جس نے مسلمانوں کے حقوق اور وقار کے لئے جد و جہد کا آغاز کیا اور اس مہم جوئی میں بالآخر ’دشمن‘ کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس لئے راست اسلامی طریقہ کے مطابق اسے شہید کہنا ہی موزوں ہوگا۔ یا پاکستانی حکومت باقی ماندہ دنیا کی طرح اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اسامہ بن لادن نے اسلامی عقائد کی گمراہ کن تشریح کرتے ہوئے نوجوانوں کو مغربی ممالک پر حملے کرنے پر اکسایا ، بے گناہ شہریوں کو مارنے کی منصوبہ بندی کی اور اس جرم کے نتیجہ میں دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں لاکھوں مسلمان بھی جاں بحق ہوئے ۔ اسی جنگ سے فرار ہوتے ہوئے اسامہ بن لادن کئی سال تک پاکستان میں روپوش رہا جس کے بارے میں پاکستان کا سرکاری مؤقف یہی رہا ہے کہ اسے اس کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔ آخر کار امریکہ کواس کا سراغ مل گیا اور ایک خفیہ آپریشن میں امریکی فوج نے اسے ایبٹ آباد میں اس کی خفیہ پناہ گاہ میں ہلاک کردیا۔ اس طرح دنیا کو ایک خوفناک جنگ جوئی اور اسلامی ممالک میں تشدد و فساد کے نئے رجحان کی بنیاد رکھنے والا ایک شخص کیفر کردار کو پہنچا۔
شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے طلوع ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں پہلے تو بڑی اتھارٹی سے یہ دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال جون میں وزیر اعظم عمران خان کی جس تقریر کے حوالے سے سوال کیا جارہا تھا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو ’شہید ‘ کہا تھا، وہ درست نہیں ہے کیوں کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے خیال میں میڈیا کے ایک حصے نے اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش گیا۔ گویا پاکستانی وزیر اعظم سے ایک ایسا بیان منسوب کرنے کی کوشش کی گئی جو درحقیقت انہوں نے دیا ہی نہیں تھا۔ یوں عمران خان کے ایک افسوسناک بیان کا سارا بوجھ ’نامعلوم‘ میڈیا پر ڈال کر شاہ محمود قریشی نے اپنے لیڈر اور وزیر اعظم کی گلو خلاصی کروانے کی کوشش کی ۔ تاہم جب اینکر نے ضمنی سوال میں دریافت کیا کہ تو کیا وہ اسامہ کو شہید ماننے کو غلط کہتے ہیں تو پاکستانی وزیر خارجہ کو جواب نہیں بن پڑا۔ پہلے انہوں نے خاموشی اختیار کی پھر اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
عمران خان نے جس تقریر میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا، وہ براہ راست قومی ٹیلی ویژن پر نشر کی جارہی تھی۔ اس لئے اس میں کہی گئی کسی بات کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے غلط طور سے پیش کرکے ایک ایسی بات سامنے لانےکی کوشش کی گئی جو درحقیقت پاکستانی وزیر اعظم نے نہیں کہی تھی۔ حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ نہ صرف عمران خان نے ایک عالمی دہشت گرد اور اپنے مجرمانہ اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے مشکلات اور ہلاکت خیزی کا سبب بننے والے ایک شخص کو پورے ہوش و حواس میں شہید کہا تھا۔ بلکہ اس پر احتجاج سامنے آنے کے باوجود اس مؤقف کو واپس لینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی ۔ افغان ٹی وی کے انٹرویو میں اینکر کا یہ سوال شاید پاکستانی وزیر خارجہ کے لئے غیر متوقع تھا جس کی وجہ سے وہ گڑبڑا گئے اور میڈیا کی غلط رپورٹنگ کا سہارا لے کر وزیر اعظم کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے الجھے اور غلط جواب کے جال میں خود ہی پھنس گئے۔
یوں تو اسامہ بن لادن کو مرے ہوئے دس سال ہوگئے ہیں لیکن اس خطے میں اب بھی اس آگ کے بجھنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے جو اسامہ بن لادن کی سرکردگی میں دہشت گردی کی صورت میں شروع کی گئی تھی۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت اس کارروائی میں اس کی ممد و معاون تھی۔ 11/9 حملوں کے بعد امریکہ نے جب اسامہ بن لادن کو اپنے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا تو یہ کہتے ہوئے سنگین دہشت گرد حملہ میں ملوث اس شخص کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا گیا کہ یہ افغان میزبانی کی روایات کے خلاف ہے۔ اس حجت کی وجہ سے شروع ہونے والی جنگ کے نتائج افغانستان گزشتہ بیس برس سے بھگت رہا ہے۔ اسی جنگ کی وجہ سے پاکستان میں پھیلنے والی دہشت گردی میں 70 ہزار سے زائد فوجی اور شہری جاں بحق ہوئےتھے۔ پاکستانی حکومت اور فوج ہر عالمی فورم پر ان قربانیوں کا ذکر کرکے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سچائی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن جب ملک کے وزیر اعظم کے بعد اس کا وزیر خارجہ اس بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے کہ اسامہ بن لادن گمراہ تھا اور اس کے ہاتھ معصوم شہریوں کے خون سے رنگے تھے بلکہ بالواسطہ طور سے اسے مسلمانوں کا ’نجات دہندہ‘ کہا جارہا ہے تو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کو کس طرح عالمی پذیرائی نصیب ہوسکتی ہے؟
حیرت انگیز بات ہے کہ بے یقینی کی یہ کیفیت ایک ایسی حکومت کے وزیر خارجہ نے پیدا کی ہے جو پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ’گرے فہرست‘ سے نکلوانے کی جد و جہد کرتی رہی ہے۔ بلکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ جس مالی تعاون کے پروگرام کا حصہ ہے، اس میں بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو کوششیں جاری رکھنے اور انہیں مبسوط کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ہونے والی قانون سازی پر اپوزیشن نے واویلا بھی کیا تھا لیکن حکومت ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کا بہانہ کرکے ان قوانین کو ملک کےوسیع تر مفادات میں اہم قرار دیتی رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر حکومت گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلامی نشاط ثانیہ کے نام پر دہشت گردی کی بنیاد رکھنے والے شخص اور اس کی تحریک کو ہی غلط نہیں مانتی تو اس کی قانون سازی اور اعلانات یا وعدوں کو کیسے قابل اعتبار سمجھا جاسکتا ہے۔ مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے یہ معاملہ زیر بحث رہا ہے کہ پاکستانی عسکری و سول ادارے کس حد تک اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور امریکہ سے چھپانے کے عمل میں شریک رہے تھے۔ پاکستان سرکاری طور سے اس معاملہ میں کسی کردار کو تسلیم نہیں کرتا لیکن ایبٹ آباد سانحہ پر بننےوالے کمیشن کی رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آئی۔ دوسری طرف متعدد امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے میں ملوث تھیں۔ پاکستان کو گزشتہ چند برس کے دوران جس طرح امریکی عتاب کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان میں اسامہ بن لادن کے حوالے سے پاکستانی اداروں کا کردار بھی ایک اہم وجہ رہا ہے۔ تاہم افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ممکن بنانے کے لئے امریکہ کو پاکستانی تعاون درکار تھا۔ تاکہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے اور افغانستان میں ایک طویل جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
پاکستان دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان کو لانے اور امریکہ کے ساتھ معاہدہ پر آمادہ کرنے کا کریڈٹ وصول کرتا ہے ۔ شاہ محمود قریشی کی کوئی گفتگو اس دعوے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کہ افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرکے پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے امریکہ ہی نہیں پوری دنیا ایک شاندار کارنامہ مانتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جب پاکستانی حکومت مسلسل دہشت گرد عناصر کے بارے میں ہمدردانہ لب و لہجہ اختیار کرے گی اور یہ واضح نہیں ہوسکے گا کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کا پرچار کرنے والے عناصر کے خلاف ہے یا ان کے خلاف صرف اس وقت بیان بازی کی جاتی ہے جب سفارتی مفادات حاصل کرنے کی ضرورت ہو تو پاکستان کی نیک نیتی کے بارے میں ہمیشہ شبہات پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان شبہات کا سایہ پرویز مشرف کے دور میں بھی دیکھا گیا تھا جب ایک طرف پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بنا ہؤا تھا تو دوسری طرف درپردہ طالبان کی سرپرستی کا فریضہ بھی ادا کررہا تھا۔ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہونے تک امریکہ بھی بھارت اور افغان حکومت کی طرح پاکستان پر افغانستان میں دہشت گردی کی ذمہ داری عائد کرتا رہا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے براہ راست یہ الزام نہیں لگایاجاتا لیکن اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ پاکستان کے اختلاف کی بنیادی وجہ علاقے میں تشدد پسند عسکری گروہوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ہی ہے۔
اس پس منظر میں پاکستانی وزیر خارجہ نے اسامہ بن لادن کی موت اور اس کے مشن کے بارے میں جو ابہام پیدا کیا ہے، اس سے پاکستان کی شہرت اور وسیع تر مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اس بیان سے اس مؤقف کو تقویت ملے گی کہ پاکستان کابل پر طالبان کی حکومت قائم کروانے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ یہ ملک بالواسطہ اس کی دسترس میں رہے۔ یہ تاثر پاکستان کی شہرت، سفارتی اعتبار، سیاسی وقار اور مالی مفادات کے لئے شدید نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو ان معاملات پر بیان بازی کی بجائے اپنے عمل اور ٹھوس حکمت عملی کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر کو انسانوں کا دشمن سمجھتا ہے۔ اسی لئے یہ بے حد اہم ہے کہ حکومت پاکستان واشگاف الفاظ میں بتائے کہ وہ اسامہ بن لادن کو مجرم سمجھتی ہے یا ایک جائز مقصد کے لئے جان قربان کرنے والا شہید مانتی ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker