ملک میں اِس وقت نیک روحوں کا جمعہ بازار لگا ہے ، اخلاص و ایمان کی دولت سے مالا مال لیڈران عوام کی خدمت کے لیے تڑپ رہے ہیں،آئین اور قانون کی پاسداری کی قسمیں کھائی جا رہی ہیں، کہیں سے فتح مکہ کا اعلان ہورہا ہے تو کسی سِنگھاسن سے ملک کو بچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں ۔یقین مانیں میں تو بہت خوش ہوں کہ اِس قوم کے نصیب جاگے اور بالآخراسے اتنے مخلص ، با ضمیر،راست باز اور پاک دامن رہنما میسر آئے ۔نہ کسی کے دامن پہ کوئی چھینٹ ہے نہ خنجر پر کوئی داغ، ایسے کرموں والے لیڈر تو صدیوں بعد قوموں کی زندگی میں آتے ہیں ۔اور لیڈر تو ایک بھی کافی ہوتا جبکہ ہمارے پاس تو پوری فوج ہے ۔اب ایسے میں بھی کوئی خوش نہ ہو تو یہ نا شکری کے زُمرے میں آتا ہے۔لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ میرے مُرشِد نے مجھے ایک بات سکھائی تھی کہ کسی کے دعوے پر یقین کرنے سے پہلے اُس کا عمل ضرور دیکھ لینا۔یہ بات مجھے زندگی میں دیر سے سمجھ آئی ، تب تک میں کافی نقصان اٹھا چکا تھا لیکن اُس کے بعد سے جب بھی میں نے یہ کلیہ آزمایا ہے ،حیرت انگیز نتائج نکلے ہیں۔اِس سے پہلے کہ یہ کلیہ اپنے ملک پر لاگو کریں ، پہلے اسے کسی دوسرے ملک پر استعمال کرکے دیکھتے ہیں ، سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
”میرے عزیز ہم وطنو، آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ دن ہے ، آج ہماری سرزمین پر جو دہشت گرد حملہ ہوا اُس کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ ہر ایک سے جواب طلبی ہوگی اوراِس جواب طلبی سے میں خود کو بھی مستثنیٰ نہیں سمجھتا، لیکن یہ سب کچھ جنگ کے بعد ہوگا۔وزیر اعظم کی حیثیت سے، میں ملک کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوں اور فی الحال یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی ریاست اور عوام کو اپنے دشمنوں پر شکست دینے والی فتح کی طرف لے جاؤں۔۔۔ہم مل کر لڑیں گے اور مل کر جیتیں گے۔‘‘یہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی تقریر کا اقتباس ہے جواُس نے حماس کے حملے کے بعد کی ۔اگر کوئی مخلوق مریخ سے آ کر یہ تقریر سنے تو اسے لگے گا کہ واقعی بنجمن نیتن یاہو ایک عظیم رہنما ہے جووزیر اعظم ہونے کے باوجود خود کو قانون سے ماورا نہیں سمجھتا بشرطیکہ اُس مخلوق کو نیتن یاہو کے اُن اقدامات کا علم نہ ہو جو اُس نے اسرائیل میں اعلیٰ عدلیہ کے پر کاٹنے کے لیے کیے تھے ۔چلیے اسے چھوڑ دیں، وہ اسرائیل کاداخلی معاملہ ہے ، خارجہ محاذ پر اسرائیل کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں ۔اِن بیانات کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل عالمی قانون کی پاسداری کرتا ہے ، جنگی قوانین کا احترام کرتا ہے ، جمہوری روایات کا علمبردار ہے ، وغیرہ وغیرہ۔کیا اسے سچ مان کر اسرائیل کی دہشت گردی کو جواز فراہم کیا جا سکتا ہے ؟مزید آگے بڑھتے ہیں۔ ایکسپرمیں ایک کھاتے کا تعاقب کرتا ہوں (بولے تو ایک اکاؤنٹ فالو کرتا ہوں) جو دنیا بھر میں انسانوں کے لیے آزادی ،مساوات اور حق خود ارادیت کے لیے کوشاں ہے،گزشتہ دنوں اِس اکاؤنٹ نے کمال کی ٹویٹ جاری کی ۔
”نازی کہا کرتے تھے کہ اُن کی نسل سب سے اعلیٰ ہے۔
صیہونی بھی کہتے ہیں کہ اُن کی نسل منتخب کردہ ہے۔
نازیوں نے یہودیوں سے زمین اور جائیداد چرائی۔
صیہونیوں نے فلسطینیوں سے زمین اور املاک چھینیں۔
نازیوں نے یہودیوں کو بھوکامارا۔
صیہونی، فلسطینیوں کو بھوکا ماررہے ہیں۔
نازی، یہودیوں کے ساتھ چوہوں اور کیڑوں مکوڑوں کی طرح برتاؤ کرتے تھے۔
صیہونی بھی فلسطینیوں کے ساتھ ایسا ہی غیر انسانی برتاؤ کر رہے ہیں۔
نازیوں نے یہودیوں کی نسل کواپنی سرزمین سے بے دخل کردیا۔
صیہونی اب فلسطینیوں کی نسل کُشی کرکے انہیں بے دخل کر رہے ہیں ۔
نازی، مسلسل پروپیگنڈا کرنے والے۔
صیہونی،مسلسل پروپیگنڈا کرنے والے۔
نازی بھی یورپ سے کہتے تھے تم لوگ اِن یہودیوں کو کوئی کیوں نہیں لے لیتےجن کے درد میں ہلکان ہوئے جا رہے ہو۔
صیہونی بھی عرب ممالک سے یہی پوچھتے ہیں کہ تم اِن فلسطینیوں کو گود کیوں نہیں لے لیتے جنہیں ہم بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔
نازی کہا کرتے تھے کہ یہودی بچے بھی برابر کے مجرم ہیں۔
صیہونی بھی یہی کہتے ہیں فلسطینی بچے بھی برابر کے مجرم ہیں۔
نازیوں نےیہودیوں کے خلاف نسل کشی کی۔
صیہونی اب فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہے ہیں۔‘‘
میرا خیال ہے کہ اِس کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ دعوے اور حقیقت کے درمیان فرق کو بے نقاب کرنے کا اِس سے بہتر اظہار میں نے آج تک نہیں پڑھا۔یہ مثال اِس لیے دینی ضروری تھی کہ اسرائیل کے بارے میں تھی لہذا سمجھنے میں آسانی ہوگئی۔اپنے ملک میں واپس آتے ہیں۔یہاں نیکی کے پُتلے اتنی زیادہ تعداد میں دستیاب ہیں کہ ہر کسی پر علیحدہ سے یہ کلیہ استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔ویسے بھی یہاں آپ جونہی کسی لیڈر کے دعوؤں کی پڑتال شروع کریں گے اُس کے چاہنے والے لٹھ لے کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے ۔لیکن اِس کے باوجود کچھ نہ کچھ کلمہ حق تو کہنا بنتا ہے’ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔‘اِس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ مارکیٹ میں اِس وقت جتنے بھی مہان کلاکار ہیں اُن کے بیانات باآواز بلند پڑھے جائیں، آپ کو لُطف آجائے گا، یوں لگے گا جیسے اقوام متحدہ یا یورپین یونین کا انسانی حقوق کا چارٹر پڑھا جا رہاہے۔مگر اُس کے ساتھ ہی اِن عظیم ہستیوں کے اقدامات کی فہرست بھی نکال لی جائے تو طبیعت مزید بشاش ہوجائے گی، اُن کے دعوؤں اور اعمال میں لگ بھگ اتنا ہی فرق نکلے گا جتنا اسرائیل کے امن کی حمایت میں جاری کیے جانے والے بیانات اور عملاً جنگی اقدامات میں ہے۔ممکن ہے آپ میں سے کچھ لوگوں کو اسرائیل کی مناسبت سے یہ بات سخت لگے ،لیکن حاشا و کلامقصد کسی کے محبوب قائد کو اسرائیل سے تشبیہ دینا ہرگز نہیں ، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اگرآپ اپنی اجتماعی اور ذاتی زندگیوں میں اِس کلیے کو یاد رکھیں گے کہ لوگوں کے دعوؤں کو اُن کے اعمال کی روشنی میں جانچنا چاہیے ،تو آپ کی دونوں زندگیاں سہل ہوجائیں گی۔آزمایش شرط ہے!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

