اختصارئےکاشف رفیقلکھاری

فواد ، اسد منیر ، اور اختیارات کا زعم : چنگی گل / کاشف رفیق

یہ فواد حسن فواد کے عروج کے دنوں کی کہانی ہے ، جس وقت افسر شاہی طاقت کے نشے میں چُور ہوکر مخالفین کو لتاڑ رہی تھی ۔ مجال ہے کہ فواد اور ان کے حواریوں کی حکم عدولی کرنے والے پوسٹنگ لے سکیں ۔ بہت سے افسران کوصبح وشام نشانِ عبرت بنانے کی پلاننگ کی جاتی تھی۔۔۔۔افسر شاہی کا خمار ایسا سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ صحیح اور غلط کی تو بات ہی نہیں!بس اوپر سے حکم آیا ہے کہ”کر دو اگر نہیں کرسکتے تو چارج چھوڑ دو “۔اگر کوئی چارج چھوڑ دیتا تو پھر نواز دور میں اچھی پوسٹنگ دیوانے کا خواب بن جاتا۔۔۔اُن دنوں کی بات ہے میں ایک سرکاری افسر کے پاس بیٹھا اسی معاملے پرمحو گفتگو تھا میں نے ایک دوسرے سرکاری افسر کے تعلقات پر رَشک کرتے ہوئے اپنے دوست کو کہا کہ بھائی جان وہ بہت طاقتور شخص ہے!جس پر میرے دوست نے کہا کہ کاشف یاد رکھو یہاں کوئی طاقتور نہیں۔۔۔کیونکہ میں نے بہت سے طاقتوروں کو دُھول چاٹتے دیکھا ہے۔اس جملے کے بعدمیرے دوست گویا ہوئے کہ میں ایک دوست کے پاس ناشتے پر گیا تو میز پر پسٹل پڑا تھا اور وہ دوست ایک بات کر رہا تھا کہ اگر میں خودکشی کرلوں تو میرے بچوں میں جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی ؟پھرکوئی قانونی چارہ جوئی تو نہیں ہوگی؟میں ہکا بکا میزبان کے منہ کی طرف دیکھ رہا تھا میں نے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے ؟ وہ دوست بولا یار مجھ سے کوئی پیسے لے لو اور نیب سے میری خلاصی کروادو۔۔جس پر مہمان دوست نے میزبان دوست کو کہا کہ جس وقت طاقت کے اندھے خمار میں ناجائز کام کررہے تھے اور مال بنا رہے تھے اس وقت یہ کیوں نہیں سوچا کہ پکڑ بھی ہوسکتی ہے۔۔۔بس اب خود کشی نہ کرو بلکہ اللہ سے توبہ کرو اور اُسی سے فضل مانگو وہی آسانی پیدا کرے گامیرے دوست نے جب بات مکمل کرلی تو میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئےبولے کاشف صاحب کبھی کسی کے تعلقات اور عہدوں سے متاثر نہ ہونا ۔۔ایک بیوروکریٹ کے جملے نے مجھےآج تک اپنے سحر میں لے رکھا ہے اور حقیقت یہی ہے کیونکہ جس دوست کے تعلقات پر میں رَشک کرتا تھا وہ بھی بوجہ نیب آج پابند سلاسل ہے اورجس فواد کو لوگ اپنا مائی باپ مانتے تھے وہ بھی پابند سلاسل ہےکل تک جو فواد کے گُن گاتے تھے آج کپتان کی بیوروکریسی کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے پھر رہے ہیں اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک سرکاری افسر نیب پشاور گئے اور خود کو گرفتار کرنے کا بولنے لگے وجہ معلوم کی گئی تو موصوف بولے کہ مجھے میرے بچے مارنے کی پلاننگ کررہے ہیں تاکہ میں نیب کو پلی بارگین کے تحت پیسہ واپس نہ کردوں یاد رہے اسدمنیر کو بھی تعلقات اور پیسہ خود کشی کرنے سے نہ روک سکا بڑے بڑے عہدوں پر اختیارات کا زُعم رکھنے والو مال بنانے والویاد رکھو اختیارات صدا کے لیے نہیں ہوتے لیکن پکڑ کا فارمولا صدا رہنے والا ہے!!

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker