کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : پیارے کاون خدا حافظ!

بات سے بات

پیارے کاون آج کے بعد ہمیشہ خوش رہو۔تمہیں تو خیر کیا یاد ہوگا۔ پر میرا تم سے ایک دور پرے کا رشتہ ہے۔
میرے بچے بھی جب موقع ملتا تم سے ملنے اسلام آباد مرغزار کا چکر لگاتے تھے۔ تم انھیں دیکھ کے سر ہلاتے تھے، سونڈ سلام کرتے تھے اور موڈ اچھا ہو تو پیٹھ پر بھی بٹھاتے تھے۔ پھر وہ بڑے ہو گئے اور ان کی جگہ نئے بچوں نے لے لی۔
کاون کیا تمھیں یاد ہے کہ مرغزار میں پچھلے پینتیس برس کے دوران تم نے کتنے لاکھ بچوں کو سونڈ سلام کیا اور پیٹھ پر سواری کروائی۔ان میں سے ہزاروں بچے ترقی پا کر جانے کہاں کہاں پہنچ گئے۔ ان میں سے کئی تو اتنے طاقتور عہدوں تک پہنچے کہ ان کے قلم کی ایک جنبش تمھیں دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی کے بجائے دنیا کا سب سے خوش و خرم ہاتھی بنا سکتی تھی۔
مگر ان میں سے کسی نے بھی تمھارے پاؤں میں پڑی بھاری زنجیر کو دراز ہوتے اور تم سے آسیب کی طرح لپٹی جان توڑ تنہائی کے سایوں کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔
پیارے کاون، آج جب تم ایک طویل قید کے بعد رہا ہو کر کھلی چراگاہوں کی طرف جا رہے تو میں تمھیں مبارک باد تو دے سکتا ہوں مگر افسوس ہرگز نہ کروں گا، کیونکہ جس دُکھ سے تم پینتیس برس تک گذرے ہو وہ سانجھا ہے۔
جس طرح تمھیں 1985 میں بہت چاؤ کے ساتھ سری لنکا سے یہاں لایا گیا اور تمھارے رکھوالوں کو یقین دلایا گیا کہ کاون کا ہم اپنے بچوں کی طرح خیال رکھیں گے۔بالکل اسی طرح ہمارے لیے بھی 73 برس پہلے ایک نیا گھر یہ کہہ کر دلایا گیا کہ ہم اسی میں محفوظ اور خوشحال رہیں گے۔مگر جس طرح کے رکھوالے تم نے پچھلے 35 برس میں دیکھے وہ ہم عشروں سے بھگتتے آ رہے ہیں۔
تمھیں بھی پوری غذا نہیں ملتی تھی ہماری غذا بھی چرائی جاتی رہی۔ تمھارے علاج معالجے کا بھی کوئی بندوبست نہیں تھا تو ہمیں بھی کہاں تسلی بخش طبی سہولتیں ملیں۔تمھیں بھی مرغزار کے لالچ سے لبریز اقربا پرور انتظام کا سامنا کرنا پڑا بعینہہ ہمارے ساتھ بھی یہی بیتی۔تمھارا مہاوت بھی اناڑی اذیت پسند تھا تو ہم پر سوار اناڑی مہاوتوں کے ڈنڈے میں بھی لمبی لمبی کیلیں لگی ہوئی تھیں۔تمھیں بھی سونڈ پھیلا پھیلا کے تماشائیوں سے بھیک مانگنا سکھایا گیا تو ہمیں بھی ریڑھے پر بٹھا کے خیرات کی آس میں سرِ بازارِ عالم گھمایا جاتا رہا۔تمھاری جمع کردہ بھیک بھی مرغزار کے منتظمین لے اڑتے تھے۔ ہمارے نام پر اکھٹی ہونے والی امداد کا بھی یہی حشر ہوتا ہے۔تمھاری دیکھ بھال کے لیے مختص بجٹ بھی جیبوں جیب غتربود ہو جاتا تھا تو ہماری فلاح کے لیے منظور بجٹ کا بھی یہی حشر ہوتا رہا۔تمھارے حالات پر بھی مقامیوں سے زیادہ غیرملکیوں کا دل پسیجتا رہا ہمارے مسائل پر بھی بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز ہاتھ ملتے ہیں۔
فرق ہے تو بس اتنا کہ تمھارا پنجرہ چھوٹا ہے اور ہمارا پنجرہ کچھ بڑا۔
تم بھی حالات سے تنگ آ کر ہجرت کے خواب دیکھتے رہے۔ ہمارے بھی لاکھوں بچے موقع ملتے ہی اپنی آنکھوں میں خواب سجائے پہلا موقع ملتے ہی ہم سے دور چلے گئے۔بہت سے کامیاب ہوئے اور بہت سے غلامی کی نئی زنجیروں میں جکڑے گئے۔ کچھ کو سنہری زنجیریں ملیں تو بیشتر کو تمھاری طرح آہنی جکڑ بندی۔پیارے کاون! تمہاری رہائی پر میری آنکھوں میں جو چند آنسو اگر ہیں بھی تو وہ خوشی کے ہیں۔
میری دعا ہے کہ جب تم کچھ دن بعد نئے جنگلوں میں زنجیر سے پاک آزادی کے ساتھ چہل قدمی کرو تو تمھارے حافظے سے ماضی کی ہر یاد اڑ جائے اور یادداشت میں صرف حال اور مستقبل رہ جائے۔ابھی تمھیں بہت جینا ہے۔ یہ دُعا یوں کر رہا ہوں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ہاتھی کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے۔حالانکہ تم نے ہماری سر زمین پر جو وقت کاٹا اس کے بعد کہنا تو نہیں بنتا پھر بھی کہے دیتا ہوں کہ اگر مناسب سمجھو تو ہمارے لیے بھی دعا کرنا۔ شاید تمھاری دعا ہی لگ جائے۔۔۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker