اہم خبریںبلوچستان

بلوچ سینیٹر عثمان کاکڑ کی پراسرار موت، رشتہ داروں نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

کراچی :عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد ہر آمریت کے خلاف ہمیشہ پیش پیش رہنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر محمد عثمان کاکڑ پیر کے روز کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی عمر 60 سال تھی۔عثمان کاکڑ کے قریبی رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی موت طبعی نہیں ہے۔ انھوں نے ان کی موت کی وجوہات کے بارے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ان کی وفات پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان کے صدارتی محل سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر اشرف غنی نے عثمان کاکڑ کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘عثمان خان کاکڑ افغان سرزمین کے زیرک سیاست دان اور امن کے خواہاں تھے۔ وہ افغان امن عمل کے حمایتی اور افغانستان میں بیرونی مداخلت کے سخت مخالف تھے۔
’عثمان خان کاکڑ ہر قسم کے تشدد، ظلم اور جبر کے خلاف اپنے مظلوم اور محکوم عوام کی آواز تھے اور ان کی موت افغان سرزمین اور عوام کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ افغان حکومت اور عوام کی جانب سے ہم پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ان کے خاندان کے غم میں شریک ہیں۔‘
عثمان کاکڑ کو 17 جون کو شہباز ٹاﺅن میں واقع ان کے گھر سے بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس وقت محمود خان اچکزئی نے بی بی سی کےخدائے نور ناصر کو بتایا تھا کہ انھیں گھر پر اچانک دورہ پڑا ہے جس کے باعث وہ گرے اور ان کے سر پر چوٹ آئی۔ تب سے لے کر آج تک اس حوالے سے پارٹی کا مؤقف بھی یہی رہا ہے۔
تاہم ان کے قریبی رشتہ دار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری محمد یوسف خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گھر میں بے ہوش ہونے سے پہلے عثمان کاکڑ صحت مند تھے۔انھوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ 17 جون کی سہ پہر تین بجے جناح روڈ پر واقع پشتونخوامیپ پارٹی کے دفتر سے گھر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو ذاتی محافظ تھا وہ عثمان کاکڑ کے گھر پہنچنے کے بعد واپس پارٹی کے دفتر آیا تھا۔
خیال رہے کہ عثمان کاکڑ کو بے ہوشی کی حالت میں کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کے دماغ کا آپریشن کیا تھا لیکن وہ ہوش میں نہیں آئے تھے۔ انھیں بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت نے علاج کے لیے کراچی منتقل کیا تھا۔
عثمان کاکڑ ایک عوامی سیاسی رہنما تھے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کوئٹہ میں ہسپتال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی بلکہ کراچی کے جس نجی ہسپتال میں وہ زیر علاج تھے اس ہسپتال کے باہر بھی پشتونخوامیپ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔جب ان کے رشتہ دار یوسف خان کاکڑ نے کراچی میں ان کے موت کا اعلان کیا تو ہسپتال کے باہر کارکن زار و قطار رونے لگے۔ اسی طرح کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی ان کی موت کی خبر سن کر لوگ رنجیدہ ہوئے۔
پشتونخوا میپ کے رہنما یوسف خان کاکڑ نے کہا کہ عثمان کاکڑ ایک بہادر سیاسی کارکن اور رہنما تھے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ جس چیز کو غلط سمجھتے تھے ببانگ دہل اس کو غلط کہتے تھے اور جو لوگ اس غلط کام کے پیچھے تھے وہ ان کا نام بھی لیتے تھے جن میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے نام بھی ہوتے تھے۔انھوں نے ان کی بے ہوشی کے بعد سینیٹ میں ان کے خطاب کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے یہ واضح طور پر کہا تھا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اس ویڈیو میں عثمان کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ایک ذاتی بات کرنا چاہتا ہوں جو میں نے چھ سال میں نہیں کی۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت اور اپنے نظریات سے دستبردار ہو جائیں، قوموں کی بات کرنا چھوڑ دیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنا چھوڑ دیں اور جو غیر جمہوری قوتیں ہیں ان پر تنقید کرنا بند کر دیں۔’
عثمان کاکڑ نے کہا تھا ‘مجھے یہ اشارے اور پیغامات مل رہے ہیں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ ہوا، میرے بچوں کو کچھ ہوا اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے میرے نظریات، جمہوریت، میری قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی زیادہ عزیز۔ لیکن میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا میرے خاندان کو اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ داری دو انٹیلجینس ادارے ہوں گے، میں یہ اس لیے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ یہ گم کھاتے میں نہ جائے۔’
یوسف خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ جس وقت عثمان کاکڑ گھر میں تھے تو ان کے گھر میں ان کی ایک 11 سالہ بچی اور ایک خاتون کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔انھوں نے بتایا کہ عثمان کاکڑ گھر کے نچلے حصے میں تھے اور بچی بھی اس حصے میں تھی جبکہ خاتون اوپر والی منزل پر تھی۔ یوسف خان کاکڑ نے بتایا کہ عثمان کاکڑ اپنے گھر کے ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔انھوں نے دعوی کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے بلکہ عثمان کاکڑ نے سینیٹ میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر انھیں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار انٹیلیجینس کے دو ادارے ہوں گے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ عثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان کے لیے ‘شہید’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker