ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

داتا دربار پر دہشت گردی۔۔ظہور دھریجہ

گزشتہ روز دہشت گرد نے امن کے مرکز داتا دربار کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دس افراد شہید اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ مزارات جو کہ انسان دوستی اور امن کا پرچار کرتے ہیں پر دہشت گردی کے واقعات نہایت ہی تشویش کا باعث ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہزاروں مریدین جو 900 سال سے حضرت ابوالحسن علی بن عثمان علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر خراج عقیدت پیش کررہے ہیں، ان کے مضبوط ارادے کمزور کرنے کیلئے شدت پسند عناصر نے صوفی بزرگ کے مزار پر ایک بار پھر لاہور میں بدھ کو حملہ کیا اور وہ بھی انتہائی آسانی سے۔حملے سے یہ بالکل واضح ہو گیا ہے کہ ریاست کی جانب سے مسلسل انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے باوجود بے لگام تنظیمیں تاحال قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور دہشت گرد مسلسل انسانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے اسباب کو بھی ختم کیا جائے۔ جب ہم مزارات پر دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جولائی 2010 ء میں تقریباً نو سال قبل حضرات داتا گنج بخش کے مزار پر دوخودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، 2010 ء کے حملے میں کم از کم 50 افرادشہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ واضح طور پر جذبات سے متاثر ہو کر یہ ظالم دہشت گرد تقریباً 14 سالوں سے صوفی بزرگوں کے مزارات پر ملک بھر میں مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان نفرت کے تاجروں نے گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں تقریباً تین درجن مزارات کو نشانہ بنایا ہے ، یہ مذہب کی مختلف تشریحات کو نافذ کرنا چاہتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وطن عزیز کے لوگ کب تک دہشت گردی کا شکار ہوتے رہیں گے؟ مختلف تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات پر تحقیق ہو رہی ہے۔ مزارات کے حوالے سے سنٹر فاراسلامک ریسرچ کو لیبوریشن اینڈ لرننگ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق 2005 ء سے 2017 ء کے درمیان صوفی بزرگوں کے مزارات پر کیے گئے دہشتگردوں کے حملوں میں 200 سے زائد افراد مارے گئے اور تقریباً 600 سے زائد زخمی ہوئے۔ دیہاتوں میں ایک کمرے پر مبنی مزارات سے اہم شہروں میں بڑے مپلیکسز تک ، لاکھوں لوگ ہر سال صوفی بزرگوں کے مزارات پر آتے ہیں۔ گزشتہ 14سالوں کے دوران پاکستان میں صوفی بزرگوں کے مزارات پر ہوئے حملوں کی مختصر تاریخ کے حوالے سے ایک رپورٹ کی تحقیق میں انکشاف ہوتا ہے کہ کسی بھی مزار پر رپورٹ شدہ حملہ 19 مارچ 2005 ء کو ہوا جب بلوچستان کے شہر جھل مگسی کے قصبے فتح پور میں پیر سید راخیل شاہ کے مزار کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں 46 افراد جاں بحق ہوئے۔ انہیں دنوں زائرین اور عقیدت مندوں کی طرف سے ایک سوال نامہ جاری ہوا تھا کہ ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے اگر دہشت گردی کی زد سے مساجد اور مزارات بھی محفوظ نہیں تو پھر کون سی چیز محفوظ رہ سکتی ہے؟ 27 مئی 2005 کو اسلام آباد کے گائوں نور پور میں بری امام کے مزار پر ہوئے طاقتور دھماکے میں 2درجن افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی گارڈز اور عینی شاہدین نے بتایا کہ مزار میں ایک درمیانے قد کا سیاہ رنگت والا شخص سٹیج تک آیا اور خود کودھماکے سے اڑا لیا۔ مقامی مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ، جب حضرت بری امام کے مزار میں مجلس عزاجاری تھی کہ ایک انجان شخص اچانک مزار کے احاطے میں داخل ہوا ، سپیکر چھیننے کی کوشش کی ۔ 18 دسمبر 2007ء کو گرینڈ ٹرنک روڈ پر موجود عبدالشکور ملنگ بابا کے مزارپر حملہ ہوا۔ مارچ 2008ء کو پشاور کے نواح میں حضرت ابوسعید بابا کے چار سو سال پرانے مزار پر حملہ ہوا، حملے میں دس دیہاتی مار ے گئے۔5 مارچ 2009ء کو 17 ویں صدی کے مشہور پشتو شاعر رحمان بابا کے مزار پر حملہ ہوا۔ اگرچہ رحمان بابا کے مزار پر ہوئے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس سے مزار کی حرمت پر ناقابل یقین نشان پڑ گیا۔ رحمان بابا حملے کے ایک روز بعد بہادر بابا کے مزار کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس میزائل کہاں سے آگئے؟ ہمارے صوفی شعراء نے ہمیشہ انسانیت کو امن اور محبت کا درس دیا لیکن ظلم یہ ہے کہ ہمارے بزرگ صوفی شعراء کے مزارات کو بھی نہیں بخشا گیا۔ رحمان بابا کے مزار پر حملے کے بعد سے ، ہنگو میں بہت سے صوفی بزرگوں کے مزارات ، نوشہرہ اور بونیر میں حملے ہوئے ، انہیں جلایا گیا بند کر دیا گیا۔ اسی دوران مساجد پر ہوئے حملوں میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد جاں بحق ہوئے ۔ کراچی میں اکتوبر 2010 ء کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پرہوئے حملے میں 9افراد مارے گئے۔ پاکپتن میں صوفی بزرگ بابا فریدکے مزار پر حملہ ہوا ، وہ بھی اکتوبر 2010 میں ہوا تھا، اس میں 60 لوگ مارے گئے۔ خیبرایجنسی میں صوفی شیخ نساء بابا شیخ بہادر بابا کے مزارات پر 11دسمبر 2012 ء کو حملے ہوئے۔ 25 فروری 2013 ء کو شکار پور کے گائوں مری میں غلام شاہ غازی کے مزار پر حملہ ہوا جس میں چار لوگ مارے گئے اور 27 سے زائد زخمی ہوئے۔ ہم جب وسیب کا جائز لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ 3 اپریل 2011 ء کو ڈیرہ غازیخان میں 13 ویں صدی کے صوفی بزرگ احمد سلطان المعروف سخی سرور کے مزار پر ہوئے حملے میں 52 افراد مارے گئے۔ رواں سال یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے ڈیرہ غازیخان میں سخی سرور کے مزار پر ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو ایک ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔ ملزم بہرام عرف صوفی بابا کو 52 بار سزائے موت اور 73 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر حملے کیلئے خودکش بم تیار کرنے کا الزام ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس سزا کو کالعدم قرار دیا کیونکہ استغاثہ کوئی زیادہ ثبوت فراہم نہ کر سکا۔ دوسرے ملزم عمر فدائی کو ٹرائل کورٹ نے 25 بار عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ملکی اعلیٰ عدالت نے سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس طرح سے کسی کو ایک زندگی میں 125 بار عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تمام سزائوں کو ایک ہی بار دینے کا حکم دیا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کو جاری رہنا چاہئے اور اصل دہشت گردوں کو گرفتار کرنا چاہئے۔ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق بیرونی قوتوں سے بھی ہے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار ہوتا آرہا ہے۔ عالمی طاقتوں کا اپنا ایجنڈا ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker