اسلام آباد: پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے ڈرائیور اظہار کی اہلیہ اور برادر نسبتی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، پولیس پارٹی پر حملہ کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے کے مندرجات کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم شہباز گل، جو بغاوت کے مقدمے میں پولیس کی حراست میں ہیں، نے دوران تفتیش پولیس حکام کو بتایا کہ جب پولیس نے انھیں گرفتار کیا تو انھوں نے اپنا موبائل فون اپنے اسسٹنٹ اور ڈرائیور محمد اظہار کے حوالے کر دیا تھا۔
اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دوران تفتیش ملزم شہباز گل نے پولیس کو بتایا تھا کہ محمد اظہار اس وقت اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم سے کی جانے والی تفتیش کی روشنی میں شہباز گل کے زیر استعمال موبائل فون کی بازیابی کے لیے پولیس کی ایک ٹیم نے جب مذکورہ گھر پر چھاپہ مارا تو مہرین بی بی، جو اظہار کی اہلیہ ہیں، اور اظہار کے برادر نسبتی محمد نعمان سمیت سات افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس سے دو پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹ گئیں۔
مقدمے کے مطابق ان میں سے پانچ افراد وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے مہرین بی بی اور محمد نعمان کو حراست میں لے لیا۔گرفتاری کے بعد ملزمان کو متعقلہ عدالت میں پیش کیا گیا تو متعقلہ عدالت نے شہباز گل کے ڈرائیور کے برادر نسبتی محمد نعمان کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا جبکہ ڈرائیور کی اہلیہ مہرین بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل فیصل چوہدری نے درج مقدمہ کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ رات 9 بجے کا واقعہ ہے جس کا ویڈیو ثبوت موجود ہے کہ بغیر وارنٹ پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو مارا پیٹا گیا۔واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کو قانونی قرار دیا ہے۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ ہم نے حبس بے جا کی درخواست دائر کرنی تھی لیکن پولیس نے میڈیا پر خبر نشر کروا دی۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں خاتون کی بریت بنتی ہے اور اس مقدمہ میں ایک دفعہ کے علاوہ تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خاتون ملزمہ کی ایک 12 ماہ کی بچی ہے جو ماں کے بغیر گھر میں رو رہی ہے۔ انھوں نے استدعا کی کہ خاتون ملزمہ کو مقدمہ سے بری کیا جائے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمہ کی بچی کو بھی عدالت میں لایا گیا جس نے اپنی والدہ کو دیکھ رونا شروع کر دیا۔ پولیس نے بچی کو ماں کے پاس جانے سے روکا تو عدالت نے حکم دیا کہ بچی کو ماں کے حوالے کیا جائے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

