ادبافسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد کا افسانہ: یاسمین پر کیا بیتی ؟

ٓآج عدالت میں بڑی گہما گہمی تھی ، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے خاصی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ٹی وی پر بھی مسلسل کوریج کی جارہی تھی۔ کمرہ عدالت جو لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہا تھا، لوگ مسلسل باتیں کر رہے تھے ، جس کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ کہ اچانک جج صاحب کی آمد نے ماحول کو یک دم بدل کر رکھ دیا کچھ دیر پہلے تک جہاں شور سنائی دے رہا تھا اب وہاں بلا کی خاموشی تھی۔ آج دراصل مشہور یاسمین اغواء کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا، گو کہ معاملہ اغواء اور فروخت کئے جانے کا عام سا تھا مگر مدعیہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی اس نے اپنے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جس کا نتیجہ آج اسے عدالتی فیصلے کی شکل میں ملنے والا تھا۔
جج صاحب نے کارر وائی کا باقاعدہ آغاز کیا اور سارے مجرموں کو پانچ پانچ سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔ کمرہ عدالت داد و تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا، مگر لوگوں نے دیکھا کہ یاسمین رو رہی ہے، وہ سمجھے کہ شاید انصاف ملنے کی خوشی میں وہ جذباتی ہو رہی ہے، مگر وہ تو شدید مایوسی کی وجہ سے رو رہی تھی، آخر کار اس نے معزز جج صاحب سے کچھ کہنے کی اجازت چاہی جو قبول کرلی گئی، یاسمین کٹہرے میں آئی اور نہایت ہی جذباتی انداز میں بولی کہ ان لوگوں نے میرا سب کچھ تباہ کردیا، میری زندگی، میری عزت، میرا سکون، میری تعلیم ، میرے خاندان کی عزت سب کچھ ملیامیٹ کرکے رکھ دیا اس کے علاوہ مجھے جو ذہنی، نفسیاتی ، روحانی اور جسمانی اذیت پہنچائی گئی ان تمام تکالیف کے بدلے صرف چند سال کی قید، یہ تو انصاف نہ ہوا، یہ تو میرے ساتھ بڑی نا انصافی ہو ئی ، جس طرح ان لوگوں نے میری خرید و فروخت کی اور میری آبرو تار تار کی صرف اس ایک عمل کے بدلے انہیں کم سے کم موت کی سزا دی جانی چاہئے۔ بالخصوص ان دونوں نے بڑھاپے اور شرافت کا لبادہ اوڑھ کر جو دھوکہ دیا اس پر پوری انسانیات کو شرمسار کرکے رکھ دیا ہے۔ میں نہایت ہی احترام کے ساتھ اپنے حق کی خاطر معزز عدالت کے اس فیصلے کو رد کرتی ہوں اور اپیل دائر کروں گی کہ ان تمام مکروہ مجرموں کے کردار کو ملک بھر میں نہ صرف عام لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ لوگ اس طرح کہ مکر و فریب کا شکار نہ ہو سکیں، بلکہ ان کو مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسا گناہ کرنے سے پہلے ایک بار سوچے ضرور۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں خود کشی کر لوں گی۔ اس ساری کاروائی کی کوریج میڈیا نے خوب کی نتیجہً بہت ساری انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ یاسمین کے حق میں کھڑے ہو گئے۔
میڈیا اور عوام کا اتنا زبردست دباﺅ پڑا کہ عدالت کو کیس دوبارہ سنتے ہی بنی۔ عدالت سے باقاعدہ کیس کی دوبارہ شنوائی کے احکامات آئے تو یاسمین کی مدد کیلئے کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی معاونت کے کئی فلاحی ادارے بھی میدان میں آ گئے ، جنہوں نے یاسمین سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اسے انصاف دلا کر ہی دم لیں گے۔
یہ تقریباً تین سال پہلے کی بات ہے ، یاسمین گھر کے پاس سے اغوا کرلی گئی تھی، اس وقت وہ کراچی یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہی تھی ۔ حسب معمول یونیورسٹی پوائنٹ نے اسے نرسری کے پاس شاہراہ فیصل پر اتار دیا تھا۔ اس کا گھر قریب کی گلیوں میں ہی تھا جہاں تک وہ پیدل ہی آنا جانا کیا کرتی تھی۔ گرمیوں کی دوپہر میں عموماً یہ گلیاں سنسان ہوا کرتی تھیں۔ مگر یہاں کسی جرم کا خدشہ نہ تھا، لہذا یاسمین بھی خوب مزے سے آنا جانا کرلیا کرتی تھی۔ ایک دوپہر جب وہ یونیورسٹی سے واپس گھر کی جانب پیدل جا رہی تھی تو ایک کار اس کے پاس آکر آہستہ آہستہ چلنے لگی، جس میں اگلی سیٹ پر ایک سفید بالوں والا بوڑھا شخص اور پچھلی سیٹ پر ایک بوڑھی خاتون بیٹھی تھیں، کار ڈرائیور چلا رہا تھا، لباس اور شکل و صورت سے دونوں بے ضرر اور شریف نظر آرہے تھے، کہ خاتون نے کھڑکی سے آواز دیکر ایک پتا معلوم کیا جو عین یاسمین کے راستے میں پڑتا تھا، اس نے جھٹ کہا کہ جی یہ قریب ہی ہے اور پتا سمجھانے لگی ، خاتون نے ایسا ظاہر کیا جیسے پتا ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا، انہوں نے آگے بیٹھے شخص سے مدد چاہی تو وہ بھی بظاہر بے بس نظر آیا، تو خاتون یاسمین سے مخاطب ہوئیں کہ بیٹی آپ کہاں جا رہی ہو؟ تو اس نے کہا کہ میں بھی اسی طرف جا رہی ہوں تو خاتون نے کہا کہ تم ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاﺅ اور ہم تمہیں تمہارے گھر بھی چھوڑ دیں گے اور ہمیں پتابھی مل جائے گا۔ یاسمین ہچکچائی تو وہ بڑے پیار سے بولیں نہ ڈرو بیٹی ہم تمہارے ماں باپ جیسے ہی ہیں، پھر اتنی گرمی ہے تمہیں بھی ذرا آرام مل جائے گا۔ بس یہی وہ مقام تھا جہاں یاسمین ان کی ظاہری شکل و صورت سے دھوکہ کھا گئی اور پچھلی نشست پر خاتون کے ساتھ جا بیٹھی۔ گاڑی کے چلتے ہی خاتون نے جیسے پان کھانے کیلئے ہینڈ بیگ سے چھوٹی سی پٹاری نکالی اس وقت یاسمین ان ہی کو دیکھ رہی تھی، خاتون پٹاری میں جیسے کچھ تلاش کر رہی تھیں کہ آگے بیٹھے بڑے میاں نے مڑ کر یاسمین کو مخاطب کیا کہ بیٹی ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں نا؟ یاسمین نے جونہی بڑے میاں سے مخاطب ہونے کیلئے چہرہ گھمایا ، اچانک خاتون نے پٹاری میں سے کوئی چیز جو دمہ کے سانس لینے والے پمپ (Asthma Inhaler) سے مشابہ تھی نکالی اور تیزی سے یاسمین کے چہرے پر اس سے اسپرے کر دیا۔ اگلے ہی لمحہ یاسمین بے ہوش ہوچکی تھی۔
پھر کیا ہوا اسے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک اندھیرے کمرے میں تھی، اس نے محسوس کیا کہ اسے باندھ کر اور منہ میں کپڑا ٹھونس کر رکھا گیا ہے، وہ بہت ڈر گئی ، برابر والے کمرے سے ہلکے ہلکے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ پھر مکمل خاموشی چھا گئی یاسمین پر ایک ایک لمحہ ایک ایک صدی کی طرح بیت رہا تھا، آخر کار طویل انتظار کے بعد دروازہ کھلا باہر روشنی ہو رہی تھی، چار لوگ کمرے میں داخل ہوئے بڑے میاں، بڑی بی، ڈرائیور اور ایک شخص، بڑی بی چوتھے شخص سے کہہ رہی تھیں کہ ہم نے تسلی کرلی ہے لڑکی بالکل کنواری ہے، اس بار قیمت ہم منہ مانگی لیں گے۔
یاسمین کی تو جیسے جان ہی نکل گئی اس نے بہت کوشش کی چیخنے کی مگر منہ میں پھنسا کپڑا اسے کچھ بھی بولنے نہیں دے رہا تھا، اس کے سامنے اس کے مول لگتے رہے اور سودا ستر ہزار میں طے ہوگیا، ایک بار پھر اس کے چہرے پر اسپرے کیا گیا اور وہ بیہوش ہوگئی۔ اب جب اسے ہوش آیا تو وہ کسی اور جگہ پر تھی، ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں تھا، جس نے نہایت پیار سے اسے سمجھایا کہ اس نے یاسمین کو خرید کر نکاح کرلیا ہے اور اب وہ اس کی بیوی ہے، لہذا خاموشی سے وہ سب کچھ کرے جو وہ چاہتا ہے۔ خیر یاسمین کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہونا تھا وہ نہایت بے بس و لاچار تھی، وہ شخص کئی دن تک اس کا استحصال کرتا رہا، اس کی عزت پامال کرتا رہا، پھر کچھ اور لوگ بھی آنے لگے جو سب مل کر نشہ کرتے تھے اور یاسمین کو نوچتے کھسوٹتے تھے۔ یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا رہا، پھر ایک دن اسے بیہوش کیا گیا اور جب آنکھ کھلی تو وہ کسی ایک بالکل ہی الگ جگہ پر تھی، بظاہر یہ کوئی پرانی حویلی جیسی لگتی تھی ، وہ ایک کمرے میں بند تھی، اس بار اس کے ہاتھ پاﺅں نہیں باندھے گئے تھے نہ ہی منہ میں کپڑا ٹھونسا گیا تھا، وہ کھڑکی سے باہر لوگوں کو دیکھ سکتی تھی جو زیادہ تر ملازمین جیسے لگ رہے تھے، پہلے اس نے ان لوگوں کو آوازیں دیں جب کسی نے کان نہ دھرے تو آخر کار اس نے چلانا شروع کردیا، مگر حیرت انگیز طور پر کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دے رہا تھا، یا تو وہ سب کے سب بہرے تھے یا پھر اس طرح کے معاملات کے عادی تھے۔ شاید انہیں یہ حکم ہو کہ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھنا ہیں۔ رات ہوگئی آہستہ آہستہ راہدریوں میں لوگوں کی آمد و رفت کم ہوتی چلی گئی، پھر رات کے کسی پہر دروازہ کھلا تو ایک قد آور شکل سے سخت گیر نظر آنے والا شخص کمرے میں داخل ہوا، وہ آکر سیدھا کرسی پر بیٹھ گیا ، اور نہایت ہی رکھائی سے معلوم کیا کہ کھانا کیوں نہیں کھایا، یاسمین نے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے نہایت درشت لہجے میں اسے کہا کہ کھاﺅ یا نہ کھاﺅ تم اب ہماری ملکیت ہو بالکل اس طرح جیسے یہ گھر، اس کی باقی چیزیں ، ہم نے تمہیں اپنی تسکین کیلئے بہت مہنگے داموں خریدا ہے۔
اب تمہیں وہی کرنا ہوگا جو ہم کہیں گے کیوں کہ ہم تمہارے مالک ہیں اور تم ہماری زر خرید غلام۔
وہ خاموشی اور بے بسی سے اس کا منہ دیکھتی رہی، یہ ملک شفقت علی تھا، جو اپنے علاقے کا بڑا جاگیردار تھا۔ یہ بڑا اثر رسوخ والا شخص تھا، اس کے سیاسی و سماجی تعلقات بھی بہت مضبوط تھے۔ ایک بار پھر وہی گھناﺅنا کھیل شروع ہوگیا، چند دن تو ملک صاحب خود ہی بقول ان کے پیسے وصولتے رہے، پھر ان کے ہاں بھی میلے لگنے لگے اور وہ اس میلے میں سب سے زیادہ بیچی جانے والی شہ ہوتی تھی۔ یاسمین کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی تھی نکل بھاگنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ کہ ملک صاحب ایک رات جوئے میں اپنے ایک دوست سے یاسمین کو ہار گئے، وہ شخص یاسمین کو لے کر ملک صاحب کے گھر سے رات کے آخری پہر اپنی کار میں نکلا ، وہ اکیلا ہی تھا اور نشے میں بھی تھا۔ کار گاﺅں کی پگ ڈنڈیوں پر ذرا کم رفتار سے چل رہی تھی کہ اچانک کار نے ایک جھٹکا کھایا اور بند ہو گئی، وہ شخص گاڑی سے اترا اور چیک کرنے لگا کہ کیا ہوا ہے مگر نشہ میں ہونے کی وجہ سے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ آخرکار اس نے یاسمین کو گاڑی کی ڈکی میں ڈالا اور ایسا لگا جیسے وہ چلا گیا ہو، جب اس نے یاسمین کو ڈکی میں ڈالا تھا تو ڈکی ٹھیک سے بند نہیں ہوئی تھی، یہ بات یاسمین نے فوراً ہی محسوس کرلی تھی مگر وہ شخص کیوں کہ نشہ میں تھا لہذا وہ یہ بات نہ جان سکا۔ اس وقت شاید قدرت کچھ خاص ہی مدد کرنے پر آمادہ تھی۔ وہ شخص کار کو گالیاں دیتا ہوا چلا گیا، یاسمین کو اس کی دور ہوتی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ نہایت ہی آہستگی سے اپنے ہاتھ پاﺅں کھولنے کی کوشش کرنے لگی اور کچھ دیر میں کامیاب بھی ہو گئی، وہ بنا آواز کئے گاڑی سے باہر آئی، ڈکی بند کی اور ننگے پاﺅں تیزی سے مخالف سمت میں بھاگنا شروع کر دیا، بھاگتی رہی بھاگتی رہی معلوم نہیں کتنی دیر بھاگی ہوگی ، جب بالکل تھک کر چور ہو گئی تب بھی وہ رکی نہیں بلکہ اس نے چلنا شروع کردیا، آخر کار وہ ایک روڈ کے کنارے پہنچ ہی گئی، اس وقت صبح کا دھندلکا پھیل رہا تھا، اس نے دیکھا گاڑیاں ایک سمت جا رہی ہیں وہ بھی نیچے کھیتوں میں پگ ڈندی پر اسی سمت چلتی رہی، آخر کار ایک بس آتی ہوئی نظر آئی اس نے روڈ پر آکر ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا تو بس رک گئی یہ ایک لوکل مسافر بس تھی۔ وہ جھٹ سے اس میں بیٹھ گئی، بس چلتی رہی کوئی چالیس منٹ بعد بس ایک جگہ رکی تو اس نے دیکھا کہ کچھ پولیس والے ایک ڈھابے پر ناشتہ کر رہے ہیں وہ اتر کر ان کے پاس چلی گئی۔ اور ان سے مدد مانگی، ان میں سے ایک عمر رسیدہ پولیس والا فورا مدد کو آمادہ ہو گیا اور اسے موبائل میں بٹھا کر تھانے لے آیا، جہاں سے اس نے اپنے گھر والوں کو فون کیا، رپورٹ لکھائی اور یوں خانہ پری کرتے کرتے وہ چھ سات دن میں کراچی پہنچ گئی۔
جہاں پولیس نے بڑی جاں فشانی سے ان سب لوگوں کو گرفتار کیا، مقدمہ چلا، اقرار جرم ہوا ، ان اغواء کار مجرموں نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہ باقاعدہ ایسی لڑکیوں کی جاسوسی یا ریکی کرتے ہیں اور انہوں نے یاسمین کی بھی مکمل ریکی کی تھی، کہ کب جاتی ہے کب آتی ہے ، کوئی ساتھ ہوتا ہے کہ نہیں، اس طرح اب تک وہ بیس سے زائد لڑکیاں فروخت کرچکے ہیں۔ آج ان سب کو دوبارہ سزا سنائی جانی تھی ، آج دوسرے فیصلہ کی سماعت کا دن تھا، آج بھی کمرہ عدالت لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ یاسمین بہت سراسیمہ اور پریشان نظر آ رہی تھی، کہ جج صاحب نے فیصلہ سنانا شروع کیا، جس میں کہا کہ جرم کی نوعیت اور مدعیہ پر گزرے حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ان اغوا کار دونوں مردوں کو چوک پر سرعام پھانسی دی جائے گی باقی خریدار دونوں مردوں کو دس دس سال قید با مشقت اور عورت کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ ساتھ ساتھ ان سب کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کی جائیں گی اور یاسمین کو بیس لاکھ روپے بطور ازالہ ادا کیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے جن لوگوں نے اس جرم میں ان لوگوں کی معاونت کی اور یاسمین کی خرید و فروخت اور استحصال میں شامل رہے۔ ان لوگوں سے عدالت علیحدہ تفتیش کر رہی ہے اور انہیں بھی قرار واقعی سزائیں دی جائیں گی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker