ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

پاکستان سپر لیگ اور ملتان سلطان۔۔ظہوردھریجہ

پاکستان کے سب سے بڑے سپورٹس ایونٹ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا افتتاح ہو گیا ہے۔ دبئی کے انٹرنیشنل سٹیڈیم میں رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فنکاروں اور گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ کرکٹ کے اس میچ کو دنیا کے کروڑوں انسان دیکھ رہے ہیں یقینا اس سے لاکھوں انسانوں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ پوری دنیا کا میڈیامکمل کوریج دے رہا ہے۔ سرائیکی وسیب کی دلچسپی اس میں بڑھ گئی ہے کہ ملتان سلطان کی ٹیم اس میں حصہ لے رہی ہے۔ گزشتہ برس بھی ٹیم نے حصہ لیا تھا اس میں دوسروں کے علاوہ ملتان کے شیخ احسن رشید نے تقریبات منعقد کرائی تھیں اور ملتان سلطان کو متعارف کرانے میں بھرپور حصہ ڈالا تھا، اُن کا کہنا تھا کہ ہماری دلچسپی لفظ ملتان سے ہے کہ ہم یہیں پر رہتے ہیں، گو کہ ٹیم ناکام رہی لیکن جیت ہار کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔ اس لئے سرائیکی شاعر ریاض عصمت نے کہا ہے کہ ’’کھیڈنے تاں ہار کوں نی ڈیکھناں‘ جھوٹ نے تاں دار کوں نی ڈیکھناں‘‘ بہر حال اس مرتبہ ہماری دعائیں ملتان سلطان کے ساتھ ہیں کہ خدا اسے کامیابی نصیب کرے لیکن میں ایک الگ موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں، وہ موضوع ملتان سلطان اور وسیب کی شناخت سے متعلق ہے۔ روزنامہ 92نیوز کے سپورٹس ایڈیشن میں دو خبریں شائع ہوئی ہیں، ایک خبر کے مطابق پاکستان سپر لیگ سیزن فور کے آغاز سے قبل پشاور زلمی نے گل پانڑہ اور زیک آفریدی کی آواز مین پی ایس ایل فور کا آفیشل پشتو ترانہ کا ویڈیو جاری کر دیا۔ پشاور زلمی کا پشتو ترانہ معروف پشتو گلوکار زیک آفریدی اور گل پانڑہ نے گایا ہے۔ جبکہ دوسری خبر کے مطابق ملتان سطان کا آفیشل نغمہ ریلیز کر دیا گیا، نغمے میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ٹریبیوٹ پیش کیا گیا، آفیشل نغمہ معروف فوک گلوکار عطاء اللہ عیسویٰ خیلوی کی آواز میں گایا گیا ہے جس کے بول ’’دھوماں پئے گیاں ہن ملتان سلطان دیاں‘‘ ہیں۔
ہر خطے کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے ۔ عجب بات یہ ہے کہ ملتان سلطان کے مالک تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی جہانگیر ترین ہیں۔ یہ حضرات جب الیکشن کا وقت ہوتا ہے تو خود کو بڑے فخر کے ساتھ وسیب سے نتھی کرتے ہیں، نیلی اجرکیں پہنتے ہیں اور جب الیکشن گزر جاتے ہیں تو ان کو وسیب کی شناخت سے بیزاری ہونے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ اعتراض ہوا کہ وسیب کا نام لینے کی بجائے اُسے اور نام دیا گیا، جس سے کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس کی بات کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں علی جہانگیر ترین نے کہا کہ سرائیکی وسیب میں دوسری زبانیں بولنے والے لوگ بھی رہتے ہیں اس لئے ہم نے اس کو جنوب کہا ہے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ تہذیب کیا ہوتی ہے ، ثقافت کیا ہوتی ہے اور قوموں کی زندگی میں زبان کی کیا اہمیت ہے۔ سرائیکی وسیب کے لوگ حکمرانوں کے بہت ستم رسیدہ ہیں تحریک انصاف کو محض تبدیلی کی آس اور امید پر ووٹ دیئے تو کسی بھی مظلوم کی آس کو بے آس نہیں کرنا چاہئے اور وسیب کو اُس کی پہچان سے محروم کرنا نہایت ہی بے انصافی ہو گی کہ پاکستان ایک گلدستے کی مانند ہے اس گلدستے کے اپنے اپنے رنگ اور اپنی اپنی خوشبوئیں ہیں اور یہ ایک ایسا چمنستان ہے جس میں پرندے اپنی اپنی بولیوں میں چہچہاتے ہیں اسی کا نام خوبصورتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت جس کے دوسرے سربراہ جہانگیر ترین بنے ہوئے ہیں نے وسیب کے لوگوں سے صوبے کا وعدہ کر رکھا ہے اور وسیب کے لوگوں کو حقوق دلوانے کی بات کی ہے تو اُن کو معلوم ہونا چاہئے کہ حقوق میں کسی بھی خطے کی شناخت اور اُس کا احترام بھی شامل ہے۔ نہ صوبہ دلوایا جا رہا ہے اور نہ ہی حقوق اور شناخت پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔میراتحریک انصاف سے انصاف کے نام پر سوال ہے کہ کیا دنیا کا کوئی بھی انصاف دہرے معیار کی اجازت دیتا ہے؟ سعودی عرب کا ذکر آیا ہے تو ولی عہد پاکستان تشریف لائے ہیں اس موقع پر وسیب کے لوگ بھی اُن کے دورے کو خصوصی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔سعودی عرب کا پاکستان سے بہت تعلق ہے۔ سعودی عرب میں پاکستان خصوصاً سرائیکی وسیب سے بہت سے لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ سعودی شہزادگان بھی وسیب میں شکار کیلئے آتے ہیں۔ ہماری اتنی گزارش ہے کہ وسیب کو صرف شکار گاہ نہ بنایا جائے بلکہ یہاں خطے کی ترقی اور انسانوں کی بہتری کیلئے اقدامات ہونے چاہئے۔ اصولی طور پر وسیب کے لوگ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور سرائیکی وسیب میں ’’سجن آون اکھیں ٹھرن‘‘کہتے ہیں لیکن چند ایک گذارشات پیش کرتے ہیں ۔ سعود ی عرب سے ہونے والے تجارتی معاہدوں کا تعلق سعودی یمن تنازعہ سے نہیں ہونا چاہئے ۔ان معاہدوں میں امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی طاقت کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے ۔معاہدوں کے نتیجے میں ہونے والے فنڈ کا حصہ تمام پسماندہ علاقوں سمیت وسیب کو بھی ملنا چاہئے۔ تجارتی معاہدے اور خارجہ پالیسی آزادانہ اور شفاف ہونی چاہیئے ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر دو طرفہ تعلقات کے ساتھ قریباََ 28لاکھ کے قریب پاکستانیوں کی حالت زار سے متعلق گفتگو ضروری ہے ۔ پاکستانی ماہرین کو سعودی عرب کے نئے وژن خصوصاََ 500ارب ڈالر کی لاگت سے بحرہ احمر کے ساتھ ’’نیوم ‘‘ کے ساتھ تعمیر ہونے والے شہرکو بھی باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عقیدت کا مر کز عیش وعشرت نہ بن جائے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker