ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

2018۔۔جانی جدا تھی ویندن۔۔ظہوردھریجہ

2018ءبیت گیا، نیا سال 2019ءشروع ہے ، پچھلے سال کو ہم یادوں اور نئے سال کوامیدوں کا سال قرار دیں تو غلط نہ ہو گا ، زندہ قومیں ماضی کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کر کے آنے والے وقت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں ، گذشتہ سال ملکی اورعالمی تناظر کے ساتھ ساتھ وسیب کے لئے بھی اتنا بہتر ثابت نہیں ہوا۔ سرائیکی رہنما حمید اصغر شاہین سمیت وسیب کی بہت سی شخصیات داغ مفارقت دے گئیں۔ایسے موقع پر سرائیکی شاعر نے کہا : جانی ج±دا تھی ویندن ارمان بہہ کریندوں پہلے پہر کہیں دا پچھلے پہر کہیں دا وسیب کی بات کرنے سے پہلے میں عرض کرنا چا ہتاہوں کہ گذشتہ سال کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا ، ڈالربہت اونچی سطح پر چلا گیااور روپیہ زمین بوس ہوا، کشمیر اور فلسطین میں مظالم جاری رہے ، میاں نواز شریف، مریم نواز ،کیپٹن صفدر ، شہباز شریف کے خلاف فیصلے آئے اور ان کو جیل جانا پڑا۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کے ساتھ ساتھ تیسری مرتبہ18فروری کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔کراچی میں پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود اور ا±وچ شریف کے تین سرائیکیوں کو فرضی پولیس مقابلے میں شہید کیا گیا، نقیب اللہ محسود کے قتل کا ہرجگہ احتجاج ہوا مگر سرائیکیوں کو بھلا دیا گیا۔5جنوری کو پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل اصغر خان 97برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 2نومبر کو جمعیت اللہ اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق اور25دسمبر 2018ئٓ کو ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کراچی میں قتل کر دئیے گئے۔7جون کو عوامی تحریک کے بانی اور بزرگ سندھی سیاستدان رسول بخش پلیجو اور 5مارچ کو معروف سندھی دانشور جام ساقی 73سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ 11فروری کو انسانی حقوق کی رہنما محترمہ عاصمہ جہانگیر وفات پا گئیں۔اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہیں مگر ہم اپنے وسیب کی طرف آتے ہیں۔ اسی سال عظیم سرائیکی شاعر جناب قیس فریدی فوت ہوئے ،قیس فریدی کا تعلق خان پور کے قصبہ کھائی خیر شاہ سے تھا، وہ عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ معروف ماہر لسانیات تھے ، بنیادی طور پر شعبہ تدریس سے وابستہ تھے ، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے تصنیف و تالیف کا عمل جاری رکھا اور ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ، ا±ن کا کینسر کا عارضہ لاحق ہوا ، غربت کے باعث پراپر علاج نہ کرا سکے ،حکومت سے بار بار اپیلوں کے باوجود سرکاری طورپر ا±ن کا علاج نہ ہوااور آخر کار وہ 3اگست کو قصبہ مﺅ مبارک میں وفات پا گئے۔ملتان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ نقاش ا±ستاد عالم خان 13فروری کو فوت ہوئے اور اسی طرح ایک اور عظیم فنکار ا±ستاد عبد الرشیدخان اسی سال 15جون کو ملتان میں فوت ہوئے۔ ا±ستاد عالم ملتانی کاشی گری کے حوالے سے بہت بڑا نام تھا اور ان کو متعدد عالمی ایوارڈ ملے ، اسی طرح ا±ستاد عبدالرشید خان نے ہڈی ورک کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنا نام کمایا۔ سرائیکی وسیب کے قصبہ شیدانی شریف سے تعلق رکھنے والے عظیم گائیک او ر مہدی حسن کے سب سے پیارے شاگرد ا±ستاد سجاد رسول 10 اگست کو کراچی میں انتقال کر گئے۔معروف سرائیکی دانشور اور ادبی تنظیم ”سویل “ کے سربراہ پروفیسر شمیم عارف قریشی 11اگست کو فوت ہوئے۔سرائیکی ادب و ثقافت کیلئے ان کی بہت خدمات ہیں ، وہ انگریزی کے پروفیسر تھے مگر سرائیکی کیلئے بہت کام کیا۔جواں سال ریڈیو پروڈیوسر ذیشان ملک 7ستمبر کو فوت ہوئے۔ جلالپورپیر والا سے تعلق رکھنے معروف عالم دین مولانا اللہ یار کا 14اپریل ،ملتان سے تعلق رکھنے والے مولانا ہدایت اللہ پسروری 17اپریل،بہاولپور سے تعلق رکھنے والے معروف سیاستدان سردار عبد اللہ خان ڈاہر 8دسمبر ، جاسوسی ناولوں کی دنیا میں عالمی شہرت رکھنے والے مظہر کلیم 19جنوری کو فوت ہوئے، ا±ن کی تخلیقات کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 800کے لگ بھگ تھیں۔دربار حضرت موسیٰ پاک شہید ملتان کے سجادہ نشین مخدوم وجاہت حسین گیلانی 17اپریل کوفوت ہوئے۔ امیر شریعت حضرت عطائ اللہ شاہ بخاری کے صاحبزادے سید عطاءالمومن بخاری 22اپریل کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ ا±ردو زبان کے صاحب اسلوب شاعر اقبال ارشد کا 4ستمبر کو ملتان میں انتقال ہوا، وہ اپنی دھرتی، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے بے پناہ محبت کرنے والے انسان تھے۔14جولائی کو جھنگ کے شاعر رحمان فراز اللہ کو پیارے ہوئے اور 22نومبر کو اسی دھرتی کے سلیم سیال نے وفات پائی۔سرائیکستان قومی موومنٹ کے بانی حمید اصغر شاہین 25دسمبر کو فوت ہوئے ، ا±ن کاقول تھا کہ سیاسی کارکن کبھی نہیں مرتا مگر ا±س کی ا±س وقت موت واقع ہو جاتی ہے جب وہ اپنے وسیب کو بھلا دیتا ہے۔رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا رشید احمد لدھیانوی 5مارچ کو فوت ہوئے۔اسی سال تحریک انصاف کے نو منتخب ایم پی اے طارق خا ن دریشک 4اگست کو اور جلالپور پیروالا کے غلام عباس کھاکھی بھی فوت ہو گئے۔سرائیکستان یوتھ کونسل دھریجہ نگر کے ہونہار کارکن شہباز دھریجہ 21فروری کو فوت ہوا۔ سرائیکی وسیب بہت بڑے خطے کا نام ہے ‘ صادق آباد سے ڈی آئی خان اور ٹانک تک اس میں قریباً 23 اضلاع آتے ہیں ، میں نے صرف چند ایک کا تذکرہ کیا ہے ، اس سے پورے وسیب کا مکمل جائزہ نہ سمجھا جائے۔ سیاسی حوالے سے دیکھا جائے تو ابھی تک سرائیکی وسیب کو کوئی خوشخبری نہیں ملی۔ جس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں لولی پاپ ملتے آئے ، تحریک انصاف کے دور میں بھی لولی پاپ کا وہی سلسلہ جاری ہے۔ 2018ء میں وسیب کے نامور سیاستدانوں نے (ن) لیگ کو چھوڑا ، اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے کر صوبہ محاذ بنایا اور صوبہ بننے تک چین سے نہ بیٹھنے کاعہد کیا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے سردار نصر اللہ خان دریشک ، مخدوم خسر و بختیار، رضا ہراج، سردار ذوالفقار خان کھوسہ، چوہدری سمیع اللہ، چوہدری طاہر اقبال چیمہ، چوہدری سمیع اللہ ، رانا قاسم نون اور بہت سے دوسرے تحریک انصاف میں چلے گئے اور تحریک انصاف سے 100دنوں میں صوبہ بنانے کا وعدہ لیا، الیکشن کا اعلان ہوا ، سرائیکی اجرکیں پہن کر صوبے کے نام پر ووٹ لئے ، کامیابی حاصل کی ، وسیب کی حمایت سے تحریک انصاف مرکز اور صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ،100دن گزر گئے سوال یہ ہے کہ 100دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ کہاں گیا؟ وسیب کے لوگ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سردار عثمان خان بزدار اور دوسرے اکابرین سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنے وعدے کی طرف توجہ دیں گے ؟
(بشکریہ: روزنامہ92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker