کالملکھارییاسر پیرزادہ

یاسر پیرزادہ کا کالم : ہمارے فلمی ستارے اور سیلاب زدگان

جب سے ہمارے ملک کے اداکاروں نے انگریزی میں بات کرنی سیکھی ہے تب سے انہیں یہ زعم ہو گیا ہے کہ وہ جو کام کرتے ہیں ٹھیک کرتے ہیں۔
ابھی پچھلے ہفتے ہم ٹی وی نے ایوارڈ شو کا انعقاد کیا، یہ تقریب ٹورنٹو میں ہوئی، دو مہینے سے اس تقریب کا چرچا جاری تھا، اداکاروں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا کہ ہم ایوارڈ میں شرکت کے لیے ٹورنٹو جا رہے ہیں۔ بزنس کلاس میں سفر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی تصاویر اپ لوڈ کیں، ٹورنٹو میں مستیاں کیں اور پھر تقریب میں مصنوعی انداز میں خوشی سے (انگریزی میں ) چیختے ہوئے ایوارڈ بھی وصول کیا کہ یہی ان فلمی ستاروں کے نزدیک انسانیت کی معراج تھی۔
چلیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ خوش رہیں، ویسے بھی پاکستان میں فلم انڈسٹری تو ہے نہیں، ٹوٹی پھوٹی سی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری ہے جسے ہمیں سہارا دینا چاہیے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ آدھا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، لاکھوں کھلے آسمان تلے بے یار و مدد گار پڑے ہیں، ان کا گھر بار، مال، مویشی سب پانی میں بہہ چکا ہے، موسمیاتی بربادی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے، پوری دنیا میں ہم دہائی دیتے پھر رہے ہیں کہ اس تباہی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں لہذا اس سے نکلنے میں مدد کی جائے، ان حالات میں ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اٹھ کر ٹورنٹو ایسے چلی گئی جیسے اگر انہوں نے ٹورنٹو نہ دیکھا تو ماما پاپا انہیں دوبارہ جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اللہ جانتا ہے کہ میں یہ کالم نہیں لکھنا چاہتا تھا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری جیسی بھی ہے، قابل رحم ہے۔ فلمیں تو یہاں بنتی نہیں، لے دے کے ہمارے پاس چند ٹی وی ڈرامے اور اکا دکا ستارے ہیں، اگر ہم ان کے خلاف بھی تلواریں سونت کر کھڑے ہوجائیں گے تو یہ بیچارے کدھر جائیں گے۔ مگر پھر خدا کا کرنا یوں ہوا کہ انجلینا جولی پاکستان پہنچ گئی، اس نے سیلاب زدہ قصبوں اور دیہات کا دورہ کیا، لٹے پٹے لوگوں کے ساتھ مل کر اظہار یک جہتی کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے لیے پاکستان کے مقدمے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ مزید کچھ کہنے سے پہلے یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ انجلینا جولی نے پاکستان آ کر بہترین کام کیا، وہ درد مند دل رکھنے والی عورت ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اپنے لوگوں کے فلاحی کاموں پر فوقیت دیں۔ ہمارے لوگوں، خاص طور سے مذہبی فلاحی تنظیموں، این جی اوز اور انفرادی سطح پر درد مند افراد، نے سیلاب زدہ علاقوں میں بے پناہ کام کیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
اب اپنے موضوع کی جانب واپس آتے ہیں۔ انجلینا جولی کی آمد کے بعد تو سوشل میڈیا پر گویا طوفان برپا ہو گیا، لوگوں نے پاکستانی اداکاروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور انجلینا جولی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ایک غیر ملکی اداکارہ تو پاکستان میں ہے جبکہ پاکستانی اداکار غیر ملک میں شوخیاں کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایوارڈ شو میں شرکت کرنے والوں کو اعلان کرنا پڑا کہ شو کی ٹکٹوں کی فروخت میں سے ’کچھ حصہ‘ سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیا جائے گا۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستانی اداکاروں کو اس بات کی رعایت دینی چاہیے کہ وہ اس ایوارڈ شو کو منسوخ نہیں کر سکتے تھے، اس قسم کی تقریبات کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی جاتی ہے، سپانسرز کو تیار کیا جاتا ہے، ملبوسات کا آرڈر دیا جاتا ہے، ٹکٹیں خریدی جاتی ہیں، ہوٹل میں کمروں اور ہال وغیرہ کی پیشگی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اگر ایسی تقریب کو اچانک منسوخ یا ملتوی کر دیا جائے تو کروڑوں روپوں کا نقصان ہوتا ہے جو کوئی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اگر ہم اپنے اداکاروں کو یہ رعایت دے بھی دیں تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ ان اداکاروں کو سیلاب زدگان کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا، ٹکٹوں کی فروخت کا ’کچھ حصہ‘ سیلاب فنڈ میں عطیہ کرنے کی بات انہوں نے آفٹر تھاٹ کے طور پر تب کی جب سوشل میڈیا نے انہیں بے نقاب کیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹورنٹو جانے سے پہلے ہی یہ لوگ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے اور اپنی مجبوری بتاتے کہ تقریب کو منسوخ کرنا ممکن نہیں البتہ ہم نہ صرف اس پروگرام کی تمام آمدن سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیں گے بلکہ خود بھی بزنس کلاس میں سفر کرنے کی بجائے اکانومی میں سفر کریں گے تاکہ اس بچت کا فائدہ بھی سیلاب زدگان کو ہو۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے کچھ اداکاروں نے تنقید کے جواب میں تمسخرانہ انداز اپنایا اور انجلینا جولی کو انجی باجی کہہ کر جگتیں بھی لگائیں۔ اظفر رحمان وہ واحد اداکار ہے جس نے سیلاب کی وجہ سے ٹورنٹو جانے سے معذرت کی مگر اس پر بھی ایک ساتھی اداکار نے پھبتی کسی کہ وہ بزنس کلاس کی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے نہیں گیا۔ اس قسم کے رویے سے ہمارے اداکاروں کی نیت اور سوچ کا اندازہ ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا دفاع ممکن نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے فلمی ستاروں نے نئی نئی انگریزی بولنی سیکھی ہے، اس سے پہلے یہ رواج نہیں تھا، پہلے ہم سلطان راہی اور انجمن کی فلمیں دیکھتے تھے اور اگر خود کو ’جینٹری‘ میں شمار کروانا مقصود ہوتا تو ندیم اور شبنم کی پکچر دیکھ لیتے۔ انگریزی ماحول سے یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب ہمارے فلمی ستارے خود کو چھوٹا موٹا دانشور بھی سمجھنے لگے ہیں اور اپنی سہولت کے مطابق ان سماجی معاملات پر ’سٹینڈ‘ لینے کی کوشش کرتے ہیں جن میں کسی طاقتور طبقے، فرد یا نمائندے پر تنقید نہ کرنی پڑے۔
میں تو اسے بھی غنیمت ہی سمجھتا ہوں مگر یہ رعایت صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے اگر ہمارے فلمی ستارے اپنی غلطی تسلیم کریں۔ غلطی تسلیم کرنے کا مطلب صرف منہ سے ’سوری‘ کہنا نہیں ہوتا بلکہ نیت نیتی سے یہ یقین دلانا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہے لہذا ہمیں بتایا جائے کہ اس غلطی کو درست کرنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ میری رائے میں ان فلمی ستاروں کو چاہیے کہ ٹورنٹو میں ہی ایک پریس کانفرنس کریں اور بتائیں کہ انہیں شو سے کتنی آمدن ہوئی اور پھر موقع پر ہی وہ ساری آمدن سیلاب زدگان کے لیے قائم شدہ فنڈ میں عطیہ کر دیں۔ یہ کوئی انقلابی تجویز نہیں، اس قسم کی تجاویز ہم اکثر اپنے سیاست دانوں کو دیتے رہتے ہیں، اس مرتبہ کیوں نہ فلمی ستاروں سے یہ کام شروع کیا جائے!

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker