یو یارک : امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی خریداری کی افواہوں کی گردش نے ٹوئٹر کے سٹاک ریٹ میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔واضح رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کو خریدنے کی خبروں میں اس وقت تیزی آئی جب رپورٹس کے مطابق ٹیسلا کے سربراہ سے ٹوئٹر بورڈ کی ملاقات میں 43 ارب ڈالر میں ڈیل ہونے پر بات چیت ہوئی۔
نیو یارک میں ٹوئٹر کے شیئرز میں تقریبا چار فیصد اضافہ ہوا اور یہ افواہ زور پکڑ چکی ہے کہ حتمی ڈیل کا اعلان بھی جلد ہو سکتا ہے۔ایلون مسک نے بھی سوموار کو ٹوئٹر پر اپنے اکاوئنٹ سے پیغام دیا کہ مجھے امید ہے کہ میرے بدترین دشمن بھی یہاں موجود رہیں گے کیوں کہ یہی آزادی اظہار رائے ہے۔
ٹویٹر کے بورڈ نے مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک سے ملاقات کی ہے تاکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے لیے اُن کی لگائی گئی 43 ارب ڈالر کی بولی کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایلون مسک امریکی قرض دہندہ مورگن سٹینلے اور دیگر مالیاتی اداروں کی مدد سے بولی میں لگائی گئی رقم ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹویٹر کے ترجمان نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
خبررساں اداروں روئٹرز، نیویارک ٹائمز اور بلومبرگ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایلون مسک اپنی پیشکش کو کس طرح فنانس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس بارے میں امریکی ریگولیٹرز کو جمعرات کے روز تفصیلات بتائی گئیں جس کے بعد ٹویٹر کے 11 رکنی بورڈ نے ممکنہ معاہدے پر سنجیدگی سے غور کیا۔
واضح رہے کہ حال ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایلون مسک ٹوئٹر کے نو فیصد سے زیادہ شیئرز کے مالک ہیں اور انھوں نے اپنی بولی کے لیے 46.5 ارب ڈالر کا فنانسنگ پیکج تیار کیا ہے۔فنڈنگ کے لیے رقم ان کے اپنے اثاثوں اور وال سٹریٹ بینکنگ کمپنی مورگن سٹینلے اور دیگر فرموں سے حاصل ہو گی۔
مسک کے فنانسنگ پلان کے اعلان کے بعد ٹویٹر کے متعدد شیئر ہولڈرز نے مبینہ طور پر کمپنی سے رابطہ کیا اور اس پر زور دیا کہ وہ ممکنہ معاہدے کا موقع ضائع نہ کرے۔
انوسٹمنٹ فرم ویڈبش سکیورٹیز کے تجزیہ کار ڈین آئیوس کا کہنا ہے کہ بہت سے سرمایہ کار اس بات چیت کا مطلب یہ لیں گے کہ ٹویٹر کا بطورِ عوامی کمپنی خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی اور خریدار سامنے نہیں آتا تو مسک اب تقریباً اس کمپنی کو حاصل کرنے والے ہیں۔
ڈین آئیوس اسے ’گیم آف تھرونز بیٹل فار ٹوئٹر‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین شخص مسک کی جانب سے کمپنی پر قبضے کی کوشش بورڈ پر مزید دباؤ ڈالے گی۔
یاد رہے کہ فوربز میگزین کے مطابق ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، جن کی دولت کی مجموعی مالیت 219 ارب ڈالر ہے۔رواں مہینے کے شروع میں مسک نے ٹویٹر کے بورڈ میں نشست سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ حصص محدود ہو جائیں گے جن کی انھیں ملکیت کی اجازت تھی۔ اس کے بعد مسک نے 14 اپریل کو کمپنی کے لیے ایک غیر منقولہ پیشکش کی۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ٹوئٹر نے ایلون مسک کو اپنے بورڈ کا حصہ بننے کی آفر بھی کی تھی لیکن بعد میں ٹوئٹر نے اعلان کیا کہ ایلون مسک نے اس سے انکار کر دیا ہے۔
ٹوئٹر نے ایلون مسک کی پیشکش کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا بورڈ ’اس تجویز کا بغور جائزہ لے گا تاکہ اس طریقہ کار کا تعین کیا جائے جو کمپنی اور تمام سٹاک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں ہو۔‘
یاد رہے اس سے قبل ایلون مسک نے کہا تھا کہ انھیں ’یقین نہیں‘ کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے ان کی لگائی گئی بولی کامیاب ہو گی۔
ایلون مسک نے یہ تبصرہ اس انکشاف کے چند گھنٹے بعد کیا تھا کہ انھوں نے ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے فی حصص 54.20 ڈالر کی پیشکش کی ہے یعنی انھوں نے کمپنی کی مالیت کا تحمینہ 41 ارب ڈالر لگایا تھا۔
اس وقت بھی ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو نے کمپنی کے ملازمین کو بتایا کہ کمپنی اس آفر کا جائزہ لے رہی ہے۔
مبینہ طور پر پیراگ اگروال نے عملے کے ساتھ میٹنگ میں کہا تھا کہ اس آفر کے حوالے سے کمپنی پر کوئی دباؤ نہیں۔وینکوور میں ٹیڈ 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں کہ میں ٹوئٹر کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاؤں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ٹوئٹر کے لیے ان کی بولی مسترد کیے جانے کی صورت میں ان کے پاس ’پلان بی‘ ہے لیکن اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے انھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تھیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

