Browsing: نصرت جاوید

ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔

یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔

’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔

مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔

پنکی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ اور پھولدار پاجامہ پہن کر اپنے ہاتھوں میں پانی کی بوتل سے کھیلتی عدالت میں کمال خوداعتمادی اور اطمینان سے یوں چل رہی تھی جیسے کوئی ملکہ اپنی راجدھانی میں گشت کررہی ہو۔

پاکستان سے فلپائن تک پھیلے میرے اور آپ جیسے کروڑوں افراد ایران اور امریکہ کو تخت یا تختہ کی صورت حال میں دھکیلنے کے ذمہ دار نہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت مگر ہماری زندگیاں عذاب بنارہی ہیں اور ہم کسی بھی صورت ان دو ممالک کو لچک دکھانے کو مجبور نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے میرے دل ودماغ آپ کو خیر کی امید دلانے کا ایک فقرہ بھی سوچنے کے قابل نہیں۔

ہمارے ہمسائے میں لہٰذا دونوعیت کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ خلیج سے آئے تیل اور گیس بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ا یرانی حکومت کی اجازت اور تعاون درکار ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوئے ایرانی جہازوں کو مگر امریکی بحریہ کے دستے چیک کرتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش اور بحرہند میں ایران سے آئے جہازوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ کا برقرار رہنا جنگ بندی میں توسیع کے با وجود میرے وہمی دل کو دیرپاامن کی امید دلانے میں ناکام ہورہا ہے۔ گولی چلائے بغیر برقرار رکھی بے یقینی دل ودماغ کو حقیقی جنگ سے کہیں زیادہ ذہنی خلجان میں مبتلا رکھے گی۔

دسمبر 1965ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان امریکہ گئے اور بشیر ساربان کے دوست سے پاک-بھارت جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے برتی سردمہری پر دُکھ اور شکوے کا اظہار کیا۔ بشیر ساربان کا دوست مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ بھارت ہی کو کمیونزم کا اصل دشمن تصور کرتا رہا۔ امریکہ سے لوٹتے ہی لہٰذا صدر ایوب خان کمیونسٹ کیمپ کے قائد سوویت یونین سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے ۔

کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔