ایم ایم ادیبکالملکھاری

سیاسی غلامی،پی ڈی ایم کا جلسہ اور”اسے کہنا دسمبر آگیا ہے!“ ۔۔ ایم ایم ادیب

سیاستدان بن جاتے ہیں،مگر سیاست کسی کے گھر کی لونڈی نہیں بنتی۔ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،عمران خان جن کو سیاسی آدمی بننے میں بائیس سال لگے،مگر دو ہی برس میں سیاست نے انہیں چاروں شانے چِت کردیا،اب وہ جتنے بھی
ہاتھ پاؤں ماریں سیاست کے بل بوتے پر کبھی کھڑے نہیں ہوسکیں گے،ہاں مگر ہمارے یہاں ایک قوت ایسی ہے جس کے سامنے ڈنڈوت بجا لانے سے کبھی اناڑی اور کبھی کھلاڑی کو سیاست میں جگہ مل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ صورت حال میں عمران خان کی ساری توجہ اسی قوت کی ا شیر باد کے حصول پر صرف ہورہی ہے۔انہیں کوئی فکر نہیں کہ عوام کی طاقت کو اپنا ہتھیار بنانے کی کسی جستجو سے گزریں۔حکومت بنا لینے کے بعد سے اب تک وہ ایک دن بھی عوامی طاقت کے کیف و مستی کے احساس کا مزا اٹھانے کے روادار نظر نہیں آئے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ وہ سیاسی لوگوں سے تعلق کی نارسائی کو ذاتی دشمنی تصور کرنے کے قائل رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ انہیں اشتراک عمل کی سیاست سے دور کا بھی واسطہ اور تعلق نہیں رہا۔ادھر اپوزیشن کے مزاج کی گرمی اب شدید تلخی اور برہمی میں تبدیل ہونے لگی ہے۔پی ڈی ایم کی سبھی جماعتوں کے رہنما کسی طرف سے رابطوں کے نہ ہونے کی وجہ سے غم و غصہ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ان کی شہروں شہروں بڑھتی ہوئی پیش قدمی جہاں کرونا وبا کے پھیلاؤ کے دروازے کھول رہی ہے وہاں عوام کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کی موجب بھی بنتی جا رہی ہے۔
کینہ پروری میاں نواز شریف کے مزاج کا حصہ بھی ہے مگر زیادہ تر عسکری قیادت ان کے کینے کا شکار رہی ہے،غالباََ اس کی وجہ یہ احساس کمتری ہے کہ انہیں ہر دور میں فوجی قیادت کے زیر سایہ پلنے پوسنے کا طعنہ سننے کو ملتا رہا ہے۔بہر حال وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی اس کمزوری پر قابو پانا بھی آتا جارہا ہے،گو پچھلے دنوں ان کی زبان بہت پھسلتی رہی ہے،مگر انہوں نے اپنی ہونہار بیٹی کے ذریعے معافی تلافی کرلی۔مگر عمران خان اپنے فطری مزاج سے جان نہیں چھڑا پا رہے،کچھ لوگ ہتھ چھٹ ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعظم زبان چھٹ ہیں۔انہیں خبر نہیں کہ ہاتھ سے لگائی ہوئی ضرب کے نشان مٹ جاتے ہیں مگر زبان کے لگائے ہوئے زخم کبھی نہیں بھرتے۔
کپتان تو ایسے ظالم مزاج ہیں کہ جسے مخالف سمجھتے ہیں اس کی ماں کے سانحہ ارتحال پر بھی لہجے میں نرمی نہیں دکھاتے بلکہ لگتا ہے تعزیت کرنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں اور کسی بیمار کی عیادت تو ویسے ہی ان پر گراں گزرتی ہے۔ ق لیگ کے قائد ایک لمبے عرصے سے صاحبِ فراش تھے کہ جن کی بیساکھیوں پر تحریک انصاف حکومت کا ڈھانچہ استوار ہوا اور ابھی تک اسی کے سہارے کھڑی ہے،ان کے بارے ہمدردی کے دو لفظ وزیر اعظم کی زبان پر نہیں آئے،جبکہ ق لیگ کی طرف سے ریکارڈ پر لائے گئے احتجاج کو بھی قائد تحریک خاطر میں نہ لائے۔آج جو چوہدری شجاعت کی عیادت یاد آئی تو یار لوگ یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ میاں نواز شریف کی پہل نے ان کے دل میں موجود خطرے نے یہ خیال جگایا کہ مرجاں مرنج چوہدری خاندان کہیں اپنی روایتی ساکھ کی خاطر ن لیگ کے ساتھ سیاسی اشتراک عمل کی راہ پر چلنے کی حامی ہی نہ بھر لیں۔لیکن کہنے والوں کی کی اس بات سے بھی سو فی صد اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان عیادت
کے لئے گئے نہیں بھجوائے گئے ہیں کہ میاں نواز شریف نے اوپر والوں کے دل میں جو گرہ ڈالی ہے وہ سیاسی بالڑی کے بالواسطہ رابطوں سے کھلنے والی نہیں۔ان کے خیال میں عمران حکومت کو اپنی مدت اقتدار پوری کرنی چاہیئے،بعد کے حالات کا انحصار عوامی رائے پر ہے کہ وہ کس حد تک عمران خان کے حق میں باقی رہتی ہے جو لمحہ بہ لمحہ ناگفتگی کی جانب رواں دواں ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت فیصلہ سازی کے کسی مرحلے میں دانشمندی اور فراست سے کام لیتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی پالیسی پر عمل درآمد کی کوئی کوئی صورت دکھائی دے رہی ہے،تذبذب کی فضا میں سانس لیتی عمران حکومت کسی معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی،انتقام کی ایک آگ ہے جو چہار سو لگی ہوئی ہے،اسے بجھانے تو کیا ٹھنڈا کرنے کی پیش رفت بھی نہیں کی جارہی۔
پی ڈی ایم کا سیاسی شو جو ملتان میں ہونا ہے اس کے سلسلے میں لوگوں کا شوق اور ولولہ دیدنی ہے۔جیالوں نے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے سٹیڈیم کے تالے توڑکر دو دن پہلے ہی کیمپ لگا لئے ہیں۔دم دمے کے سائے تلے کیسا دما دم ہوتا ہے اس
میں کوئی دیر نہیں۔ ملتان میں ان دنوں سردی پورے عروج پر ہے۔عرش صدیقی نے ملتاں کی سردی کے حوالے سے جو نظم دسمبر میں لکھی تھی
وہ نومبر میں یاد آنے لگی ہے کہ
اسے کہنا دسمبر آگیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس ایک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
مگر جو خون جسموں میں سو جائے گا وہ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی
دیواروں پہ لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں پر سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے
(عرش صدیقی)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker