افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد کا افسانہ : صارم بھائی کی پھوہڑ بیوی

بھائی کچھ کھا لیجئے، ارحم نے اپنے بڑے بھائی صارم سے ضد کرتے ہوئے کہا تو صارم نے نہایت غصّے کے ساتھ سختی سے ہونٹوں کو بھینچ لیا، مگر دو آنسو ان کی آنکھوں سے ڈھلک کر ان کے رخساروں پر پھسل گئے۔ ارحم تڑپ کر رہ گیا، لپک کر بھائی کے گلے لگ گیا اور بولا میرے بھائی میں قربان کیا ہوا؟ تو صارم نے بس اتنا کہا کہ مجھے بس اب مرنا ہے۔ یہ سن کر ارحم کے پیروں تلے زمین نکل گئی، وہ ان کے چھوٹے بیٹے سے مخاطب ہوا کہ کیا ماجرا ہے، تو وہ نہایت ہی لاپرواہی سے بولا کہ معلوم نہیں ابّو ایسے کیوں کر رہے ہیں۔ سال ہوا انہوں نے دوائیاں لینا بھی بند کردی تھیں۔ کہ آج نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے۔ وہ دل، گردے، زیابیطس اور بلند فشار خون کے مریض تھے۔ مگر ایک سال سے انہوں نے دوائیں استعمال کرنا بھی بند کر رکھا تھا۔
صارم بھائی ایک نہایت ہی باغ و بہار اور دردمند دل رکھنے والے بے لوث انسان تھے، وہ ایک اعلی سرکاری افسر ہونے کے باوجود تکبر، غرور اور دکھاوے سے بہت دور تھے۔ اکثر ان کے پاس حاجت مندوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، مگر وہ ذ را بھی نہیں اکتاتے تھے، اور جو بھی بن پڑتا تھا اس کی مدد ضرور کرتے تھے۔ کچھ دوستوں کے گھر اور دیگر ضروریات تو مستقل بنیادوں پر پوری کی جاتی تھیں۔ والدین کے انتقال کے بعد انہوں نے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرکے دکھایا۔ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ہر طرح سے سرپرستی کی بلکہ بہن بھائیوں کے بچوں تک کی دامے درمے سخنے مدد بھی کرتے رہے، جوان جوان بھانجوں، بھتیجوں کو اپنے گھر میں سالوں رکھا کہ وہ پڑھ لکھ لیں، پھر ان کو نوکریاں دلانے میں بھی مدد کی۔ عید بقر عید یا کوئی اور تہوار ہو سارے بہن بھائی مع اہل و عیال ان کے گھر نہ صرف جمع ہوتے تھے بلکہ رکتے بھی تھے، خوب ہلہ گلہ ہوتا تھا، کھانا پینا ہوتا تھا۔ تو پھر آج یہ اس قدر کسم پرسی میں کیوں دنیا سے جانے کی باتیں کر رہے ہیں، ارحم سوچ میں پڑ گیا، اس کے دماغ میں پینتیس سال پرانی ریل الٹی چلنے لگی۔
صارم بھائی کی زندگی کی آزمائش ان کی شادی کے دن سے شروع ہوگئی تھی، ان کی شادی ان کے باس کی ایک دوست آنٹی نے اپنے رشتہ داروں میں کرادی تھی، ان کی بیوی ایک جاہل اور پھوہڑ عورت تھی، جس میں سلیقہ تہذیب اور نام کو نہ تھی۔ کمال یہ تھا کہ شکل و صورت بھی نہایت عام سی تھی، نہ انہیں کھانا بنا نا آتا تھا نہ بات کرنے کا سلیقہ تھا، وہ قریب قریب ایک گنوار عورت تھی۔ مگر صارم بھائی کمال رحم دل انسان تھے کہ تمام تر نالائقیوں کے باوجود وہ مسلسل انہیں موقع دیتے رہے اور کبھی بھی ان سے علیحدگی کا نہ سوچا، لوگ ان سے کہا کرتے تھے کہ یہ عورت آپ کے معیار کی نہیں ہے اگر اسے چھوڑ نہیں سکتے تو کم از کم دوسری شادی ہی کر لو، مگر نہ انہوں نے اسے چھوڑا اور نہ ہی دوسری شادی کی۔
جوں جوں وقت گزرا صارم بھائی کی دفتری مصروفیات بڑھتی چلی گئیں، ساتھ ساتھ اللہ اولاد سے بھی نوازتے چلے گئے۔ اب وہ زیادہ وقت شہر یا ملک سے باہر دوروں پر ہوا کرتے تھے۔ اولاد کی تربیت کی ذمہ داری ان کی بیوی پر آپڑی تھی، جن کی زندگی کا نصب العین سونا تھا، بچے کیا کر رہے ہیں، کیا کھا رہے ہیں، کیسے جی رہے ہیں وہ بس پڑی سوتی رہتی تھیں۔ گھر انتہائی گندا اور غلیظ رہتا تھا، یہاں تک کہ کھانے پینے کی چیزوں میں کیڑے چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ مگر وہ سونے سے باز نہیں آتی تھی، اب صارم بھائی کی پریشانی شروع ہوئی کہ لڑکیاں بڑی ہو رہی تھیں، ان میں سلیقہ نام کو نہ تھا ظاہر ہے جو وہ اپنی ماں کو کرتے دیکھتی تھیں وہی انہوں نے بھی کرنا تھا، وقت گزرتا چلا گیا، بچے جوان ہوگئے صارم بھائی ریٹائر ہوگئے۔ وہ ایک خوشحال انسان تھے اتنے اللوں تللوں کے باوجود ان کی کئی جائیدادیں تھیں، ہاتھ میں اچھا خاصہ پیسہ تھا۔ مگر اولاد ایک بھی پڑھ کر نہ دی، نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ لگتا ہی نہ تھا کہ یہ بچے اتنے بڑے اور قابل سرکاری آفیسر کے ہیں، بات چیت چال ڈھال ہر زاویئے سے جہالت ظاہر ہو رہی ہوتی تھی۔
صارم بھائی پر پہلی قیامت تب ٹوٹی جب ان کی پہلی بیٹی کو اس کی سستی کاہلی اور پھوہڑ پن کی وجہ سے طلاق ہوئی، آدھے تو درگور وہ اسی دن ہو گئے تھے جس دن ان کی بیٹی لوٹ کر گھر آئی تھی۔ لڑکے بھی شادیوں کی ضد کر رہے تھے، حالانکہ نہ وہ پڑھتے تھے نہ کوئی کام دھندہ کرتے تھے۔ باپ نے نہایت ہی لاڈ پیار سے پال پوس کر ان سب کو پروان چڑھایا تھا، زندگی کی ہر آسائش فراہم کی تھی مگر ماں کی طرف سے تربیت ایسی تھی کہ گھر میں کوئی کسی کا نہ تھا۔ سب اپنی اپنی ذات میں مگن تھے۔ لڑکوں کو باپ کے بڑھاپے اور بیماری سے کچھ لینا دینا نہ تھا، وہ تو بس اپنی دھن میں مگن تھے اور گھر کی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھے۔ بچوں کے کہنے پر پرانا گھر بیچ کر اور باقی جائیداد بیچ کر ایک گھر لیا گیا، وہاں بڑے بیٹے کی شادی بھی کردی گئی، اب ان کی بیوی اور بیٹیوں کی بہو سے نہیں بنتی تھی، یعنی گھر میں فساد کی ایک وجہ اور آگئی تھی۔ آخر کار طلاق یافتہ بیٹی کا ایک رشتہ آگیا، وہ بھی ایک چھٹا ہوا جعل ساز نکلا، بتایا کچھ اور نکلا کچھ۔ اس نے ان لوگوں کی زندگی الگ اجیرن کرکے رکھ دی۔ اس داماد نے انہیں جھانسا دیا کہ ایک بہت اچھی لوکیشن پر نہایت ہی وارے کا سودا ہے آپ یہ مکان بیچ دیں اور وہ لے لیں، چند سالوں میں اس کی قیمت دوگنی ہو جائے گی۔ یہ شریف آدمی مان گئے، لہذا وہ مکان لے لیا گیا، مگر وہ تو رہنے کے قابل ہی نہ تھا۔ لہذا فی الحال یہ کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے، اس چال با ز داماد نے ان سے بقیہ جمع پونجی بھی یہ کہہ کر ہتھیا لی کہ اس کے کچھ حصے کو توڑ کر دوبارہ تعمیر کرلیا جائے تو یہ بہت ہی عمدہ رہائش گاہ ہو جائے گی۔ شریف آدمی ایک بار پھر جال میں آگیا، مگر جب کئی سال تک نہ مکان بنا نہ یہ لوگ منتقل ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ مکان تو اب تک کئی ہاتھوں میں بک چکا ہے۔
یوں صارم بھائی جو دنیا بھر کے کام آیا کرتے تھے بالکل تباہ و برباد ہوکر رہ گئے تھے۔ اب ان کا گزارہ صرف ان کی پینشن پر تھا، بیٹے بجائے کچھ دینے کے الٹا پینشن میں سے بھی پیسے چھین لیا کرتے تھے۔ زندگی انتہائی مشکل اور کسم پرسی کا شکار ہوکر رہ گئی تھی۔ وہ ایک ذہین، تعلیم یافتہ آفیسر اب ایک مجبور و لاچار کرائے کے مکان میں پڑا تھا، وہ بھی اس طرح کہ کبھی راشن نہیں تو کبھی دوائیاں نہیں۔ بیٹے پانچ روپے دینے کے روادار نہ تھے۔ نتیجۃً انہوں نے خرچہ بچانے کیلئے دوائیاں خریدنا بند کردیں جس کی فکر کسی کو نہ ہوئی اور آخر کار وہ آج بستر مرگ پر ہسپتال میں آخری سانسیں گن رہے تھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker