ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

سندھی رہنما رسول بخش پلیجو کی وفات: وسیب / ظہور دھریجہ

معروف سندھی قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ان کی وفات سے سندھ کی سیاست میں ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو مدتوں پُر نہ ہو سکے گا ۔ رسول بخش پلیجو سے میری ملاقات سرائیکی صوبہ محاذ کے بانی رہنما ریاض ہاشمی (مرحوم) کے توسط سے کراچی میں ہوئی، وہ ریاض ہاشمی کے دوست بھی تھے اور نظریاتی ساتھی بھی، ریاض ہاشمی نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان سرائیکی صوبہ تحریک کیلئے ہمارے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کا تعلق خان پور سے ہے۔ خان پو رکا نام سن کر پلیجو صاحب نے مجھ سے دوبارہ ہاتھ ملایا اور کہا آپ کا شہر بہت عظیم ہے کہ وہاں میرے سندھ کے ہیرو مولانا عبید اللہ سندھی دفن ہیں۔اس کے بعد متعدد بار مختلف سیاسی جلسوں میں ملاقاتیں ہوئیں ، پلیجو صاحب اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے سندھ وسیب سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے سیاسی رہنما تھے۔ بلاشبہ پلیجو صاحب نے سندھ کے سیاسی حقوق کی جنگ کے ساتھ ساتھ سندھی زبان ، ثقافت اور سندھی ادب کیلئے بھی بہت کام کیا،ان کی پوری زندگی سندھ کے حقوق کیلئے جدوجہد میں گزری، یہی وجہ ہے کہ آج ان کی وفات پر پورے سندھ میں سوگ منایا جا رہا ہے۔ سئیں رسول بخش پلیجو جنگ شاہی ضلع ٹھٹھہ میں 20 جنوری 1930ء کو علی محمد پلیجو کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتب مدرسہ میں سکینڈری تعلیم ٹھٹھہ ہائی سکول اور سندھ مدرستہ السلام کراچی میں حاصل کی ۔ مسلم لا کالج کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ ان کاشمار ملک کے بڑے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے نامور وکلاء میں ہونے لگا ۔ رسول بخش پلیجو بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ وہ ادب ، سماج ، سیاست ، تاریخ ، سماجی سائنس کے بارے میں بے پناہ علم رکھتے تھے ۔ 1954ء میں ایک سازش کے تحت مغربی پاکستان کے صوبوں کو تحلیل کر کے ون یونٹ قائم کیا گیا تو اس پر چھوٹے صوبوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا اور اینٹی ون یونٹ کمیٹی بنائی گئی جس میں سرائیکی وسیب کی طرف سے ریاض ہاشمی ممبر تھے ، رسول بخش پلیجو سندھ کی سیاست کے متحرک کردار رہے ۔ وہ ون یونٹ کے خلاف تحریک میں سندھی ادیبوں اور سندھی ادبی سنگتوں کے ساتھ ملکر سیاسی میدان میں جی ایم سید، ریاض ہاشمی ، حیدر بخش جتوئی ،قاضی فیض محمد اور کامریڈ غلام محمد لغاری کے ساتھ سرگرمیوں میں شریک رہے ۔جب 1968ء میں جی ایم سید ایوبی مارشل لاء کے دوران ایک طویل عرصے کی نظر بندی کے بعد آزاد ہوئے اور ’’ بزمِ صوفیاء سندھ ‘‘ قائم کی تو جی ایم سید اس تنظیم کے صدر اور رسول بخش پلیجو اس کے سیکرٹری بنے۔ پلیجو صاحب کا جی ایم سید سے اختلاف ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاست کیلئے علیحدہ راہ اختیار کی اور ایک نئی پارٹی ’’ عوامی تحریک ‘‘ کی بنیاد 1970ء میں رکھی ۔ کاروکاری اور جرگا سسٹم کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنا شامل تھا ۔ 1992ء میں سکھر سے کراچی تک ،2001ء سے بھٹ شاہ سے کراچی تک ، 2005 ء میں سکھر سے کراچی تک اور 2009 سے کندھ کوٹ سے کراچی تک کامیاب لانگ مارچ کئے ۔ 1986ء میں ضیا الحق کی آمریت کے خلاف ملک میں ہونے والی جدوجہد ’’ ایم آر ڈی ‘‘ میں اہم کردار ادا کیا اور اسکے کنوینئر بھی رہے ۔پلیجو نے 1987ء میں سندھی عوامی تحریک اور اسکی ذیلی تنظیموں پر مشتمل ’’ سندھی عوامی اتحاد ‘‘ بنایا اور 1988 میں سائیں جی ایم سید کی سربراہی میں سندھ قومی اتحاد کے قیام میں حصہ لیا ۔ وہ سیاسی جدوجہد کے دوران کئی بار جیل میں گئے۔ انہوں نے کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران ’’ کوٹ لکھپت جو قیدی ‘‘ ( کوٹ لکھپت کا قیدی ) کتاب لکھی ۔ بہاری روکو تحریک میں سرائیکی وسیب کی طرف سے بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ ، حمید اصغر شاہین اور ریاض ہاشمی نے کام کیا، ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے ، پونم میں بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہے ،ان سے اختلاف گریٹر تھل کینال کی تعمیر اورکالا باغ ڈیم کے مسئلے پر ہوتا رہا، ہم اس بات پر متفق تھے کہ کالا باغ ڈیم اتفاق رائے سے بننا چاہئے اور اتفاق رائے کے لئے ضروری ہے کہ سرائیکی صوبہ بنے اور پھر سرائیکی وسیب باحیثیت ایک فریق اور ایک اکائی کے طور پر اپنا مقدمہ دوسروں کے سامنے رکھے تاکہ اتفاق پیدا کیا جاسکے۔ ہم نے کہا کہ آپ لوگ پنجاب پر بے اعتمادی کرتے ہیں حالانکہ پنجاب کا کالا باغ سے کوئی تعلق نہیں یہ سرائیکی خطے میں آتا ہے ۔ جب بھی مذاکرات ہوئے سرائیکیوں اور سندھیوں کے درمیان ہونگے مگر وہ کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر سخت موقف رکھتے تھے دوسری طرف سرائیکی وسیب سے اسمبلیوں میں جانے والے جاگیردار، سیاستدانوں کو اس کا علم ہی نہیں کہ کالا باغ ڈیم کی سرائیکی وسیب کیلئے کتنی اہمیت ہے ، وہ آج 21 ویں صدی میں بھی گونگے اوربہرے بنے ہوئے ہیں بہرحال ہم نے اُس وقت بھی واضح کیا تھا کہ جب تک سرائیکی قوم کو مسئلہ کا فریق تسلیم نہیں کیا جائے گا تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ رسول بخش پلیجو ایک شعلہ بیان مقرر اور دانشور کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے تھے ۔ انہوں نے ایک استاد کے طور پر جواہر لال یونیورسٹی دہلی ، شکاگو یونیورسٹی امریکا، کمبرج یونیورسٹی ، اسیکس یونیورسٹی انگلینڈ، کنگسٹن یونیورسٹی اور کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بے شمار لیکچر دیئے ۔ پلیجو صاحب نے چار شادیاں کیں ، جن میں انکی پہلی بیوی ان کے اپنے خاندان سے ہے ۔دوسری بیوی کشمیری ، انکی تیسری بیوی مشہور فنکارہ زرینہ بلوچ ہے ۔ جبکہ چوتھی بیوی نامور کہانی کار (افسانہ نگار ) نسیم تھیبو سے ہوئی ۔ پلیجو صاحب کے ایک فرزند ایاز لطیف پلیجو وکیل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سندھی قوم پرست رہنما بھی ہیں ۔ ایاز لطیف پلیجو عوامی تحریک کے صدر کے ساتھ ساتھ سندھ نیشنل الائنس کے کنوینئر بھی رہے ہیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker