پاکستان میں جمہوریت کا نعرہ ہر دور میں لگایا گیا، ہر حکومت نے خود کو جمہوریت کا علمبردار بتایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جمہوریت اب ایک امر بیل بن چکی ہے، جو درخت کی ہریالی میں چھپی زہریلی بیل کی طرح ریاست کی جڑوں سے لپٹ کر اس کی زندگی نچوڑ رہی ہے۔ یہ جمہوریت اب عوام کی نہیں بلکہ مخصوص خاندانوں، اشرافیہ اور طاقتور طبقات کی ترجمان بن چکی ہے۔ اس نظام نے جس طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، وہ صرف اخلاقی یا نظریاتی نہیں، بلکہ عملی، معاشی، انتظامی اور سماجی ہر سطح پر نظر آتا ہے۔
آج ملک میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ شرح مارچ 2023 میں اسٹیٹ بینک اور وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ عوام روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں، مگر سیاستدان جلسے، دھرنے اور اقتدار کی کشمکش میں مصروف ہیں۔ بجٹ خسارہ 2024-25 میں جی ڈی پی کے 7.4 فیصد تک پہنچ چکا ہے، اور قرضوں کا بوجھ 80 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ صرف پچھلے پانچ سال میں پاکستان نے بیرونی قرضوں کی مد میں 48 ارب ڈالر ادا کیے، مگر بہتری کی بجائے معیشت مزید زوال پذیر ہے۔
سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر اداروں کو کمزور کیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) جیسے ادارے سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہوتے رہے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کو بھی کئی بار کہنا پڑا کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ پولیس کا نظام غیر سیاسی ہونا چاہیے تھا، مگر ہر حکومت نے اپنی مرضی کے افسران لگا کر قانون کو ذاتی وفاداری کا غلام بنایا۔ 2022 کے دوران پنجاب میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد صرف چھ ماہ میں 250 سے زائد اعلیٰ پولیس افسران کو تبدیل کیا گیا، جو واضح طور پر ادارہ جاتی عدم استحکام کی علامت ہے۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی اسی امر بیل نما جمہوریت کے ہاتھوں زبوں حال ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم پر مجموعی جی ڈی پی کا صرف 1.7 فیصد خرچ ہوتا ہے، جو عالمی معیار (کم از کم 4 فیصد) سے کہیں کم ہے۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ صحت کا بجٹ جی ڈی پی کا 1.2 فیصد سے بھی کم ہے، اور ہر ہزار افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جو سیاسی جماعتوں کی ترجیحات کو عیاں کرتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک کی "ایز آف ڈوئنگ بزنس” رپورٹ 2020 کے مطابق پاکستان 190 ممالک میں 108ویں نمبر پر تھا، مگر 2023 تک یہ درجہ بندی مزید خراب ہو گئی کیونکہ مسلسل سیاسی محاذ آرائی، دھرنے، لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی تحریکوں نے ملکی معیشت کو غیر یقینی میں دھکیل دیا۔ صرف 2022 میں اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 42 ہزار سے گر کر 35 ہزار تک آ گیا، اور ملکی کرنسی 276 روپے فی ڈالر تک گر گئی۔ ان معاشی جھٹکوں کا سب سے زیادہ اثر غریب عوام پر پڑا، جنہیں نہ روزگار میسر ہے، نہ بنیادی سہولیات۔
آزادی صحافت، جو کہ کسی بھی جمہوری نظام کی پہچان ہوتی ہے، پاکستان میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں 158 ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ صحافیوں پر حملے، اغوا، اور ادارتی پابندیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ حکومتیں چاہے کسی بھی پارٹی کی ہوں، وہ تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، جو کہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ایک حالیہ سروے (گیلپ پاکستان، 2024) کے مطابق 62 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ جمہوریت ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں لائی۔ صرف 27 فیصد کو اس نظام سے امید ہے۔ جب عوام اپنے منتخب نمائندوں سے مایوس ہو جائیں، تو پھر وہ یا تو عدم دلچسپی کا شکار ہو جاتے ہیں یا انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، جو کہ ملک کے لیے مزید خطرناک ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جمہوریت نما امر بیل کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہاں، لیکن اس کے لیے نیت، عزم اور قربانی درکار ہے۔ اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہوگا، قانون کی بالادستی قائم کرنی ہو گی، تعلیم اور آگاہی کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنا ہو گا، اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہو گا۔ احتساب ایسا ہو جو بے لاگ اور شفاف ہو، نہ کہ انتقامی یا مخصوص طبقات تک محدود۔ جب تک ہم یہ بنیادی اصلاحات نہیں کریں گے، تب تک یہ امر بیل نہ صرف جڑوں کو چوستی رہے گی بلکہ وقت کے ساتھ پوری درخت کو بھی زمین بوس کر دے گی۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں وسائل، افرادی قوت اور صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن سیاسی مفاد پرستی، کرپشن، اور جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت نے اسے آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں عوام کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس امر بیل کو کاٹنے کا فیصلہ کریں، ورنہ صرف جڑیں نہیں، پوری قوم مرجھا جائے گی۔
شہزاد عمران خان
فیس بک کمینٹ

