اردو کی ایک ضرب المثل ہے کہ وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختائیں اڑایا کرتے تھے۔ عموماً یہ بات اس وقت کی جاتی ہے جب کسی کے اچھے دن لد گئے ہوں۔ ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک ہمارے مشترکہ خاندانی نظام Joint Family Systemکو رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ ہمارے معاشرے اور خاندانوں میں بزرگوں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی اور انہیں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عزت و احترام سے خاندانوں میں رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد Senior Citizens کی اصطلاح متعارف ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ یکسر بدل کر رہ گیا۔ عصر حاضر میں ہمارا پرانا مشترکہ گھریلو نظام Joint Family System ایسا برباد ہوا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جنہوں نے دنیا کو old homes یا shelter homes کے نظریہ سے متعارف کرایا تھا۔ بہرکیف ایک مطالعاتی تحقیق حاضر خدمت ہے جو اس بات کو اجاگر کرے گی کہ پاکستان کے اولڈ ہومز تک ہمارے بزرگ کیونکر پہنچتے ہیں اور وہاں کیسی زندگی گزارتے ہیں اور کیا وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انہیں اولڈ ہوم یا شیلٹر ہوم منتقل کیا جاتا ہے۔
ُپس منظر: دنیا بھر کے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں، گوکہ معیار زندگی آہستہ آہستہ بلند ہو رہا ہے مگر مہنگائی کی علت ہر ایک کی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ شکار بوڑھے لوگ ہو رہے ہیں، دنیا بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کی وجہ سے بوڑھے لوگوں کی تعداد قدرے بڑھ گئی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر یہی حالات رہے تو آئندہ ایک دو دھائیوں میں یہ تناسب اور خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔ نئے نظریات کے مطابق سمجھا یہ جاتا ہے کہ بزرگ یا ریٹائرڈ افراد خاندان کیلئے محض ایک ذمہ داری ہیں، جن پر جان مال اور وقت تینوں بلاوجہ لگ رہے ہیں۔ لہذا وہ خاندان پر ایک بوجھ سمجھے جانے لگتے ہیں، لہذا دیگر رشتہ دار اور اولاد تک انہیں خاندان پر غیر ضروری ذمہ داری گرداننے لگتے ہیں او ر مختلف حیلوں بہانوں سے جان چھڑانے کی ترکیبیں اور بہانے تلاش کرنے لگتے ہیں۔
پاکستان دنیا کا چھٹا کثرت آبادی والا ملک ہے، اور اس کے معاشی اور معاشرتی حالات ابتری کا شکار ہیں، ہم طویل عرصے سے بدترین کساد بازاری اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں، ساتھ ساتھ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر بزرگوں اور بے سہارا لوگوں کی فلاح و بہبود کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے، اور اگر ہے تو پوری طرح کارگر نہیں ہے۔ یعنی نہ کوئی عمدہ پینشن پلان ہے۔ نہ میڈیکل سپورٹ ہے، نہ ہی خود ان بزرگوں نے آخری عمر کیلئے کوئی اچھی بچت کی ہوتی ہے لہذا پاکستان میں بزرگ یا ریٹائرڈ لوگوں کے حالات نہایت ہی دگرگوں اور غیر اطمینان بخش ہیں۔ اس مطالعے کے نتائج کو کارگر اور کارآمد بنانے کیلئے ایک ایسا طریقہ کار اپنایا گیا جس کے ذریعے مختلف شیلٹر ہومز میں موجود بزرگ مرد و خواتین کی ایک مقرر کردہ تعداد سے گفتگو کی گئی۔
یہ غیر رسمی سی گفتگو تھی جسے ریکارڈ کر لیا گیا تاکہ بعد میں حقائق سے آگہی اور تجزیہ کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ ان ملاقاتوں اور بات چیت کا مقصد یہی تھا کے ہلکے پھلکے انداز میں یہ جانا جا سکے کہ آخر کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے وہ یہاں منتقل ہوئے۔
معلومات کے تجزئیے نے کئی بنیادی موضوعات و معاملات کو آشکار کیا۔ جیسے گھر چھوڑنے کی وجوہات، شیلٹر ہوم میں موجود سہولیات کے بابت تجربات اور معلومات، اور آنے والے حالات سے نمٹنا، اور پھر شیلٹر ہوم میں رہنے کا فیصلہ کرنا۔ تجزیہ سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ننانوے فیصد لوگ جو شیلٹر ہومز میں رہائش پزیر ہیں باوجود عمدہ سہولیات کے وہاں رہنے کے بجائے اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر اپنے رشتہ داروں اور اولاد کے ہاتھوں جسمانی، نفسیاتی، جذباتی اور مالی بے توجہی کا شکار ہوکر شیلٹر ہوم آ پہنچے ہیں جو ان کیلئے کافی مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک بڑی تعداد ایسے رشتہ داروں کی بھی ہے جو دھوکے سے انہیں شیلٹر ہوم چھوڑ گئے ہیں، بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں یہ آسرا بھی دیا ہوا ہوتا ہے کہ جیسے ہی حالات کچھ بہتر ہوں گے وہ واپس گھر بلا لئے جائیں گے۔ جیسے جیسے دنیا میں شہری اور صنعتی رجحانات بڑھ رہے ہیں ، اولاد بھی بہتر مستقبل کیلئے والدین کو چھوڑ کر ملک یا شہر وں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ بعد میں عموماً وہ والدین کی خبر گیری سے غافل ہو جاتے ہیں جو بزرگوں کیلئے اولاد کی بے حسی اور بے توجہی اور مالی پسماندگی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، جو بوڑھے والدین کو بے کس و مجبور بنانے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی رحم دل رشتہ دار انہیں شیلٹر ہوم تک پہنچادیتا ہے۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کم آمدنی، بے روزگاری اور گھریلو تنازعات بھی بزرگوں کے شیلٹر ہوم جانے کے اسباب میں شامل ہیں۔ نتیجتا بے کس، پریشان اور تنہا بوڑھے شیلٹر ہوم منتقل ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے حیرت انگیز بات جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ گھریلو تنازعات جن میں جائیداد پر قبضہ، املاک ہتھیانا ، ذاتی و خانگی تنازعات اور پسند و نا پسند کی وجہ سے سگے بھائی کنواری بہن کو، سوتیلی رشتے دار بزرگوں یا خواتین کو، اولاد والدین کو اور بہت سے دیگر خونی رشتہ ہر تکلف کو پس پشت ڈال کر بے سہار ا و مجبور رشتوں سے جان چھڑانے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔
شواہد اس بات کی جانب واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تفصیلی تحقیق اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے، جو بہ لحاظ مقدار اور بہ لحاظ خصوصیت دونوں طرح سے کی جانی چاہئے۔ جس کے نتائج کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ مرتب کیا جانا چاہئے، اور ممکنہ متاثرین کے مفادات کی حفاظت کیلئے باقاعدہ قانون سازی بھی کی جانی چاہئے۔ ساتھ ساتھ اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ عام لوگوں میں بزرگوں کی خاندان میں اہمیت اور عزت و احترام اور ان کی خاندان میں موجودگی اور ان کے گھرانے پر پڑنے والے مثبت اثرات سے آگہی و بیداری پیدا کی جائے۔ ہمارے معاشرے میں دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ اخلاقی تربیت کا نہ ہونا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ خاندانوں میں تربیت کرنے والوں کا نہ ہونا ہے، یہی بزرگ اپنی دو دو نسلوں کی بہترین تربیت کیا کرتے تھے اور مثالی معاشرہ بنانے میں ایک انتہائی کردار ادا کیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آج اولاد والدین سے باغی اور معاشرے سے نالاں نظر آتی ہے جس کے منفی اثرات ہر ایک کی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے روایاتی خاندانی نظام کی اہمیت و افادیت کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کی شدید ضرورت ہے؛ پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے عوامی سطح پر آگہی و بیداری پیدا کی جانی چاہئے۔
ساتھ ساتھ شیلٹر ہوم کے ماحول میں مذید بہتری لانے کیلئے نہایت ضروری ہے کہ طبی معاونت کے عملے اور نظم و نسق سنبھالنے والے عملے کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے مسلسل تربیت کا یقینی بندوبست کیا جانا چاہئے۔ تاکہ وہ بوڑھے ، بے سہارہ اور مجبور لوگوں کی بہتر خدمت کر سکیں اور انہیں ایک پرسکون و آرامدہ جائے پناہ سے سکیں ۔ یہاں اخلاقی تربیت پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ ان بے کس لوگوں ساتھ بعض شیلٹر ہوم کے عملے کا رویہ نہایت تکلیف دہ اور ہتک آمیز ہوتا ہے۔
اس حوالے میں اثر رسوخ رکھنے والے انسانی حقوق کی متحرک تنظیمیں حکومت کو اس بات پر قائل کر سکتی ہیں کہ وہ ایک ایسی ریٹائرمنٹ پالیسی وضع کرے جس میں بوڑھے اور بے سہارا لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے خاص اقدامات کئے جائیں اور انہیں عملی جامہ بھی پہنایا جائے، جیسے کم قیمت پر ڈے کیئر Day Care کا مہیا کیا جانا، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات کی با آسانی فراہمی کو یقینی بنایا جانا ، شیلٹر ہوم کے ماحول میں بہتری لائی جانا ، اور بوڑھے اور بے سہارہ لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جانا۔ اس طرح شاید ہم کچھ ایسا کر سکیں کہ جن لوگوں نے اس معاشرے کی ہر طرح سے خدمت کی ہوتی ہے ان کی محنت کا کچھ بدل ادا ہو سکے۔ بہت ممکن ہے اسطرح ہم دین و دنیا کی سرخروئی کے مستحق ہو سکتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

