عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

لپس سروس: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

السلام علیکم بھائی جان میں لاہور سے انور بول رہا ہوں
شکر ہے یار تمہاری آواز سنائی دی ، مگر آواز بہت کم آرہی ہے ۔ ذرا اونچا بولو
بھائی جان شکر کریں فون مل گیا ، میں تو دو گھنٹے سے ٹرائی کر رہا تھا، لگتا ہے اس میں بیلنس نہیں تھا آپ نے ابھی ڈلوایا ہے :چلیں چھوڑیں:بھائی بچوں کا کیا حال ہے؟
سب ٹھیک ہیں ، تم سناؤ گھر میں سب خیریت سے ہیں؟
جی اللہ کا شکر ہے۔ پشاور کا موسم کیسا ہے؟
ابھی تو گرمی ہے ۔ لاہور کیسا جا رہا ہے؟
لاہور میں بھی یہی حال ہے۔ سنا ہے عذرا باجی سخت بیمار ہیں آپ ان کی طرف جائیں تو میری طرف سے پوچھ لیں۔
میں تو خود ایک مہینے سے ان کی طرف نہیں جا سکا۔ وقت ہی نہیں ملتا۔ ویسے شہباز آیا تھا وہ بتا رہا تھا پہلے سے بہتر ہے۔بڑا ترس آتا ہے ان پر۔ہماری اس بہن نے ساری عمر دکھ اور پریشانی میں ہی گزار دی۔
سنا ہے وہ مالی طور پر بھی پریشان ہیں؟
ہاں میں نے بھی سنا ہے جی چاہتا ہے ان کی مدد کرنے کو لیکن میں ان دنوں مکان بنا رہا ہوں ۔ ابھی تک اسی لاکھ لگ گئے ہیں مگر یہ مکمل ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔ ویسے میں نے شہباز کو کہا تھا کہ دوائیوں وغیرہ کی ضرورت ہو تو وہ ہسپتال میں ڈاکٹر رانا سے مل لے وہ میرا بچپن کا دوست ہے میں نے شہباز کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دے دیا تھا۔
چلیں یہ تو آپ نے بہت اچھاکیا۔ وہ اپنا کٹو ہے نا؟
کون کٹو؟
تایا جی اعجاز کا نواسہ؟
ہاں ہاں کیا ہوا اسے؟
پولیس اسے جوئے کے الزام میں پکڑ کر لے گئی
یہ تم کیا کہہ رہے ہو وہ تو بہت اچھا بچہ ہے
ہاں میں جانتا ہوں ۔ رضیہ آپی بھی روتی آئی تھی ۔ تایا ابو بھی آئے تھے کہ اس کے لئے کچھ کرو۔ وہ بالکل بے گناہ ہے۔
پھر تم نے کیا کیا؟
بھائی جان میں کیا کر سکتا ہوں۔ اس پر الزام ہی ایسا ہے کہ کسی کو کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اور پھر ویسے بھی آج کے زمانے میں کسی کی نیک چلنی کی گواہی کیسے دی جا سکتی ہے۔ کل کو میں جو سب کے سامنے شرمندہ ہوں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس معاملے میں آیا ہی نہ جائے چنانچہ میں نے رضیہ آپی اور تایا ابو کو ٹرخا دیا تھا۔
اچھا کیا،کبھی سلمان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
کون سلمان؟
بھئی وہ جو میرا بچپن کا دوست ہے کیا اس نے تمہاری طرف آنا، جانا چھوڑ دیا ہے!
اچھا سلمان بھائی ، اس بچارے کو تو فوت ہوئے ایک سال گزر چکا ہے۔
اوہو۔ بہت افسوس ہوا، تم جنازے میں گئے تھے۔
جانا تھا، مگرجب میں گھر سے نکل رہا تھا کچھ کاروباری دوست آ گئے ۔ بہت اچھا آدمی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے جب بھی آتا ہمیشہ آپ کی باتیں کرتا۔ آپ سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔
مجھے خود اس سے بہت محبت تھی کبھی اس کے گھر جانا ہو تو میری طرف سے بھابھی سے تعزیت ضرور کرنا۔ اور سیاست کا کیا حال ہے؟
آپ کے سامنے ہی ہے ملک میں تو اب قدرے سکون ہے لیکن عالم اسلام پر بہت برا وقت آیا ہے۔ بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے اور دشمنوں کو چوہدری بننے کا موقع مل رہا ہے۔
بس یار دعا کرو۔ اللہ حالات بہتر کرے۔ اس سے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔
جی ہاں پہلے سے آدھا رہ گیا ہے یہ آپ کی آواز بہت کم آ رہی ہے
میں تو خاصا اونچا بول رہا ہوں ویسے آواز تمہاری بھی بہت مدھم ہے
ہیلو
ہیلو ہیلو
ہیلو….ہاں اب کچھ بہتر ہے آپ لاہور آ رہے ہیں۔
میں پچھلے ہفتے چند گھنٹوں کے لئے آیا تھا کچھ ضروری کام تھے مگر تم سے ملاقات نہ ہو سکی ایک تو تم نے گھر بہت دور بنایا ہے اوپرسے تم فون بھی اکثر بند رکھتے ہو۔ہیلو یہ پھر گڑ بڑ شروع ہو گئی ہے۔
بھائی جان موبائل فون پر یہی خرابی ہے کہ ……
بھائی کو بھائی کی آواز سنائی نہیں دیتی مگر یہ خرابی کال میں نہیں۔ اس ’’لانگ ڈسلٹیلنس ‘‘ میں ہے جو مادہ پرستی نے رشتوں کے درمیان پیدا کر دیا ہے۔ کیونکہ تمہیں تو ایک شہر میں رہنے والے قریبی عزیزوں کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔
یہ کون گدھا درمیان میں آ گیا
چلو دفع کرو اسے تم اپنے بچوں کی تازہ تصویریں تو مجھے بھیجو بہت یاد آتے ہیں۔
وہ آپ کو بہت یاد کرتے ہیں
تم دونوں بہت جھوٹ بولتے ہوتم لوگوں کو اپنے علاوہ کچھ یاد نہیں۔
یہ کوئی بہت ہی لعنتی شخص ہے۔ اچھا بھائی جان پھر بات ہو گی۔
خدا حافظ
خدا حافظ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker