2018 انتخاباتشاہد راحیل خانکالملکھاری

خلائی مخلوق ، نسوانی مخلوق اور چچی ساس ۔۔ شاہد راحیل

میاں نواز  شریف کے بقول ان کا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے اور اب تو پنجاب جیسے پاور بیس بڑے صوبے پر ” عسکری “ نگرانی اورحکمرانی کے بعد میاں نواز شریف اینڈ کمپنی کی تشویش میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ گزشتہ چند ہی دنوں میں عسکری کالونی فیز ون(ن لیگ) میں ایک عرصہ سے رہائش پذیر لیڈر نماءافراد کی کثیر تعداد میں عسکری کالونی فیز ٹو(پی ٹی آئی) کی طرف نقل مکانی کا بڑھتا ہوا رجحان قرار دی جا رہی ہے۔اور اس کثرت انتقال لیڈران کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے عسکری کالونی فیز ٹو(پی ٹی آئی) میں جگہ کم پڑنے کے باعث بلیک کا دھندہ زور پکڑنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ہم نہیں کہتے، خود پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی بلیک میں ٹکٹ فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا تومیں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ اب خان صاحب ان جیسے ٹکٹ بلیکیوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے، جن کا دھندہ ہی کھڑکی توڑ ہفتے میں ٹکٹیں بلیک کر کے مال بنانا رہا ہو۔ ہم نہیں جانتے۔ہمیں تو ایک پرانی مثال یاد آرہی ہے۔ جو نانی اماں کی زبانی اکثر سنا کرتے تھے کہ کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا۔ بھان متی نے کنبہ جوڑا ۔ اب اس ضرب المثل کی تشریح درکار ہو تو کسی بزرگ سے پوچھ لیجئے گا۔ سامنے کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان ،کنبہ جوڑنے اور توڑنے میں ایک خاص مقام اور مہارت رکھتے ہیں۔ یہ عمران خان کی مہارت کا ہی اثر ہے کہ جمائماابھی تک جمائما خان کہلاتی ہیں اور انہوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ ان کا رکھ رکھاﺅ اور اخلاقیات اور تہذیب ہماری ”خان “خواتین ( گلالئی اور ریحام) دونوں سے کہیں بہتر ہے۔ ایک اپنے والد کو پہلو میں بٹھا کر ہوا کے دوش پر ہونے والی پیغام رسانی کا ذکر بڑی ڈھٹائی سے کرتی ہے اور دوسری بستر کی ایک ایک شکن کی داستان زمانے کو سنانے میں فخر محسوس کرتی ہے ۔ معروف جاسوسی ناول نگار مظہر کلیم خان ایم اے زندہ ہوتے تو ان سے رائے لی جا سکتی تھی کہ اس نئی عمران سیریز کی دونوں موجود ہ مصنفین اور راوی، عائشہ گلالئی اور ریحام خان میں سے کس کی سیریز زیادہ اچھی اور دلچسپ ہے اور وہ اپنے تحریری تجربے کی بناءپر یہ مسئلہ بھی حل کر سکتے تھے کہ اس کہانی کو کیا نیاموڑ دیا جائے جس سے عمران خان کا بلیک بیری موبائل فون بھی برآمد ہو سکے اور کہانی کو منطقی انجام بھی مل سکے۔ ریحام خان کی تا حال غیر مطبوعہ عمران سیریز پر سابقہ داماد اول کیپٹن صفدر(ر) نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پہلے بھی ایسی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔عورتیں ایسی کتابیں لکھتی رہتی ہیں۔ سابقہ داماد اول نے بڑی حسرت سے اپنے دل کی بات کہتے ہوئے بڑا معصومانہ سوال اٹھایا ہے کہ مرد ایسی کتاب کب لکھیں گے ؟داماد جی ہمت کریں۔ جو ان کے دل میں ہے وہ لکھ ڈالیں۔ اور اس کام کے آغاز کا کریڈٹ سمیٹ لیں۔ مریم نواز نے کتاب لکھ دی تو پندرہ سو ریال ماہوار والے دامادجی کاپول کھل جائے گا۔ ا ب تو شریف خاندان اقتدار سے باہر ہے۔ ممکن ہے اس کام پر خلائی مخلوق کی طرف سے تھپکی اور پذیرائی کا بھی کوئی اہتمام ہو جائے۔آخر کو داماد جی بھی کیپٹن ہیں ۔بھلے ان
کے نام کے ساتھ( ر)لگا ہوا ہے مگر ایک معروف کالم نگار کے بقول شہید کبھی مرتا نہیں اور غازی کبھی ریٹائر نہیں ہوتا ۔داماد جی اپنی چچی ساس کی کتاب ” میڈا سائیں “ سے استعفادہ کر کے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ممکن ہے چچی ساس اپنی سوتیلی بہو عائشہ احد کے ساتھ مل کر نسوانی مخلوق کی مزید رہنمائی اور نمائیندگی کا حق ادا کرنے کے لیئے کسی اور کتاب کے مسودے پر غور فرما رہی ہوں۔ہمیں تو اس بات سے دلچسپی ہے کہ دیکھیئے، آنے والے الیکشن میں کون کامیاب ہوتا ہے۔ خلائی مخلوق یا نسوانی مخلوق؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker