کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا کالم : جمہوریت کی آزادی یا آمریت کی کج روی

منٹو لفظ کا جوہری تھا۔ اسے اونچی دکان کی جھالر پٹی یا دست فروش کی کم مائیگی سے غرض نہیں تھی۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے ایسا لفظ اٹھاتا تھا جو معنی ہی نہیں، کیفیت بھی بیان کرے۔ احساس کے کیف و کم ہی پر اکتفا نہ کرے، سوچ کے پیچ و خم کا احاطہ بھی کرے۔ اواخر نومبر یا دسمبر 47ء کے ابتدائی ہفتوں میں منٹو بمبے کی بندرگاہ سے پاکستان روانہ ہوا۔ اس نے اپنی ان دنوں کی کیفیت ’مرلی کی دھن‘ میں تفصیل سے لکھ دی ہے۔ اردو زبان میں کم لکھنے والے ایسے ہوں گے جنہیں فرد کی تنہائی اور ہجوم کے بے معنی خروش میں تعلق کا ایسا گہرا شعور ہو۔ ممکن ہے منٹو نے کہیں تقسیم یا آزادی کا لفظ بھی برتا ہو لیکن 47ءکے واقعات کے لئے اس کا پسندیدہ لفظ بٹوارہ تھا۔
بٹوارہ ایسی ابتلا تھی کہ کچھ مدت کے لئے انسانیت اس خطے سے رخصت ہو گئی۔ لہو بہایا گیا اور آبرو لوٹی گئی۔ ساحر لدھیانوی سے سہو ہوا جب اس نے لکھا ’خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا‘۔ لہو بہتا ہے تو زمیں کی رگوں میں اتر کر آئندہ فصلوں کے رگ و ریشے میں جھلک دیتا ہے، فرد کی عزت لٹ جائے تو قوم کی توہین روایت بن جاتی ہے۔ مجھے حیدر آباد کی بہن عینی بلیدی کا نوحہ نہیں لکھنا اور نہ مجھے اسلام آباد کی بیٹی نور مقدم کا ماتم کرنا ہے۔ جدید اردو شعر کی بہترین آواز حمیدہ شاہین نے ہمارا مرثیہ لکھ رکھا ہے۔ ’ہمارے راستوں میں کھل گئیں دشنام گاہیں / کہ گرد راہ بھی واہی تباہی بولتی ہے‘۔ جرم کی تفصیل تو مظلوم کی اہانت مکرر کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے ایک طرف رکھ کے ریاست کے بندوبست اور شہری کی توقیر میں تعلق پر بات کرنی چاہیے۔ وقت کی رفتار گھڑی کی محتاج نہیں، آنکھ نے جو کچھ دیکھ لیا، وہ بذات خود اشارہ ہے کہ عمر کی نقدی محدود سے محدود تر ہو چکی۔ اب بول، کہ وقت کم سہی، ابھی اظہار کی مہلت ختم نہیں ہوئی۔
گبرئیل گارشیا مارکیز نے لاطینی امریکا کے پس منطر میں ایک اصطلاح استعمال کی ہے ’اقتدار کی تنہائی‘۔ اقتدار کی چوٹی پر واقعی بہت تنہائی ہوتی ہے لیکن اس تنہائی کے دو ممکنہ پہلو ہیں۔ ایک معنی تو گارشیا مارکیز نے اپنے ناول The General in His Labyrinth (جنرل کی بھول بھلیاں) میں بیان کیا ہے۔ ایک شخص جو کبھی قوم کا مسیحا تھا، عوام کے غیظ و غضب کا شکار ہو چکا ہے اور اپنے انجام سے بچنے کے لئے روپوشی کی حالت میں ملک چھوڑ کر بھاگ رہا ہے۔ چند ساتھی ابھی اس کے ہمراہ ہیں مگر وہ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ گارشیا مارکیز کے انمٹ لفظوں میں “despair, sickness, and death inevitably win out over love, health, and life.”۔ یہ تو رہا ’اقتدار کی تنہائی‘ کا ایک مفہوم۔ اب دوسرا امکان ملاحظہ فرمائیے۔ امریکا کے 33ویں صدر ہیری ایس ٹرومین نے اپنے میز پر لکھوا رکھا تھا، The buck stops here. مطلب یہ کہ جب کوئی مسئلہ مجھ تک پہنچتا ہے تو مجھے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے۔ میں اپنے فیصلے کے نتائج کسی اور کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتا۔ ٹرومین کو اس اصول پر اس حد تک یقین تھا کہ اس نے جنوری 1953ء میں اپنی الوداعی تقریر میں بھی جمہوری فیصلہ سازی کے اس پہلو پر بات کی۔ بے شک ناکامی، بیماری اور موت سے کسی فرد کو مفر نہیں لیکن جمہوری فیصلہ سازی میں تخلیق، تعمیر اور محبت کی معنویت پائی جاتی ہے، یہاں فیصلہ سازی کا اختیار جواب دہی کے تصور سے بندھا ہے۔ چنانچہ جمہوری رہنما قوم کی امانت واپس لوٹاتے ہوئے ’خدا حافظ‘ کہتا ہے، آمر اپنی جھنجھلاہٹ میں ’خدا ہی حافظ‘ کہتا ہے۔ جمہوریت اور آمریت میں یہ دو حرفی فرق قوم کے ہر طبقے اور ہر گروہ پر اثرانداز ہوتا ہے۔
لامحدود، ناجائز اور غاصبانہ اختیار اخلاقی جواز اور تخلیقی سمت سے عاری ہوتا ہے چنانچہ اس میں ناگزیر طور پر دو خصوصیات پائی جاتی ہیں، مالی بدعنوانی اور جنسی کجروی۔ اقتدار میں عدم تحفظ کا علاج ملک کے اندر اور باہر دولت کے پوشیدہ ذخائر میں ڈھونڈا جاتا ہے اور تخلیق کی معنویت سے محرومی سمجھنے کے لئے ن م راشد کی نظم ’انتقام‘ پڑھ لیجئے۔ ’اس کا چہرہ، اس کے خدوخال یاد آتے نہیں / اک شبستاں یاد ہے….‘ مزید تفصیل جاننا ہو تو سابق آئی جی پنجاب چوہدری سردار کی خود نوشت ’جہان حیرت‘ دیکھ لیجئے۔ آمریت کی ان دو خصوصیات سے مشرق وسطیٰ کا کوئی ملک محفوظ رہا اور نہ لاطینی امریکا کی کوئی ریاست۔ کوئی نام نہاد نظریاتی ریاست ہو یا یورپ میں فسطائیت، اقتدار کی چوٹی سے یہ دونوں عوارض اختیار کی ہر سطح پر پھیل جاتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی پڑھنے والا ترقی یافتہ ممالک میں صنفی تشدد کے اعداد و شمار کا حوالہ دے، ایسے مہربانوں سے عرض ہے کہ دنیا بھر میں ایسی خرابیوں کے وجود سے قطعاً انکار نہیں البتہ تشدد پسند ذہن کی نفسیات یا جنسی سادیت سمجھنا ہو تو استاذی رفیق جعفر یا ڈاکٹر آثر اجمل سے رجوع کیجئے۔ وہ مریضانہ کیفیت ایک انفرادی معاملہ ہے جسے ریاست یا سماج کی تائید حاصل نہیں۔ جسے قانون کا تحفظ نہیں دیا جاتا۔ البتہ جہاں دستور کی شق 25 میں عدم امتیاز کی ضمانت کے علیٰ الرغم گھریلو تشدد سے متعلقہ مسودہ قانون ’مجلس خبرگان‘ کے سپرد کر دیا جائے، وہاں اوباڑو سے باجوڑ تک کسی عورت، کسی بیٹی اور کسی بہن کا تحفظ نہیں ہو سکے گا۔ جو لوگ خلوت میں مساوات، رضامندی، تحفظ اور باہم تسکین کے اصول تسلیم نہیں کرتے، ان کی شعوری سطح ملک میں جمہوری حکمرانی، حکومتی جواب دہی اور اجتماعی معیار زندگی میں بہتری کا مطالبہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے، دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے اٹھاتے اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھتے ہیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker