حکمراں اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے معاملے پر اہم مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہوگیا۔
مذاکراتی دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے دور میں تفصیل کے ساتھ مثبت طریقے سے تمام چیزوں پر تبادلہ خیال کیا اور مجموعی نتیجہ مثبت نکلا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں ایک ہی دن تمام انتخابات ہونے چاہئیں اور صوبوں میں الگ یا مختلف تاریخ پر انتخابات کی کوئی بات نہیں ہے۔
ڈان ڈاٹ کام کے نمائندے نے بتایا کہ یہ مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس کے ایک ہال میں ہوئے۔
مذاکرات میں حکومت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے اسحٰق ڈار، خواجہ سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ ، سردار ایاز صادق کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی اور سید نوید قمر شامل تھے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا وفد وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر پر مشتمل ہے۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکمران اور پی ٹی آئی مذاکرتی کمیٹی کےاعزاز میں عشائیہ دیا جس میں اسحٰق ڈار، طارق بشیر چیمہ،نوید قمر،اعظم نذیر تارڑ اور یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی،فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر شریک ہوئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کے مذاکرات میں آپ سب کو پتا چل جائے گا کہ ہماری کیا شرائط ہیں، ہم پہلے سے میڈیا کو کیا بتائیں آج ہم حکومتی ٹیم سے کیا بات کرنے جا رہے ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا دونوں جانب سے مذاکرات میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، ہم سنجیدگی اور ایمانداری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تیسری نشست کے لیے حکمت عملی طے کی۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کی جو مذاکرات کے مخالف ہیں۔
جمعے کو ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران دونوں اطراف کے رہنماؤں نے اپنی تجاویز پیش کیں, پی ٹی آئی کے وفود نے اپنی قیادت اور حکومتی نمائندوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا کہا تھا۔
مذاکرات کے بعد اسحٰق ڈار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ منگل کے روز (آج) ہونے والی بات چیت مذاکرات کا تقریباً آخری دور ہوگا۔
خیال رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سپریم کورٹ کی تجویز پر گزشتہ ہفتے شروع ہوئے تھے جس سے طویل عرصے سے جاری تعطل کا خاتمہ ہوا تھا، مذاکرات کے دو دور کے بعد اب فریقین کے درمیان کل بروز منگل مذاکرات کا تیسرا اور آخری دور متوقع ہے۔
تاہم، مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات بہت کم نظر آ رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے مذاکرات کے کامیاب نتائج کی راہ ہموار کرنے کے لیے 14 مئی تک قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ روز بھی عمران خان نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر کے حکومتی کے بد دیانت منصوبے میں نہیں پھنسےگی اور اگر سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی تو پارٹی سڑکوں پر نکلے گی۔
حکومت نے عمران خان کے الٹی میٹم کو ناقابل عمل قرار دیا اور ان سے کہا کہ وہ بات چیت کی کامیابی کے لیے لچک کا مظاہرہ کریں۔
قبل ازیں وفاقی وزیر جاوید لطیف نے پی ٹی آئی اور حکمران اتحاد کے درمیان مذاکرات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دہشت گردوں‘ اور قومی اداروں کو تباہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
اس سے ایک روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ انہیں مذاکرات کا کوئی ’مثبت نتیجہ‘ نظر نہیں آرہا، انہوں نے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا جبکہ وہ شرائط عائد کر رہے ہیں۔
ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر برائے ترقی احسن اقبال نے بھی کہا کہ ہم عمران خان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بندوق کی نوک پر مذاکرات نہیں کر سکتے، مذاکرات کی پہلی شرط یہ ہے کہ کوئی پیشی شرائط عائد نہیں کی جائے گی، عمران خان اتنے بے چین ہیں کہ وہ اپنا راستہ یا ہائی وے چاہتے ہیں۔
پی ڈی ایم کے صدر اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے بھی مذاکرات اور بات چیت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کا حصہ نہیں بن رہے۔
تاہم پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابات کے لیے مسلم لیگ (ن) پر زور ڈالنے والی پیپلز پارٹی بات چیت کے حوالے سے پُرامید تھی، پی پی پی کے سینئر رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی قمر زمان کائرہ نے ڈان کو بتایا کہ مجھے امید ہے کہ 14 مئی تک اسمبلیوں کی تحلیل عمران خان کی جانب سے ایک شرط کے بجائے تجویز ہے البتہ یہ تجویز قابل عمل نہیں، مئی میں قومی اسمبلی تحلیل ہوگئی تو بجٹ کون پیش کرے گا؟ آئی ایم ایف کے ساتھ گفت و شنید اور آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کو نگران سیٹ اَپ پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس طرح کے مشورے کے باوجود پی پی پی کا خیال ہے کہ اکثریتی فیصلہ غالب ہو گا اور یہ مذاکرات ناکامی پر ختم نہیں ہوں گے۔
انتخابات کے حوالے سے متفقہ فیصلے کے لیے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف اور عمران خان سے ملاقات کرنے والے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ہم مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پُرامید ہیں کہ وفاقی اتحاد اور پی ٹی آئی دونوں ہی ڈیڈلاک کی طرف نہیں جائیں گے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

