درویش نے انگریزی ادب اور قانون میں تعلیم پائی۔ تخلیق ادب سے معذور رہا۔ قانون کی تعلیم مکتبی تھی۔ اقتدار کی بے چہرہ گرفت اور فرد کی بے بسی کے پیچ و خم پڑھنے میں عمر رواں کی دھوپ گزر گئی۔ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے مقدمہ قتل میں بھٹو صاحب کی اپیل مسترد کر دی۔ دو عورتیں اس عدالتی نا انصافی کی مزاحمت کر رہی تھیں۔ نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو۔ چنانچہ معاشرے میں عورتوں کا قانونی اور سماجی رتبہ گرانے کی تدبیر کی گئی۔ سعودی عرب سے معروف الدوابی ایک مسودہ قانون لائے جسے بلاتامل 10 فروری 1979 کو حدود اینڈ زنا آرڈیننس کے نام پر مسلط کر دیا گیا۔ اس ناقص قانون میں فقہی رخنے تھے، جن کا پہلا ثبوت Hazoor Bakhsh v Federation of Pakistan, PLD 1981 FSC 145 میں سامنے آیا جب وفاقی شرعی عدالت نے سورہ نور کی آیہ مبارکہ 24 کی روشنی میں رجم کی سزا کو غیر اسلامی قرار دیا۔ 1982 میں وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل نو کے بعد حضور بخش کیس کا فیصلہ مسترد کر کے سنگساری کو دوبارہ اسلامی قرار دے دیا گیا۔ اس دوران 1982 میں صفیہ بی بی کا مقدمہ سامنے آ گیا۔
ساہیوال کی ایک کم عمر نابینا لڑکی صفیہ بی بی ایک زمیندار محمد علی کے گھر میں ملازمت کرتی تھی۔ محمد علی اور اس کے بیٹے مقصود احمد نے صفیہ بی بی کے ساتھ زیادتی کی جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ جولائی 1982 میں صفیہ کے باپ نے مقامی عدالت میں ملزمان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروایا۔ ملزموں کے ہمراہ صفیہ بی بی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ صفیہ بی بی نابینا ہونے کے باعث ملزمان کی شناخت سے قاصر تھی۔ چنانچہ زمیندار اور اس کا بیٹا پہلی سماعت ہی پر بری کر دیے گئے۔ البتہ صفیہ بی بی کی شکایت کو زنا کا اعتراف قرار دیتے ہوئے 24 جولائی 1983 کو پندرہ کوڑے، تین سال قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ سنایا گیا۔ صفیہ بی بی کو سزا دینے پر اندرون ملک اور بیرونی دنیا میں طوفان برپا ہو گیا۔ لندن میں پاکستانی سفیر سے صفیہ بی بی کے معاملے پر سوالات کیے گئے تو انہوں نے زچ ہو کر پاکستانی حکومت سے رہنمائی چاہی۔ ضیا الحق کے خصوصی احکامات پر وفاقی شرعی عدالت نے نظرثانی کرتے ہوئے صفیہ بی بی کو تکنیکی بنیادوں پر بری کر دیا۔ اس وقت تک وہ پندرہ کوڑوں اور چھ ماہ قید کی سزا بھگت چکی تھی۔ صفیہ بی بی کیس نے واضح کر دیا کہ حدود قوانین امتیازی ہیں اور عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دیتے ہیں۔ اسی تسلسل میں قانون شہادت 1984 میں عورتوں کی گواہی آدھی کی گئی۔ چالیس برس بعد 2006 میں قانون تحفظ نسواں کے عنوان سے حدود قوانین میں کچھ ترامیم کی گئیں تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر قدامت پسند حلقے بلبلا اٹھے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ میں پے در پے مخصوص نوعیت کے مقدمات سامنے آئے۔ عمومی رائے یہ تھی کہ 19 ویں صدی کے متعدد قوانین ازکار رفتہ ہو چکے۔ چنانچہ 1954 میں Sir John Wolfenden کی سربراہی میں ایک پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے ماہرین قانون، پولیس افسروں، ماہرین نفسیات اور مذہبی رہنماؤں سے تفصیلی گفت و شنید کے بعد 4 ستمبر 1957 کو اپنی رپورٹ شائع کر دی۔ اس رپورٹ کا بنیادی نکتہ درج ذیل تھا۔
The law’s function is to preserve public order and decency, to protect the citizen from what is offensive or injurious, and tہ provide sufficient safeguards against exploitation and corruption of others … It is not, in our view, the function of the law to intervene in the private life of citizens, or to seek to enforce any particular pattern of behaviour.
(قانون کا منصب امن عامہ کی ضمانت دینا ہے تاکہ ہر شہری نا انصافی یا جسمانی نقصان سے محفوظ رہ سکے۔ قانون شہری کو دوسرے افراد یا گروہوں کے استحصال اور بدعنوانی سے محفوظ رکھنا ہے۔ ہماری رائے میں قانون کا مقصد شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا نہیں اور نہ ہی سماجی اقدار کا کوئی خاص نمونہ نافذ کرنا ہے)۔ اس قانون کی مخالفت میں Lord Devlin نے The Enforcement of Moralsکے عنوان سے کتاب لکھی۔ جبکہ وولفنڈن رپورٹ کے حق میں معروف ماہر قانون H۔ L۔ A۔ Hart کے لیکچر The Concept of Lawکے عنوان سے شائع ہوئے۔ آج کی دنیا میں فوجداری قانون کی اصولی بنیاد وولفنڈن رپورٹ کا بنیادی نکتہ ہی ہے۔
جولائی 2021 میں اسلام آباد کی 27 سالہ خاتون نور مقدم کو ظاہر جعفر نامی شخص نے قتل کر دیا تھا۔ مئی 2022 میں اسے اسلام آباد کی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ظاہر جعفر کی سزا بحال رکھی۔ خواجہ حارث نے سزا پر نظرثانی کی درخواست دی تو جسٹس باقر نجفی نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جس کے مندرجات شامل سماعت کیے بغیر مقدمہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آ گیا ہے جس میں ذیل کے پیراگراف پر عوامی بے چینی کا یہ عالم ہے کہ سینٹ میں انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی نے بھی جسٹس علی باقر کی رائے پر سخت تنقید کی ہے۔ جسٹس صاحب لکھتے ہیں۔
”the present case is a direct result of a vice spreading in the upper society which we know as ’living relationship‘ in which societal compulsions are ignored so as to defy not only the law of the land but also the personal law under Islam Sharia which is a direct revolt against Almighty Allah“ .
اس سے قطع نظر کہ جسٹس باقر نجفی نے Live-in relationship کو ’living relationship‘ میں بدل ڈالا ہے، بنیادی نکتہ ہہ ہے کہ جسٹس نجفی نے قانون تقاضوں سے تجاوز کرتے ہوئے اپنی ذاتی رائے ظاہر کی ہے۔ جس ملک میں عورتوں کے خلاف جرائم میں سزا کی شرح 1.2 فیصد ہے وہاں ایسی رائے سے عورتوں سے نا انصافی کی حوصلہ افزائی کا حقیقی اندیشہ موجود ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ان دنوں دنیا بھر میں عورتوں پر تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی سولہ روزہ سالانہ مہم جاری ہے۔ قانون اور عدالت کا احترام کرنے والے قمر جلالوی کا شعر ہی عرض کر سکتے ہیں۔
خاک صحرا پہ لکیریں ہیں انہیں پھر دیکھو
کہیں یہ خط نہ ہوں لکھے ہوئے دیوانوں کے
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

