زاہدہ حناکالملکھاری

جبروستم کا ناظر / زاہدہ حنا

میری بیٹی سحینا اب جڑواں شہروں یعنی پنڈی اور اسلام آباد میں رہتی ہے، اس کا حلقۂ احباب خاصا وسیع ہے اور بہ طور خاص میرے دوستوں کے ساتھ اس کی بھی خوب یاد اللہ ہے۔ اس روز اسلام آباد کا موسم گرم تھا اور اس سے زیادہ گرم باتیں اس محفل میں ہورہی تھیں جس میں ہمارے پرانے دوست ناظر محمود کی کتاب Politics,Pictures ,Personalities زیربحث تھی۔ یہ کتاب ابھی حال میں ہی منظرعام پر آئی ہے اور دوستوں میں زیربحث ہے۔ محترم اشفاق سلیم مرزا، ماروی سرمد، حارث خلیق، حمراخلیق، عائشہ صدیقہ اور بہت سے دوسرے اس کتاب پر اظہار خیال کرتے رہے۔ اسی رات ناظر اور صنوبر کے یہاں پرتکلف دعوت بھی تھی۔ شبانہ حارث بھی صنوبر کا ہاتھ بٹاتی نظر آئیں۔ ناظر نے اپنی کتاب مجھے تقریب میں ہی دے دی تھی۔ میں اسے الٹتی پلٹتی رہی اور ان دھواں دھار باتوں کو سنتی رہی جو تیزرفتاری سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے بارے میں ہورہی تھیں۔
ناظر نے اپنی کتاب میں پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ میگناکارٹا، سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ، چین کے ثقافتی انقلاب اور دو غریب ملکوں کے امیرانہ شوق یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول جیسے معاملات پر لکھا ہے۔ یہ ان کے وہ کالم ہیں جو انھوں نے ایک معاصر انگریزی اخبار کے لیے لکھے تھے۔ جہاں تک کتاب کے پہلے حصے کا تعلق ہے، ان موضوعات کے بارے میں ہمارے یہاں صبح وشام لکھا جاتا ہے لیکن ناظر نے جن فلموں اور شخصیات کے بارے میں لکھا ہے، وہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اگر اچھے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہی ہے تو وہ ان شخصیتوں اور فلموں سے آگاہ ہے لیکن اردو میڈیم اسکولوں سے پڑھنے والے ان معاملات سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے آگہی ہمارا ذہنی افق وسیع کرتی ہیں اور ہمیں کنویں سے نکال کر دنیا کا شہری بناتی ہیں۔
وہ کتاب کے دوسرے حصے میں بی بی سی کے سکندر کرمانی کی ڈاکومنٹری، مشال خان: ڈاکومنٹری آن کیمپس سے بات آغاز کرتے ہیں اور گزشتہ 200 برس کے درمیان امریکا اور دوسرے ملکوں میں مذہبی نفرت اور نسلی تعصب کی بنیاد پر بے گناہ انسانوں، بہ طور خاص سیاہ فاموں اور یہودیوں کو سنگسار کرنے کے نازک اور الم ناک موضوع پر بننے والی فلموں کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ اس بیانیے میں KKK یعنی کوکلس کلاں، کے دلائل کا احاطہ کرتے ہیں، جن کے مطابق سیاہ فاموں کے ساتھ سنگساری کا سفاکانہ سلوک، عین انصاف تھا۔ اسی سلسلے کی ایک فلم ’ثریا ایم کی سنگساری‘ بھی ہے جو 2008 میں بنی، ایک ایرانی عورت جس کے بارے میں اس کا بدکلام اور گندہ دہن شوہر یہ بہتان باندھتا ہے کہ وہ بدکار ہے۔ ثریا جس دیہات میں رہتی ہے اس کے رہنے والے، اس کے ہمسائے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے ہیں اور یہ واقعہ ایک صحافی کے ذریعے دنیا تک پہنچتا ہے۔ صحافی کو اس بہتان کے بارے میں ثریا کی خالہ بتاتی ہے اور یہ بھی کہ یہ محض ایک برافروختہ شوہر کا انتقام تھا جو وہ اپنی بیوی سے لے سکتا تھا۔ ایک ایسا قتل جس سے اس کے ہاتھ صاف ہیں لیکن جو درحقیقت اسی نے کیا ہے۔
اب سے 40 برس پہلے امریکا اور ساری دنیا میں ’روٹس‘ (Roots) کی دھوم تھی۔ الیکس ہیلی نے اس ناول کو لکھا اور پھر اسے ٹیلی وژن پر قسط وار پیش بھی کیا گیا۔ اس ٹی وی سیریل نے کروڑوں امریکیوں کے دل مٹھی میں لے لیے۔ ان کے پرکھوں نے سیاہ فاموں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اسے ٹیلی وژن پر دیکھ رہے تھے۔ ناظر نے اس ٹیلی وژن سیریل میں دکھائی جانے والی بہیمانہ سزاؤں کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں دی جانے والی سزاؤں سے جوڑ کر ہمارے پڑھنے والوں کے لیے اسے ایک جیتی جاگتی مثال بنادیا۔ ہم روٹس پڑھ رہے ہوں یا اسے ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھ رہے ہوں، اسے ہم جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔
’دیوداس‘ ایک مختصر سا بنگلہ ناول جس کے صفحوں پر سانس لیتے ہوئے رومان کو گزشتہ ایک صدی کے دوران بار بار فلمایا گیا اور ہر مرتبہ اس نے اپنے دیکھنے والوں سے داد وصول کی۔ ناظر نے ’دیوداس‘ کے 100 برس پر لکھا ہے اور ہماری نئی نسل جو نہایت شاندار اور شان وشوکت سے چھلکتی ہوئی ’دیوداس‘ کو شاہ رخ خان، ایشوریہ رائے اور مادھوری ڈکشٹ کے روپ میں دیکھ چکی ہے، ناظر اسے اس کہانی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ 1917 میں لکھا جانے والا یہ ناول جو سرت چندر چٹرجی کے قلم سے نکلا، اسے بروا نے بنایا، بنگلہ میں اور اردو میں۔ اردو ورژن کے ہیرو کندن لال سہگل تھے۔ 1955 میں دلیپ کمار ’دیوداس‘ بن کر فلم اسکرین پر نمودار ہوئے جب کہ 2002 میں شاہ رخ کے سر پر ’’دیوداس‘‘ کا تاج سجا۔ ناظرمحمود یہ سب کچھ لکھنے کے بعد پڑھنے والے کو مشورہ دیتے ہیں کہ اسے کون سی ’’دیوداس‘‘ دیکھنی چاہیے۔
اسی طرح وہ ان دہائیوں میں گزرنے والی اس قیامت کاذکر کرتے ہیں جس میں سیاسی شعور رکھنے والے اور اپنی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رکھنے والے شوریدہ سر نوجوان ’مفقودالخبر‘ ہوئے۔ انھیں زمین کھاگئی، آسمان نگل گیا، وہ زندہ رہے یا کوئی گمنام قبر ان کا مقدر بنی۔ یہ وہ معاملہ ہے جو یوں تو ساری دنیا کے ان ملکوں سے متعلق ہے جہاں سیاسی شعور کو کچلنا، اسٹیبلشمنٹ کا وتیرہ ہے۔ اس میں پاکستان، ہندوستان اور تیسری دنیا کے متعدد ملک شامل ہیں۔
اس نازک مسئلے کے بارے میں ناظرمحمود ’حیدر‘ اور ہزار چوراسی کی ماں‘ کے بارے میں ہمیں بتاتے ہیں۔ وہ اپنی تحریر میں دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد پولینڈ میں جو کچھ ہوا، اس پر بننے والی فلم کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ ’کاتن‘ کے قتل عام کے بارے میں بتاتے ہیں اور فلم دیکھنے والوں کو خبردار بھی کرتے ہیں کہ اگر آپ کا دل کمزور ہے تو اس کے آخری 30 منٹ نہ دیکھیں۔ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو کو غلامی کے چنگل سے نجات دلانے والے اور اس دور کی عالمی طلبہ کی تحریک کے ہیروپیٹرک لوممبا پر بننے والی فلم کا بھی وہ ذکر کرتے ہیں۔ 35 سالہ لوممبا جو اگر زندہ رہتا تو ڈی آر کانگو کی تقدیر کچھ اور ہوتی۔ وہ انتخاب میں جیت کر 7 مہینے وزیراعظم رہا پھر کس طرح ’غائب‘ ہوا اور آخرکار قتل کیا گیا۔ یوں فوجیوں کو اپنے ملک کو لوٹنے اور عوام کو کچلنے کی کھلی آزادی مل گئی۔
ناظر کی کتاب کا یہ حصہ ہماری نئی نسل کے لیے چشم کشا ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے جبر کے موسم میں زندگی گزاری ہے، وہ جانیں تو سہی کہ جب ہوس اقتدار کے ساتھ مال ودولت کی طمع جرنیلوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو ملک کے اور اس کی نئی نسل کے مستقبل کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ڈومینکن ری پبلک میں اس باپ اور ان تین بیٹیوں پر کیا گزری، جنھوں نے اپنے ڈکٹیٹر جنرل رافیل تروجیلو کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اس ڈکٹیٹر نے 1930 میں اقتدار چھینا تھا اور تین دہائیوں تک اس ملک میں کسی کو سانس لینے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ تیس برس بعد قتل ہوا۔ اس کے دور میں ان تینوں کا باپ اغوا ہوا، یہ تینوں بہنیں ڈومینکن ری پبلک کی نوجوان نسل کو جرنیل کے ظلم وستم کے بارے میں بتاتی رہیں۔ آخرکار گرفتار ہوئیں، ہر نوعیت کے عذاب سے گزریں، ان میں سے ایک بہن پر جرنیل کی نظر بھی تھی لیکن اس نے اس چنگل میں آنے سے انکار کردیا۔ اور آخرکار وہ بھی قتل کی گئی۔ یہ فلم In the Time of The Butter Fliesکے نام سے سامنے آئی اور دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کردیتی ہے۔ مزاحمت کی بات کرنا، کچھ اور ہے اور مزاحمت کا حصہ بن جانا، اس راہ میں تشدد اور تذلیل کو برداشت کرنا کچھ اور۔
ہماری تاریخ میں کتنے ہی نوجوان اور کتنی ہی لڑکیاں اس راہ میں قربان ہوئے، یہ فلمیں ہمیں ایسے ہی جی دار اور ہار نہ ماننے والوں کی یاد دلاتی ہیں۔ فیض کے اشعار پر وجد کرنا، جھوم جھوم کر گانا کہ ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے، ایک بات ہے اور دار کی ٹہنی پر وارے جانے سے پہلے جسم وجاں پر کیا گزرتی ہے، اس کے بارے میں جاننا ایک بالکل دوسری بات۔
لاطینی امریکا میں شہری آزادیوں، جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں پر کیا کچھ گزری۔ انھیں کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بقراط کا حلف اٹھانے والے ڈاکٹر، اپنے حلف سے کس طرح غداری کرتے رہے اور اس کے عوض ان کے درجات بلند ہوتے رہے۔ ان تمام معاملات سے آگہی کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ ’اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘۔
ناظرمحمود اپنے اردگرد یہ سب کچھ دیکھتے رہے ہیں۔ کتابوں اور فلموں نے ان کے ضمیر کو صیقل کیا ہے۔ وہ ان فلموں کا ذکر کرتے ہوئے غالب کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ’تنہا گئے کیوں، اب رہو تنہا کوئی دن اور‘۔ ان کے اندر مزاحمت کی کوئل کوکتی ہے۔ کبھی افریقا اور لاطینی امریکا کے جنگلوں میں کھو جانے والوں کا نوحہ پڑھتی ہے اور کبھی اپنے اردگرد کے لوگوں کی یاد دلاتی ہے۔
(جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker