ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

فاٹا کا سوال… (2): جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

یہ ایجنٹ افراد کے سرکشی کی اجتماعی سزا کے طور پر پورے کے پورے دیہاتوں کو منہدم کرنے کی طاقت بھی رکھتے تھے۔ ان کے زیر انتظام مسلح گروہ قبائل کی ناکہ بندی کر سکتے تھے اور شدید صورتوں میں انہیں جلا وطن بھی کر سکتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں ایف سی آر کے تحت برطانوی راج کے یہ نمائندے کسی قانونی عمل یا متاثرین کو استدعا کا اختیار دئیے بغیر من مانی سزائیں سنا سکتے تھے۔ برطانوی نو آباد کاروں سے ورثے میں ملنے والا یہ نظام پاکستان کے قیام کے بعد بھی قائم رہا اور ان قبائلی علاقوں کو انتظامی طور پر وسیع تر سرحدی صوبے (موجودہ پختون خوا) سے ہٹ کر اس طریقے سے وفاق کی عملداری میں رکھا گیا۔ 1947ء کے بعد بھی ایف سی آر کے نفاذ کے اغراض و مقاصد ماضی سے کچھ مختلف نہیں تھے۔ اس کا مقصد ریاست کے مفادات کا تحفظ تھا‘ جبکہ ان علاقوں کے عام لوگوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا‘ لیکن اس طریقہ کار نے اُس قبائلی اشرافیہ کی ریاست کے ساتھ وفاداری کی راہ ہموار کی جس کی مراعات، طاقت اور مالی حیثیت کا تحفظ اس سیٹ اپ کے تحت یقینی تھا۔ پولیٹیکل ایجنٹ کو بے شمار اختیارات کے ساتھ وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت حاصل تھی جبکہ فاٹا کے عام لوگ قانونی چارہ جوئی اور نمائندگی کے بنیادی حقوق سے بدستور محروم رہے۔ ”اجتماعی ذمہ داری کی شق‘‘ کے تحت کسی فرد کے کیے کی سزا پورے قبیلے یا دیہات کو دینے کی بھی اجازت تھی اور حکام سالوں تک فردِ جرم کے بغیر لوگوں کو قید رکھ سکتے تھے۔ حکومت بغیر کسی معاوضے کے نجی ملکیت کو قبضے میں لے سکتی تھی۔ اسی طرح ان علاقوں تک باہر والوں کی رسائی بھی بہت محدود تھی۔ ایف سی آر میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کسی مقامی شخص کو جرم کی نشاندہی کے بغیر قبائلی عمائدین حکومت کے حوالے کر سکتے تھے بصورت دیگر حکومت ان عمائدین کو سزاوار ٹھہرانے کا حق رکھتی تھی۔ فاٹا کے باشندوں کو ووٹ ڈالنے کا اختیار 1997ء میں کہیں مل سکا۔ اس سے قبل مخصوص با اثر افراد (مَلک) ہی ووٹ ڈال سکتے تھے۔ اس کے باوجود 2013ء تک سیاسی پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایف سی آر جیسے قوانین کا خاتمہ یقینا ایک مثبت اقدام ہو گا لیکن معاشی و سماجی تقسیم اور طبقاتی جبر کے خاتمے کے بغیر ایسا ہر اقدام ادھورا ہی رہے گا۔
افغان جہاد
افغانستان میں برپا ہونے والے ثور انقلاب کے خلاف امریکی سی آئی اے کے شروع کردہ جہاد کے کلیدی متاثرین میں فاٹا کے عوام بھی شامل تھے۔ اس جہاد کو فنانس کرنے کے لئے یہاں منشیات کی پیداوار اور ترسیل کا وسیع و عریض نیٹ ورک بچھایا گیا۔ افرادی قوت کی فراہمی کے لئے مدرسے کھولے گئے اور بنیاد پرستی کو فروغ دیا گیا۔ 1988ء میں روسیوں کے افغانستان سے نکل جانے اور بعد ازاں سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکیوں کی دلچسپی اس خطے میں خاصی کم ہو گئی لیکن فاٹا منشیات کی تجارت اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کا گڑھ بن گیا۔ منشیات کے بیش بہا کالے دھن پر پلنے والے یہ دہشت گرد گروہ اپنی دفاداریاں بدلتے رہے اور اس خطے کو برباد کرتے رہے۔ 2001ء میں امریکی جارحیت کے بعد صورتحال اور بھی پر انتشار اور خون ریز ہو گئی۔ دوغلی ریاستوں اور ان کے پراکسی گروہوں کے ٹکرائو میں معصوم لوگ مرتے رہے۔ اس نئی ‘گریٹ گیم‘ میں طالبان کے نئے سے نئے گروہ منظر عام پر آتے رہے اور ان کی آپسی لڑائیاں بھی مسلسل جاری رہیں۔ یہ درندے بالخصوص یہاں کے ترقی پسند رجحان رکھنے والے افراد اور خاندانوں کو نشانہ بناتے رہے اور پورے کے پورے خاندان قتل کر دئیے گئے۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے بھی زیادہ تر بے گناہ لوگ تھے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ یہی کیفیت بعد میں ہونے والے آپریشنوں میں پیدا ہوئی‘ لیکن افغان جہاد کے لئے منشیات، اغوا برائے تاوان اور دوسرے جرائم کی جس معیشت کو پیدا کیا گیا تھا وہ آج بھی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے پاکستان اور بالخصوص اِن قبائلی علاقوں میں غالب ہے۔ سیاسی سیٹ اپ اور انتظامیہ کی تبدیلیاں اس کالی معیشت سے وابستہ وحشی گروہوں اور ان کے سرغنہ سرداروں کا غلبہ کیسے توڑ سکتی ہیں؟ لیویز فورس کو برقرار رکھنے سے قانون نافذ کرنے کا ایک متوازی نظام بھی موجود رہے گا‘ جس سے عمل داری کی حدود مزید گڈ مڈ ہو جائیں گی۔
غربت
فاٹا کا شمار ملک کے غریب ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ باجوڑ، خیبر، کرّم، مہمند، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان جیسی کئی ‘پولیٹیکل ایجنسیوں‘ پر مشتمل یہ سنگلاخ خطہ 27220 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جس کی افغانستان کے ساتھ سرحد 1400 میل طویل ہے۔ شرح خواندگی صرف 17.4 فیصد ہے جن میں خواتین کی شرح 3 فیصد ہے۔ فی کس آمدن 250 ڈالر ہے اور 86 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ زیادہ تر خاندانوں کا گزر بسر نجی ضروریات کے لئے کی جانے والی زراعت، گلہ بانی اور چھوٹے کاروباروں پر منحصر ہے۔ بہت سے مقامی افراد روزگار کی تلاش میں ملک کے بڑے شہروں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کا رُخ کرتے ہیں‘ جہاں انہیں بد ترین استحصال کا شکار بننا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں مسلسل جنگی کی کیفیت اور آپریشنوں نے مقامی آبادی کی چھوٹی چھوٹی زرعی اراضیاں اور کاروبار بھی برباد کر دئیے ہیں۔ معاشی بربادی اور وسیع بے روزگاری کی یہی کیفیت بہت سے نوجوانوں کو کالے دھن سے وابستہ شدت پسند گروہوں کی طرف بھی راغب کرتی ہے۔ کچھ علاقوں میں اسلحے کی روایتی صنعت کے علاوہ کوئی جدید صنعت موجود نہیں‘ اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کا انفراسٹرکچر بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں اسلحے اور منشیات کا عبوری رُوٹ ہونے کی وجہ سے یہاں ‘نارکو اکانومی‘ ہی حاوی رہی ہے۔ لیکن فاٹا میں قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ یہاں سنگ مر مر، کاپر، چونا پتھر اور کوئلے کے بڑے ذخائر ہیں جو کان کنی کی بڑی صنعت کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بحران اور حل
ان معاشی اور سماجی حالات کے پیش نظر فاٹا کا پختون خوا میں انضمام یہاں کے عام لوگوں کے لئے کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائے گا۔ اِس نظام میں انصاف کا حصول بھی دولت کا متقاضی ہے اور قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جسے طاقتور پھاڑ کے نکل جاتے ہیں۔ کالے دھن سے وابستہ اشرافیہ ہی سیاسی اور معاشی طور پر غالب رہے گی۔ دوسری طرف ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی محض انتظامی تبدیلیوں تک ہی محدود ہے۔ کسی نظام کو چلانے کے کئی انتظامی طریقے ہو سکتے ہیں لیکن جب تک بنیادی معاشی اور سماجی بنیادوں کو نہ بدلا جائے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ مروجہ سرمایہ دارانہ نظام، جو کالے دھن اور قبائلی و جاگیردارانہ باقیات کی آمیزش سے کہیں زیادہ مسخ ہو چکا ہے، اِس پورے خطے میں یکساں بنیادوں پر وہ ترقی دینے کی اہلیت نہیں رکھتا کہ صحت و علاج سے محرومی، افلاس اور ناخواندگی جیسے سلگتے ہوئے مسائل کا خاتمہ کر سکے۔ بلکہ فاٹا جیسے علاقوں میں سرمایہ دارانہ رشتوں کی سرایت نے یہاں کے مسائل کو زیادہ بگاڑ دیا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس انتہائی پسماندگی میں جدید ترین سمارٹ فون ملتے ہیں۔ اسی طرح ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جنہیں پسماندگی و جدت کے امتزاج کے اِس عجیب تضاد اور پھر ملک کے دوسرے علاقوں سے روابط نے انتہائی ترقی پسندانہ اور جرات مندانہ نتائج اخذ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ فاٹا سے ہٹ کے بات کی جائے تو باقی ماندہ ملک کی حالت بھی نسبتاً ہی بہتر ہے۔ ہر جگہ عام محنت کش لوگ ویسے ہی اذیت ناک مسائل اور جبر و استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان ہی نہیں پورے جنوبی ایشیا کا یہی حال ہے۔ ہر جگہ حکمران طبقات اور ان کے اداروں کا جبر موجود ہے۔ بس شکلیں اور طریقہ واردات مختلف ہیں۔ لہٰذا بنیادی حقوق کے لئے فاٹا کے محروم و مجبور انسانوں کی جدوجہد کو پورے ملک اور خطے کے محکموں کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker