جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے اُس زمانے میں ہمارے دماغ میں اپنے ملک سے متعلق ایک خاص قسم بیانیہ تھا ، یہ بیانیہ دو قومی نظریے ،ہندوستان دشمنی ، مہا محب الوطنی اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے،جیسے نعروں پر مشتمل تھا ۔ ریاست نے یہ بیانیہ تشکیل دیا تھا، نصاب میں یہی بیانیہ ہمیں رٹایا جاتا تھا، دائیں بازو کے دانشور اِس بیانیے کا پرچار کرتے تھے، بچوں کو اسی بیانیے سے جُڑی کہانیاںسنائی جاتی تھیں اور اخبارات میں اِس بیانیے کی منظم مگرغیر محسوس انداز میں ترویج کی جاتی تھی۔اوّل تو ہمیں کبھی اِس بیانیے کی مخالفت میں کوئی آواز ہی سنائی نہیں دیتی تھی کیونکہ ہم اپنے جیسے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے، ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتے تھےاور اتفاق رائے سے باہمی نظریات کی تصدیق کرتے رہتے تھے، لیکن اگر بھُولے سے کوئی ایسا شخص ہماری محفل میں آجاتا جس کو روایتی بیانیےسے اختلاف ہوتا تو ہم پنجے جھاڑ کر اُس کے پیچھے پڑ جاتے ، اُس کا تمسخر اڑاتے ،اپنی مرضی کے اعداد و شمار منتخب کرکے اسے خاموش کروا دیتے اور اُس کے جانے کے بعد افسوس کرتے کہ کیسا بد نصیب شخص ہے جس کو دیوار پر لکھا ہوا سچ دکھائی نہیں دیتا۔مجھےلگتا ہے کہ ہماری نسل سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگوں کی یہی کہانی ہے ،خاص طور سے پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ،جن کے دماغ میں یہ ’سٹیٹ سپانسرڈ‘ بیانیہ ڈرل مشین کے ذریعے سوراخ کرکے برسوں تک انڈیلا گیا۔لیکن اللہ کی شان دیکھیں، جو دانشور اِس بیانیے کے پرچارک تھے اور آئے دن اِس بیانیے کی حمایت میں پُر جوش مگر حقائق کے منافی تقریریں کرتے تھے، ٹی وی چینلز پر چنگھاڑتے ہوئے جن کی باچھوں تک کف بھر آتے تھے، سماجی اور سیاسی تقریبات میں گفتگو کرتے ہوئے منہ سے جھاگ نکل پڑتی تھی،آج وہ نام نہاددانشور غیر محسوس طریقےسے اِس بیانیے سے تائب ہورہے ہیں مگر اِس چالاکی کے ساتھ کہ ’خوب پردہ ہے کہ چِلمن سے لگے بیٹھے ہیں،صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ۔‘
پاکستان میں جس طرح اور بہت سے کام نہایت آسان ہیں ، اسی طرح دانشور بننا بھی زیادہ مشکل نہیں ، آپ کو بیس پچیس منٹ کی ایک تقریر یاد کرنی ہے جو بارہ مصالحوں کی چاٹ ہو، اُس میں امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کا بیان ہو ، مغرب کی چکا چوند پر اقبالی تنقید ہو،اپنے گمشدہ میراث کی بازیابی کا عزم ہو،عالمی طاقتوں کی ظالمانہ کاروائیوں کا بیان ہو،ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی خوشحالی کا موازنہ ہو اور آزاد فکر کے حامل پاکستانیوں پر فتویٰ لگانے کاحسب ضرورت مواد ہو۔یہ تقریر آپ نے تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ ہر جگہ ایسے چلانی ہے جیسے سردیوں میں مالٹوں کا جوس بیچنے والے اپنی ریڑھی پر ٹیپ ریکارڈر چلاتے ہیں۔اُس کے بعد آپ کو دانشور بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔یقین نہیں آتا تو اُن تمام دانشوروں کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں جنہوں نے ریاستی بیانیے کی بنیاد پر سالہاسال تک اپنی دکان چمکائی اور یہ منجن بیچا کہ ہم مسلمانوں نے یہ ملک لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیا،ہم ایک ہی محلے میں رہتے تھے ، ایک ہی ساگ کھاتے تھے، ایک ہی بھنگڑا ڈالتے تھے،مگر پھر ایک دن محمد نذیر نے رام چندر کوکہا کہ تو میرا بھائی نہیں ہوسکتا ،بس اسی دن اِس ملک کی بنیادپڑ گئی ، وغیرہ وغیرہ۔ بچپن میں چونکہ ہم بھی اِس بیانیے کے اسیر تھے سو ہمیں بھی آزادی حاصل کرنے میں کئی برس لگ گئے ۔مگر آج اللہ کا کرنا یہ ہوا ہے کہ جن پنجابی دانشوروں نے دہائیوں تک اِس بیانیے کو سینے سے لگائے رکھا اب اُنہوں نے اپنا قبلہ تبدیل کرلیا ہے ، آج یہ اِس بیانیے کا راگ نہیں الاپتے ، آج یہ امرتسر اور لدھیانے کو روتے ہیں، اپنے آباؤ اجداد کے قصے سناتے ہیں اور متحدہ ہندوستان کو رومانوی انداز میں یاد کرکے آہیں بھرتے ہیں ۔یقین کریں کہ مجھے اِس پر کوئی اعتراض نہیں ، متحدہ ہندوستان کی تقسیم ایک اندوہناک واقعہ تھامگر اُس المیے میں جن لاکھوں انسانوں کی جانیں گئیں اُن سے نہ کبھی قربانی مانگی گئی اور نہ انہوں نے کسی تابناک مستقبل کی خاطر بخوشی اپنی عورتیں اور بچے قربان کیے۔ وہ لاکھوں جانیں مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھیں ،انہیں قربانیوں کا نام دے کر اپنے بیانیے کو جواز بخشنا، نرم سے نرم الفاظ میں بھی ایک کریہہ فعل تھا اورہمارے بزرگ لکھاری، نہایت ڈھٹائی کے ساتھ، فقط اپنے زور قلم پر، اِس گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے رہے ۔ آج وہ متحدہ ہندوستان کو یاد کرکے ٹسوے بہا رہے ہیں تو اتنی شرم بھی نہیں کر رہےکہ اپنے ماضی کے بیانات پرافسوس ہی کرلیں۔ اِن دانشوروں کا اپنا تراشا ہوا بُت جب چکنا چور ہوچکا ہے اور یہ پاکستان سے نامید اور مایوس ہو چکےہیں تو اُن سے پوچھا جانا چاہیے کہ اپنے گمراہ کُن افکار اور نظریات سے، جو انہوں نے پوری ایک نسل کے ذہنوں میں زہر کی طرح گھولے، کیا وہ اعلان برات کریں گے؟
اب بات اور آگے نکل چکی ہے۔ریاست نے جس بیانے کی کاپی اِن دانشوروں کے ہاتھوں میں تھمائی تھی ،وہ کاپی چند سال پہلے ایک اور شخص اُچک کر لے گیا، اُس شخص نے اِس بیانیے کو ایک نئے انداز سے بیچا، اِس میں جو مصالحہ کم تھا اُس کا اضافہ کردیا اور پھر اسے ہلکی آنچ پر رکھ دیا، وہ روزانہ اُس کا تڑکا لگاتااور گاہے بگاہے ذائقہ بہتر بنانے کے لیے مختلف اجزا کی کمی بیشی کرتا رہتا ، اِس صبر آزما مشقت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو بیانیہ اِس سے پہلے صرف دائیں بازو کے مخصوص طبقے میں مقبول تھا اب ماڈرن لوگوں کے لیے بھی قابل قبول ہوگیا۔ نوجوانوں کے لیے اُس بیانیے میں ارتغرل غازی آگیاتو مذہبی طبقے کے لیے ریاست مدینہ، ماڈرن عورت کے لیے برطانوی نظام کا چُورن ڈالا گیا تو کرپشن سے بیزار اربن مڈل کلاس کے لیے چین کا معاشی ماڈل ۔ اِس سے اُن تمام دانشور وں کو،جو روایتی بیانیے کی دُکان پر گاہکوں کے انتظار میں مایوس بیٹھے تھے ، ایک نئی زندگی مل گئی اور وہ جوق در جوق اِس ترمیم شدہ بیانیے کی کاپیاں خریدنے اپنے نئے محبوب کے در پر پہنچ گئے۔انہیں نہ صرف اِس بیانیے کی کاپیاں فراہم کی گئیں بلکہ طریقے بھی بتائے گئے کہ کیسے اِس بیانیے کا جدید انداز میں ابلاغ کرنا ہے، اِن دانشوروں نے حسب روایت لبیک کہا اور نوکری میں جُت گئے۔اب اُن کے پاس اِس بیانے کے پیچھے کھڑا ایک کرشماتی لیڈر بھی تھا، لوگوں نے لیڈر کی محبت میں اِن دانشوروں کی چاندی بھی کروا دی، یہ views اور subscribersکے الٹ پھیر میں پڑ گئے اور ایک مرتبہ پھر اسی طرح اپنے مخالفین کا ٹھٹھہ اڑایا ، تبرّا اور فتوے صادر کیے،کیا جو اُن کا وتیرہ تھا۔لیکن پھر ایک عجیب بات ہوئی، جس بیانیے پر ریاست کی اجارہ داری تھی وہ بیانیہ ہائی جیک ہوگیا،یعنی پہلے ریاست جس بیانیے کی بنیاد پر لوگوں کو محب وطن اور غدار قرار دیتی تھی ، آج وہ بیانیہ ریاست کے ہاتھ سے نکل کر ایک شخص کی ذات کے ساتھ جڑچکاہے ، یہ بیانیہ اب کسی نظریے کا محتاج نہیں ، ضروری نہیں کہ اب اِس بیانیے میں وہی روایتی بارہ مصالحے ڈالے جائیں تو لوگ اسے قبول کریں گے، اب یہ بیانیہ اُن روایتی مصالحوں سے ماورا ہوچکا ہے ۔لیکن خیال رہے کہ یہ ترمیم شدہ بیانیہ اور اِس کی ہائی جیکنگ ہمارا موضوع نہیں ، ہمارااصل موضوع وہ نوائے وقتی بیانیہ ہے جو ایک خاص قسم کی حب الوطنی ڈیمانڈ کرتا تھا، اُس بیانیے کے تحت بڑی رعونت سے یہ کہا جاتا تھا کہ جن لوگوں کو ہندوستان کی تقسیم پسند نہیں وہ اپنا بوریا بستر اٹھائیں اور واہگہ کے پار چلے جائیں۔جن دانشوروں نے اِس بیانیے کی آبیاری کی ، آج وہ اپنے منہ سے متحدہ ہندوستان کے غم میں گھُل کر نڈھال ہورہے ہیں اور اُس بیانیے کے ہر حرف سے مکر گئے ہیں جس کی بنیاد پر وہ محفلوں میں شعلہ بیانی کیا کرتے تھے ۔
آج ریاست کو ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے ، اِس لیے نہیں کہ ریاست اُس کی بنیاد پر اپنی اجارہ داری دوبارہ قائم کرلے بلکہ اِس لیے کہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے ۔دانشوروں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ پچھہتر برس میں جس بیانیے نے ہمیں اِس حال تک پہنچایا اگر ہم اسے درست کرنے کی کوشش کریں تو اُس کی شکل کیا ہوگی؟ اِس فقیر کی رائے میں یہ شکل ایک ایسے پاکستان کی ہوگی جو خالصتاً جمہوری اور سیکولر بنیادوں پر قائم ہو اور ایک کثیر الثقافتی (pluralistic) معاشرے کی تمام خصوصیات رکھتا ہو۔جن لوگوں کو سیکولرازم کا لفظ کھلتا ہے اور وہ پاکستان کی اِس تعبیر سے اتفاق نہیں رکھتے،انہیں چاہیے کہ وہ کسی ایسے نئے بیانیے کے خدو خال بیان کریں جن کی مدد سے پاکستان کی سمت درست کی جا سکے۔ لیکن خیال رہے کہ اِس میں ’پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور دو قومی نظریہ ‘ٹائپ باتیں نہ ہوں،کیونکہ اِس بیانیے کے شئیر ہولڈر تو اپنے حصص فروخت کرکے کہیں اور سرمایہ کاری کرچکے۔اب آپ کوئی نئی معجون دریافت کریں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

