ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

محترمہ بے نظیر بھٹو اور وسیب۔۔ظہوردھریجہ

محترمہ کی شہادت نے صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو غمزدہ کیا ، وہ پاکستانی سیاست کی آبرو اور پاکستان کے غریب عوام کی آس امید اور تمنا تھیں ، ان کا قتل کروڑوں جمہوریت پسند غریب انسانوں کی آرزﺅں کا قتل ہے۔27 دسمبر لیاقت باغ راولپنڈی میں اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے محترمہ بینظیر نے کہا کہ کہ پنڈی نے مجھے بہت دکھ دیئے ہیں اور کچھ خوشیاں بھی ، انہوں نے کہا کہ پی پی کی تاریخ جدوجہد سے بھری پڑی ہے ، میرے والد جابر قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے اور تختہ دار پرر چڑھا دیئے گئے۔ میرے دو بھائی قتل ہوئے۔ میری ماں کا لاٹھیوں سے سر پھاڑ دیا گیا۔ مجھے قدم قدم پر اذیتیں دی گئیں اور ٹارچر کیا گیا۔ میں جیلوں کے اندر رہ کر بھی جمہوریت کیلئے لڑتی رہی۔ آمروں نے ہمیشہ جمہوریت کا راستہ روکا۔ میرے کراچی کے جلسے میں دھماکے کرائے گئے ، ہم نے اپنے سینکڑوں کارکنوں کے لاشے اٹھائے۔سیاسی یتیم کہتے تھے کہ بے نظیر بھٹو اب کبھی واپس نہیں آئیں گی لیکن میں تمام خطرات کو ایک طرف رکھ کے واپس آئی ہوں کہ میں موت سے نہیں ڈرتی اور اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ جینا مرنا چاہتی ہوں۔محترمہ کو پاکستان کے دوسرے خطوں کی طرح سرائیکی وسیب سے بہت محبت تھی۔ بہاولپور کے جلسہ عام میں محترمہ نے کہا کہ مجھے اور میرے بزرگوں کو بہاولپور سے پیار ہے ، یہ حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی اور جلال الدین سرخ بخاری کی دھرتی ہے ، میرے دادا میر مرتضیٰ بھٹو کو انگریز دور میں یہاں پناہ ملی، ہم بر سر اقتدار آ کر اس شہر میں زراعت کی ترقی ، بے روزگاری کے خاتمے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ افسوس کہ محترمہ کے فرمان کے برعکس پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود نہ تو بہاولپور میں کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور نہ کوئی صنعت قائم ہوئی نہ زراعت کو ترقی ملی اور چولستان میں زمینوں کی بندر بانٹ بندہ ونے کی بجائے بڑھ گئی ، آج سرائیکی وسیب میں گندم کے کھلے عام گودام بھرے ہیں لیکن لوگ بھوک سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ، کپاس ان کی ہے مگر کارخانے کہیں اور ہیں اور گارمنٹس کا ایکسپورٹر کوئی اور ہے۔ سرائیکی وسیب سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو پسماندگی ختم کرنے کیلئے ترقی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی۔ جس طرح سندھ اور سرائیکی وسیب کی تاریخ بہت قدیم ہے اسی طرح سندھ سرائیکستان کی تہذیبی ، ثقافتی جغرافیائی سانجھ بھی بہت پرانی ہے۔ سندھ سرائیکستان کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ان کی زبان ، ثقافت ایک رہی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے سندھ سرائیکستان میں بسنے والی قومیں اور ذاتیں نا صرف ایک ہیں بلکہ ان کے درمیان زمانہ قدیم سے رشتہ داریاں بھی ہیں۔ دونوں خطوں کے لوگ ایک ہی طرح کی تہذیبی، ثقافتی اور جغرافیائی مسائل کا شکار ہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان دکھ کی سانجھ قدرتی اور فطرتی طور پر موجود ہے۔اسی سانجھ نے دونوں کو اپنائیت کے دھاگے میں میں پرو رکھا ہے۔ اسی بات کا سب سے زیادہ احساس دیدہ ور سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو اور ا±ن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا۔ انہوں نے جس طرح اپنی ماں دھرتی سندھ سے محبت کی ا±سی طرح سرائیکی وسیب سے بھی محبت کی۔ لیکن آج مہاجر صوبے کے خوف سے سندھ کی قیادت نے سرائیکی وسیب سے آنکھیں پھیر لیں ہیں لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ سرائیکستان کو جو بھی خطرات ہوں ، ان کا مقابلہ باہمی اتفاق سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ بھٹو خاندان کو سرائیکی وسیب اور سرائیکی وسیب کو بھٹو خاندان سے محبت ہے، محترمہ کی شہادت پر سب سے زیادہ شاعری سرائیکی میں کی گئی۔ محترمہ نے ایک طویل نظم لکھی۔اس طویل نظم میں سے چار لائنوں کا مفہوم یہ ہے کہ اس جیون کا کوئی فائدہ نہیں جو ملتان ، کیچ مکران ، ملک مہران اور شہر مردان سے دور ہو۔ یہ محض اتفاق ہے یا قدرتی طور پر ایساہوا ہے کہ نظم میں لاہور ،پنڈی ، پنجاب یا پوٹھوہار کا ذکر نہیں ہے۔میں ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے جلسوں میں چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر، بینظیر۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد یہ زنجیر ٹوٹ گئی۔ گزشتہ قومی و صوبائی الیکشن کے بعد بلدیاتی الیکشن نے قوم کو اور قومی جماعتوں کو ایک ایک صوبے تک محدود کر کے قومی اکائی کو تقسیم کر دیا، یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جو ون یونٹ کے وقت صوبہ مغربی پاکستان اور صوبہ مشرقی پاکستان کے درمیان وقوع پذیر ہوئی۔ 1970ئ کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کی کوئی جماعت اور مغربی پاکستان میں مشرقی پاکستان کی کوئی جماعت کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ آخر یہ بات مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوئی۔ تمام سیاسی اکابرین کو اس پر غور کرنا ہو گا کہ حالات کا رخ اس طرف تو نہیں؟ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پی پی کی موجودہ قیادت نے سرائیکی قوم اور سرائیکی وسیب کے لوگوں کو سرائیکی صوبہ سرائیکی شناخت اور سرائیکی بنک بنانے کے خوش کن خواب دکھائے اور دن رات سرائیکی صوبہ سرائیکی صوبہ کا ماحول اس طرح بنایا کہ لوگوںکی خوش فہمی آسمان پر پہنچ گئی ، مگر اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر سرائیکی قوم کی بات نہ سنی گئی اور سرائیکی صوبے کا راستہ روکنے کیلئے ضیا الحق کی ترمیم کو برقرار رکھا گیا۔ سرائیکی صوبہ تو کیا سرائیکی بنک بھی نہ بنایا اور سرائیکی قوم کو شناخت دینے کی بجائے صوبے کا نام ”بی جے پی“ تجویز کیا اور بہت سے علاقے صوبہ بننے سے پہلے کاٹ دئیے تو اس پر سرائیکی وسیب کے کروڑوں لوگوں کے خواب چکنا چور ہوئے اور حوصلہ اور پرسہ دینے کی بجائے سرائیکی لوگوں کو کو مایوسی کے اندھے کنویں میں دھکا دیدیا۔ یہ اتنا بڑ صدمہ ہے جس سے سرائیکی لوگ آج تک واپس نہیں آ سکے، آج اگر بی بی زندہ ہوتی تو پی پی کی موجودہ قیادت سے پوچھتی کہ کیا ایسے سیاست اور قوم کی رہنمائی کی جاتی ہے ؟
(بشکریہ:روزنامہ92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker