کالملکھارییاسر پیرزادہ

یاسر پیرزادہ کامکمل کالم:شادی سے پہلے لڑکی’چیک‘ کرنے کا طریقہ

”شادی سے پہلے لڑکا ’چیک‘ کرنے کا طریقہ“لکھنےکے بعد اب پیش ہے ’لڑکی‘ کے چناؤ کا طریقہ۔لڑکا چیک کرنے کے جو طریقے خاکسار نے گزشتہ کالم میں بتائے تھے اُن پر کچھ قارئین نے اعتراض کیا ہےکہ اگر وہ تمام طریقے اپنائے جائیں تو پھر کسی لڑکی کی شادی نہیں ہو سکے گی لہذاآئیڈیل لڑکا تلاش کرنے کی بجائے کوئی مناسب سا رشتہ ڈھونڈ کرلڑکی کو بیاہ دینا چاہیے ۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے لڑکیوں کو یہ مشورہ کیوں دیا کہ وہ اُس بندے سے شادی کریں جس کے پاس گاڑی وغیرہ ہو، اِس طرح تو غریب بندے کنوارے رہ جائیں گے جوبڑی زیادتی کی بات ہے،ویسے بھی شادی کے شروع میں ہر لڑکا کہاں اتنا کماتا ہے ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی ترقی ہوتی ہے۔تیسرا اعتراض یہ سامنے آیا کہ آزاد خیال اور عورت کی برابری کے قائل لڑکے بھی ذہنی مریض نکل آتے ہیں لہذا یہ کوئی دلیل نہیں کہ لڑکی کے لیے ہمیشہ ’فیمنسٹ‘ ذہن کا لڑکا ہی تلاش کیاجائے۔جہاں تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے تو گزارش یہ ہے کہ بات آئیڈل لڑکے کی نہیں بلکہ اُس ’چیک لسٹ‘ کی ہے جو رشتہ کرتے وقت بنائی جاتی ہے ۔ آپ چاہے کسی وچولن کو رشہ تلاش کرنے کے لیے کہیں یا کسی ویب سائٹ کے ذریعے یہ کام کریں، ہر دو صورتوں میں آپ کو اپنی ترجیحات بتانی پڑیں گے جو لڑکے کی شکل و صورت، ماہانہ آمدن ، حسب و نسب، غیر ملکی شہریت ،ساس کا رویہ ،نندوں کی تعداد، ذاتی جائیداد،کاروباروغیرہ ،کچھ بھی ہوسکتی ہیں۔میری رائے میں یہ چیک لسٹ اُس وقت تک نامکمل ہے جب تک اِس میں وہ باتیں نہ شامل کی جائیں جس سے لڑکے کی ذہنی اُپچ کا اندازہ ہو سکے۔ آئیڈیل کہیں نہیں ملتا، دستیاب سامان میں سے ہی انتخاب کرناپڑتا ہے،خاکسار نے فقط یہ بتایا تھا کہ اُس اِنتخاب کو بہترکیسے بنایا جا سکتا ہے۔جہاں تک دوسرےاعتراض کی بات ہے تو یہ بات معاشرے کے متوسط اور قدرے متمول طبقے کے بارے میں لکھی گئی تھی جس کا مقصد یہ بتاناتھاکہ فقط محبت سے پیٹ نہیں بھرتا، اشارہ اِس جانب تھا کہ لڑکا چاہے امیر ہو یا غریب ،اتنا ضرور کماتا ہو کہ لڑکی بنیادی ضرورتیں پوری کرسکے، کسی طبقے کے لیے گاڑی بنیادی ضرورت ہے اور کسی کے لیے موٹر سائیکل، اب اگر یہاں میں سائیکل کا ذکر نہیں کروں گا تو کیا اِس پر بھی اعتراض ہوگا کہ میں نے نچلے طبقے کی پروا نہیں کی؟اور رہی تیسری بات کہ ذہنی مریض لڑکےاُس طبقے میں بھی نکل آتے ہیں جس کا میں نے ذکر کیا تو گزارش ہے کہ استثنیٰ ہر جگہ اور ہر بات میں ہوتا ہے ،کسی استثنیٰ کی بنیاد پر اصولی بات کو رد نہیں کیا جاسکتا، اصول یہ تھاکہ لڑکا وہ چنیں جو عورت اور مرد کی برابری کا قائل ہو اور یہ جاننے کے لیے اُس کا ذہن پڑھنے کی کوشش کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ کوشش ناکام بھی ہوسکتی ہے لیکن کیا پھرکوشش ہی نہ کی جائے!
اب سوال یہ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی کیسے ’چیک‘ کی جائے؟ ویسے میری نظر میں یہ سوال غیر ضروری ہے کیونکہ روزِ اوّل سے اِس دنیا میں صرف لڑکی کو ہی تو ’چیک‘ کیا جاتارہا ہے،آج بھی لڑکے کی ماں اوربہنیں، سب چائے پینے کے بہانےلڑکی کی پڑتا ل ہی تو کرتے ہیں!اب نئے زمانے میں لڑکے سےدو چار باتیں پوچھنے کا رواج شروع ہوا ہے ورنہ پہلے تو بس اتنا بتانا ہی کافی ہوتا تھا کہ لڑکا ہے اور فلاں خاندان سے ہے۔ ہر لڑکا چاہتا ہے کہ لڑکی شریف، باکردار، سلیقہ مند ، سمجھدار ،سگھڑ اور خوبصورت ہومگرخود لڑکےکے لیے اِن خصوصیات کا حامل ہونا ضروری نہیں ، اسی لیے اکثر آوارہ لڑکوں کے والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ بیٹےکی شادی کردیں خود ہی ٹھیک ہوجائے گا، گویا آنے والی دلہن ایک تجربے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، کامیاب ہوگیا تو ٹھیک، ناکام ہوگیا تو کوئی بات نہیں ’لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور۔‘اصولاً ہمیں لڑکی کواسی پیمانے پر جانچنا چاہیے جس پر ہم نے لڑکے کو پرکھنا ہولہذا ضروری ہے کہ لڑکابھی شادی سے پہلے تسلّیٰ کرلے کہ لڑکی کے مذہبی ،سیاسی اور جنسی رجحانات کیا ہیں اور کیا دونوں سماجی اور ذہنی اعتبار سے ہم آہنگ ہیں ؟ جن لوگوں کو آج یہ باتیں عجیب لگ رہی ہیں انہیں تیس چالیس سال پہلے محبت کی شادی بھی ایسے ہی عجیب لگتی تھی اور اب یہ حال ہے کہ والدین شکر ادا کرتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی نے ایک دوسرے کو پسند کرلیا ہے۔شادی سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ، کچھ طبی ٹیسٹ ایسے ہیں جو اگر قانوناً لازمی قرار دے دیے جائیں تو سب کا بھلا ہوجائےگا، جیسے کہ تھیلسیمیا کا ٹیسٹ، اِس سے جنیاتی نوعیت کی بیماریاں بچے میں منتقل ہونے کے امکانات کا پتا چلایا جا سکتا ہے ، پنجاب حکومت نے کوشش کی تھی کہ یہ ٹیسٹ لازی قرار دے دیا جائےمگر کامیابی نہیں ہوئی۔یہاں کزن میرج کی بات کرنا بھی ضروری ہے ، اکثر ایسی شادیوں میں یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ ذہنی یا جسمانی طور پر تندرست نہ ہو، لہذا شادی کی چیک لسٹ بناتے وقت پہلی بات یہ نشان زد کر لیں کہ لڑکا اور لڑکی آپس میں کزن نہ ہوں۔
مجھے اندازہ ہے کہ آپ کو یہ باتیں پڑھ کر مایوسی ہوئی ہوگی کیونکہ آپ،اگر مرد ہیں، تو فقط یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوں گے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو کیسے چیک کیا جائے او ر اِس ضمن میں آپ کے ذہن میں ایک ہی بات ہوگی اورمیں چونکہ آپ کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ ایک مرد کا دماغ کیسے کام کرتا ہے اِس لیے اچھی طرح علم ہے کہ وہ ایک بات کیا ہے۔تاہم مجھے افسوس ہے کہ جو سوال آپ کے دماغ میں ہے اُس کا جواب میں نہیں دے سکتا۔ویسےبھی میں برابری کے اصول کا قائل ہوں، یعنی اگر کسی مرد کی ’غیرت‘ یہ اجازت نہیں دیتی کہ شادی سے پہلے اسے ’چیک‘ کیا جائے توپھر اُس مرد کو بھی کسی عورت کی جانچ کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اور اگر آپ سنجیدگی سے جاننا چاہتے ہیں کہ لڑکی میں کیا گُن ہونے چاہئیں توپھر یہ دیکھنا کافی ہے کہ لڑکی کتنی پڑھی لکھی اور خود مختار ہے ،اگر اُس میں یہ خوبیاں ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ اُس کے والدین نے اُس کی پرورش درست طریقے سے کی ہے ، اسے پُر اعتماد بنایا ہے اور اسے یہ یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے اچھے برے کا فیصلہ کرسکتی ہے ۔ لوگ عموماً سمجھتے ہیں کہ ایسی لڑکیاں دب کرنہیں رہیں گی، وہ ٹھیک سمجھتے ہیں ، انہیں دبا کررکھنا بھی نہیں چاہیے، پڑھی لکھی اور پر اعتماد لڑکیاں اپنے شوہر کی بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہیں ، اُن میں سے اگر کوئی ایسی بھی نکل آئے جس کا دماغ زیادہ ہی خراب ہو تو فکر کی بات نہیں ، آج تک کسی لڑکی کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ اُس نے اپنے شوہر کاسر کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا ہو ۔یہ ’اختیار‘ہمارے معاشرے میں صرف مردوں کو ہی حاصل ہے۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker