کالملکھاری

چور لے جائیں تو بھلے لے جائیں: دل کی بات/وسعت اللہ خان

اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ اس ملک کے بچپن سے ہی نادیدہ اسٹیبلشمنٹ غالب ہے، سیاستدانوں کو پوری طرح پر پھیلانے کا کبھی موقع نہیں ملا، جمہوریت کا پودا جب بھی لگتا ہے بار بار اکھاڑ کے دیکھا جاتا ہے کہ اب تک جڑکیوں نہیں پکڑی؟ جمہوریت نواز قوتوں کے مابین تخریب کار چھوڑے جاتے ہیں جن کا کام ہی نفاق پیدا کرنا اور غلط فہمیاں بڑھانا ہے، ملک و قوم سے سیاست دانوں کے کمٹمنٹ کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کبھی ترک نہیں ہوتی، سیاسی و انتخابی عمل میں انجینئرنگ کا عمل کبھی نہیں تھمتا۔
اگر یہ درست ہے کہ جو بھی جماعت عوامی امنگوں کی آئینہ دار بننے لگتی ہے یا مقبولیت کی ایک خاص حد سے آگے نکلنے لگتی ہے اس کے پر کاٹنے، قیادت کے بارے میں افواہیں پھیلانے، اندرونی دھڑے بندیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے تمام ظاہر و خفیہ وسائل یکجائی کے ساتھ حرکت میں آجاتے ہیں، بطور فرنٹ کمپنیاں جو سیاسی گروہوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز گودام میں رکھے جاتے ہیں انھیں حرکت میں لا کر، راتوں رات بناسپتی اتحاد ایجاد کر کے پاپولر قیادت کی راہ میں کانٹے اور ایک کے بعد ایک مقدمات کی بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں تاکہ کوئی بھی مقبول سیاستداں پسِ پردہ قوتوں کے لیے سنگین چینلج نہ بن سکے۔
اگر یقین کر لیا جائے کہ سو فیصد ایسا ہی ہے تب بھی کچھ سوالات کا جواب کس سے لیا جائے ؟
مثلاً کسی بھی سیاستدان کو ذاتی و اجتماعی ایمانداری کا وصف اختیار کرنے اور وقتاً فوقتاً اپنی یا خاندان، دوستوں اور پارٹی عہدیداروں کی خود احتسابی، پارٹی کے اندر جمہوری عمل کی تنظیمی حوصلہ افزائی اور پارٹی کو فیملی پبلک لیمٹڈ کمپنی کے بجائے میرٹ پر ایک مساویانہ شئیر ہولڈنگ کمپنی کی طرح چلانے، پارٹی اور قیادت کے انفرادی و اجتماعی اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی سالانہ تفصیل عوامی ملاحظے کے لیے پارٹی ویب سائٹ پر ڈالنے سے کون سی خلائی مخلوق روک رہی ہے ؟
کسی بھی برسرِ اقتدار جماعت کو مرکز یا صوبے میں غیر ضروری انتظامی اخراجات میں کمی، سرکاری دوروں اور تقریبات میں سادگی اپنانے، ترقیاتی بجٹ کا ایک ایک پیسہ اچھی شہرت کے حامل اور اہل ٹھیکیداروں کے ذریعے خرچ کرنے،ایک کروڑ روپے سے اوپر کے ہر سرکاری و عوامی پروجیکٹ کا تکمیل کے بعد تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے، صوابدیدی رقومات کو کم ازکم استعمال کرنے یا بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے، پولیس، صحت، تعلیم، پلاننگ، الاٹمنٹ، ریونیو اور بلدیاتی محکموں کو خود مختار بنانے اور ان محکموں کو میرٹ کی بنیاد پر چلانے اور عوام الناس کو اس میرٹ کے طفیل سکون پہنچانے اور ان محکموں کی کارکردگی کے بارے میں عوامی شکایتوں کا سنجیدگی سے جائزہ اور ایکشن لینے سے کون سی خفیہ ایجنسی روک رہی ہے ؟ اگر کوئی ہے بھی تو اس کا نام بتایا جائے کہ ہم یہ سب کرنا چاہتے ہیں مگر فلاں فلاں آڑے آر ہا ہے۔اس کے بعد اور کون کون آڑے آنے کا حوصلہ رکھے گا ؟
جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ ہر محکمے کا ملازم ایمانداری و تندہی سے آٹھ گھنٹے اپنی کرسی، بنچ یا اسٹول پر پایا جائے، سرکاری ٹرانسپورٹ کو ابا حضور کے فلیٹ کے طور پر استعمال نہ کرے ، خامخواہ چھٹیاں نہ کرے، فائلوں کو میز پر الماری میں جمع نہ ہونے دے۔بلاجواز کسی فائل کو لمبے عرصے کے لیے نہ روکے، سائل کو بلا رکاوٹ رسائی دے اور جو مسائل موقع پر حل ہو سکتے ہیں انھیں موقع پر ہی حل کرے۔
بالکل اسی طرح عام آدمی بھی چاہتا ہے کہ جو پانچ برس تک منتخب ہو کر اسمبلی یا حکومت میں آتے ہیں وہ ان ذمے داریوں کے ناطے ملنے والی تنخواہوں، مراعات اور اختیار کو حلال کریں، دفتر اور اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے آئیں،گم سم بیٹھنے، ڈیسک بجانے، بیچ اجلاس میں سے اٹھ کر چلے جانے، دورانِ اجلاس کارروائی میں حصہ لینے یا سننے کے بجائے ایک دوسرے سے گپ شپ میں گذارنے یا جسم اجلاس میں اور دماغ کہیں اور سمیت ان جملہ علتوں سے پرہیز کرتے ہوئے عوام دوست قانون سازی کی اصل ذمے داری نبھائیں، ذاتی بغض، اختلاف برائے اختلاف، بے جا اور بلاجواز تاخیری حربوں کو لیجسلییشن اور سرکاری فیصلہ سازی پر اثرانداز نہ ہونے دیں۔ میرا نہیں خیال کہ کسی بھی نادیدہ قوت کا یہ مفاد ہو کہ منتخب پارلیمنٹیریننز یہ سب نہ کریں۔
کیا یہ طرزِ عمل بھی کسی حساس ادارے کے نزدیک خطرناک ہو سکتا ہے اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں پانچ برس مکمل ہونے سے پہلے پہلے اسمبلی اور سرکار کی کارکردگی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شایع کر کے اپنا مدتی کھاتہ بند کریں۔تاکہ ووٹر کو پتہ چل سکے کہ کس رکنِ اسمبلی اور وزیر نے ان پانچ برسوں میں کیا کارکردگی دکھائی،کون سی کارکردگی مکمل کرنے کا وقت نہ مل پایا اور کون کون ایسا ہے جس نے پانچ برس نہیں گذارے بلکہ پانچ برسوں نے اسے گذارا۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نئے عام انتخابات میں آپ کو گھر گھر جا کر ووٹ کی خیرات نہیں مانگنا پڑے گی بلکہ خیراتی خود چل کر پولنگ اسٹیشن آئے گا اور آپ کا کشکولِ اختیار بھر دے گا۔کیا یہ طرزِ عمل اپنانے سے بھی کوئی خفیہ ہاتھ آپ کو روک سکتا ہے ؟
اگر آپ عوام کی طاقت پر صرف بیلٹ بکس کی خانہ پری کی حد تک یقین رکھتے ہیں اور اس کے بعد عوامی قوت کا پانچ برس تک کوئی تعمیری کردار نہیں دیکھتے ، اگر آپ کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ منتخب ہوتے ہی پہلے تو میں پچھلے اور اگلے الیکشن کا خرچہ نکالوں گا۔ اس کے بعد عزیزوں ، رشتے داروں، ہمسائیوں، طاقتور پرچیوں کے حامل سفارشیوں اور پھر کہیں جا کر ایک عام دیوانے ووٹر کے مسائل کو ترجیح دوں گا، اگر آپ جمہوریت کی مالا الاپتے الاپتے دوسرے جمہوریت پسند کو اپنا نیچرل اتحادی سمجھنے کے بجائے نیچرل دشمن سمجھتے رہیں گے، اگر آپ کے خیال میں اختلاف اور دشمنی ایک ہی شے کا نام ہے۔
اگر آپ جمہوریت کی اس تشریح پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک ایسا طرزِ سیاست ہے جو ’’ عوام کی حکومت عوام کے لیے ‘‘ کے اصول پر قائم ہے۔اگر آپ کا عملی فلسفہ یہ ہے کہ جمہوریت ایک ایسا طرزِ سیاست ہے جو ’’عوام کے ذریعے میری حکومت میرے لیے‘‘ کے اصول پر قائم ہے تو پھر ایسی جمہوریت کسی کی کٹھ پتلی یا داشتہ ہو یا لولی لنگڑی ہو یا حواس باختہ۔ میرا اس سے کیا لینا دینا۔بھینس بھینس تجھے چور لے چلے۔لے چلے تو لے چلے۔چارہ اور باڑہ تو وہ بھی دیں گے۔
جو سیاستداں اکیس کروڑ کی آبادی میں سے ایسے چار ایمان دار، غیر جانبدار اور بااصول لوگ بروقت نہیں ڈھونڈھ سکتے جو نگراں حکومت چلانے کے اہل ہوں وہ کیسے یہ شور مچانے کا حق رکھتے ہیں کہ ہم تو جمہوریت چاہتے ہیں مگر ہمیں کوئی روک رہا ہے۔تو پھر جو روک رہا ہے وہ زیادہ اہل ہوا کہ آپ؟
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker