قمر ساجدکالملکھاری

ہاں ہم سیکو لر ہیں ۔۔ پاکستانی سیکولر : قمرساجد

آج فیس بک پر تین پوسٹس دیکھیں تو وہی جذباتی بہادری دل میں جاگ اٹھی جو تمام عقلی فلسفوں اور دنیاوی خوفوں کو پس پشت ڈال کر اپنی مٹی اور اپنے ملک کے لئیے جان دینے پر تل جاتی ہے اور ببانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ ہاں میں ہوں۔۔۔۔۔اور اپنے وطن کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی پوسٹ افغانستان کے اندر شائد کابل کی ہے جو میں نے صبح دیکھی ۔۔۔چند افغانی جوان پاکستانی جھنڈے کو آگ لگا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری پوسٹ منظور پشتین کی ہے جو پاکستانی افواج کے ظلم کے ذکر کے بعد اقوام متحدہ سے اپیل کرنے کی وارننگ دیتا ہے تیسری پوسٹ پھر دو افغانی جوانوں کی ہے جو پاکستانی پر چم پر کھڑے ہو کر پشتونوں اور بلوچوں کو بھائی کہتاہے اور ان پر ہونے والے ظلم کے تذکرے کے بعد پنجابیوں کو للکارتا ہے کہ یہ سب بے غیرت ہیں اور ان سے آزادی حاصل کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہانی کی بنت اور خلاصہ سمجھ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اب اس کہانی کو اندر کی طرف سے دیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔تیزی سے پھیلائی گئ مذہبی منافرت۔۔۔۔ختم نبوت، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو جلانا،گھروں کو مسمار کرنا، دھرنوں پہ دھرنے۔۔۔سیاسی عدم استحکام ، ٹی وی چینلز کے ذریعے پولرائزیشن ،سیاست میں گالی اور انتہا پسندی، کورٹس کا ایسے فیصلے دینا جن سے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو، بلوچستان میں اسمبلی کا ٹوٹنا اور بلوچ عوام کا یقین سیاسی اداروں سے اٹھنا، لوگوں پر اعتماد گھٹنا اور کسی بھی عقلی اور فکری مشورے پر انہیں غدار کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔ہیومن رائٹس یا عورتوں کے حقوق پر بات کرنے والوں کو زندیق قرار دینا اور زندیق قرار دینے والوں کی لگامیں کھلی چھوڑنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔گویا امریکہ کو جواز فراہم کرنا کہ وہ دنیا کو کہہ سکے کہ پاکستان ارض طالبان ہے اور اس پر حملہ کرکے اسے درست کرنا لازم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا نی سمجھ میں آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔منظور پشتین کے پہلے چار مطالبے بھی سمجھ میں آتے ہیں۔۔۔۔۔مسنگ پرسن کو عدالت میں لانا، فاٹا کو حقوق دلوانا، مائنز کا ختم کیا جانا، فوجی چوکیوں پر عزت نفس کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔او کے ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر افغانستان کی آگ کو اپنے ملک میں جلانا اور امریکہ کو دعوت دینا۔۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں ۔۔۔کیا افغانستان جو خود آزاد نہیں اب پشتونوں کو آزادی دلوائے گا ۔۔۔۔۔افغانستان نہیں آپ امریکہ کو دعوت دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا فوج میں پشتون اپنے حصے سے زیادہ حصہ نہیں رکھتے پھر اسے صرف پنجاب کی فوج کیسے کہہ سکتے ہیں اگر ان سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے وہ پنجاب کے سر کیوں؟ مسائل سب کے ایک جیسے ہی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا حل امریکہ نکالے گا ؟ ہم اندر کے تنازعے چاہے وہ جمہوریت کے ہوں، قومی ہوں، اقلیتوں کے ہوں یا فرقہ بندی کے۔۔۔۔۔۔۔۔خود حل کریں گے تاخیر ہوتی ہے۔۔۔۔قومیں بنتے صدیاں لگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔لوٹنے والے دولت مند کو احساس دلائیں گے کہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمہوریت نا شناس کو بتائیں گے کہ سیکولر اور جمہوری ہونے کے قوموں کو کیا فوائد ہیں۔۔۔۔۔۔میری باتیں شاعرانہ لگیں گی مگر عاقلانہ بھی امریکہ کو دعوت دے کر مسائل کا حل نکالنا بہت بڑی بے وقوفی ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا ہم ہو نے نہیں دیں گے۔ لہذا ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں :
کہ ہم سیکو لر ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی نظام جمہوری ہو
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی غیر سیاسی قوت جمہوری عمل میں مداخلت نہ کرے۔ملک کو ایک مضبوط اور پیشہ ور فوج کی ضرورت ہے اور ہم نے پیٹ کاٹ کر اپنی فوج کو بنایا ہے ہم چاہتے ہیں کہ فوج اور مضبو ط ہو تاکہ کسی بھی سپر پاور کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ ہم خطے میں امن بھی چاہتے ہیں اور آزادی کے لئے جنگ کو لازم نہیں سمجھتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ فوج اور عوام کا چولی دامن کا ساتھ ہو ہم سمجھتے ہیں کہ فوج عوام کے لئے ہے اور عوام سے ہے۔عدالتیں ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہ کریں جیسا کہ ہم پہلے کہتے تھے کہ ایگزیکٹو عدالت کے اختیار ات استعمال نہ کرے۔
ہم سیکولر پنجابی ۔۔۔بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور دیگر تمام انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں اور انہیں برابری کے حقوق کے ساتھ چلنے کی ان کے برابر مانگ کرتے ہیں
ہم عورتوں کے لئے بھی اس ملک کو جنت نظیر بنانا چا ہتے ہیں
ہم مزدوروں ، کسانوں اور عام انسانوں کو روزگار، گھر ، صحت، انصاف اور تعلیم کو بنیادی حقوق سمجھتے ہوئے ان کی ضمانت چاہتے ہیں
ہم اقلیتوں کو اقلیت نہیں پاکستانی سمجھتے ہیں اور اپنے برابر۔۔
ہم عقیدوں کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہم انسان اور خدا کی محبت کو ذاتی سمجھتے ہیں اوراس محبت کا صلہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔۔ہم مولوی کو اس فیصلے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہاں ہم سیکو لر ہیں ۔۔۔۔۔مگر یہ سب ہم پاکستان میں رہتے ہو ئے پاکستان سے ہی مانگ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔امریکہ سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی ہمیں کسی اور ملک پر انحصار کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ویت نام کے سیکولر۔۔۔۔۔۔نیپام بموں کے سائے میں اپنی آزادی کی حفاظت کر سکتے ہیں تو ہم ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔برے سے برے حالات میں بھی غلامی کی زنجیروں سے بچانے کا قصد اور ہمت جاری رکھیں گے۔
لیکن یہ سازشوں کا تانا ہے۔۔۔مودی اور بھارتی انتہا پسندوں اور امریکیوں کے عزائم کار فرما ہیں۔۔۔۔۔۔جذبات بھی قائم رہیں کیونکہ آزادی ایک جذبے کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور شاطروں کی شاطری کی چالیں سمجھنے کے لئے عقل کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔مزا تو تب ہے نا کہ دنیا کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لازم نہیں کہ سپر پاور جو چاہیں چھوٹے ممالک میں کریں
میری اور آپکی تقدیر کے فیصلے ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکہ میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز کریں ۔ سی پیک مکمل بھی ہو اور چین ہمارے لیے اگلی سپر پاور بھی نہ بنے۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں ۔۔۔۔ہم کر سکتے ہیں یہ نا ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن خدارا الیکشن شفاف رہیں، عدالت فل سٹاپ لگائے اور ٹی وی چینل” ریحامانہ انکری” اور الزام سازی کی فیکٹریاں بند کر کے عقل کے ناخن لے۔۔۔بہت کمالیا ۔۔۔میڈیا خاندان پیسے کے لا لچ میں اور کتنا گند پھیلائیں گے۔۔۔ مزید عدم استحکام کا مطلب ہے ۔۔۔مودیت اور امریکہ پالیسی پر عمل کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم جو بھی ہیں۔۔۔۔۔مسلم، ہندو، سکھ ، عیسائی، مرزائی، اہلیحدیث، سنی شیعہ، پشتو، بلوچ، سندھی کشمیری، گلگتی، پنجابی،فوجی، سویلین، جمہریت یا آمریت پسند ۔۔۔ایک بات طے ہے کہ پاکستان ہمارے ہونے کی ضمانت ہے بکھرا ہوا وار لارڈز میں بنٹا ہوا منتشر اور دھول سے اٹا ہوا افغانستان کسی کو بھی نہیں چاہئے اور مودییت ( بھارتی انتہاپسند بازو)اور امریکہ اب یہی چاہتا ہے ایک اور افغانستان۔۔۔۔۔۔مزید عدم استحکامیت اسی طرف لے جائے گی ایک چینی دانشور نے بھی پچھلے دنوں سی پیک کانفرنس میں پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی معاشرتی عدم استحکامیت کو قرار دیا تھا لہذا ہمیں ایک دوسرے پر شک کرنے کی عادت کو ترک کر دینا چاہئے سب پاکستانی ہیں اور سب محب وطن ہیں ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ خوشحال اور آزاد رہے بہت کمالیا۔۔۔ سب کے گھر بھرے ہیں سیاستدان، جرنل، بیورو کریٹ، تاجر، صنعت کار، صحافی، میڈیا خاندان،انکر، منصف، وکیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر گھر خالی یا گھر ہی نہیں تو وہ عام انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب ہم نے ہی کمانا ہے ؟۔۔۔ کچھ آنے والی نسلوں کے لئے کرنے کو بھی چھوڑ جانا چاہیے یا وہ برائلر بطخیں بنانی ہیں۔۔۔۔۔یاد رکھئے اور یہ ہمارا ستر سالہ تجربہ بھی ہے ۔۔۔۔۔معاشی کمزوری معاشرت کے تسلسل کے آڑے نہیں آتی مگر معاشرتی کمزوری معاشرے کو زیادہ دیر نہیں چلنے دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔،
ہم سیکولر ہیں ہم یہ سب چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پر آنچ آئی ہے تو ڈاڑھی اور بغیر ڈاڑھی والے، وردی اور بغیر وردی والے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سب ایک زنجیر ہوں۔۔یاد رکھئے ایک سیکولر کے لئے آزادی سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker