کل سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں ٹرپل ون بریگیڈ کے دانشور، مایوسی کے محمود بوٹی، گندی گالیوں کے موجد جناب حسن نثار سے اینکر سے سوال پوچھا کہ فاطمہ بھٹو نے عمران خان کو ضیاء الحق کی سیاست کا وارث کہا جس پر چمپو چماٹ نے دانت پیس کر کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ فاطمہ بھٹو نے یہ بات کی ہے کیونکہ میں ان کو ایک پڑھی لکھی عورت سمجھتا تھا، اس بات کے بعد وہ مجھے مریم نواز لگی ہیں اور پھر فرمایا کہ عمران خان کو تو معلوم ہی نہیں کہ ضیاء الحق کی سیاست کیا تھی۔ ان دونوں میں قطبین کا فرق ہے۔
معلوم صرف یہ نہیں ہو پایا کہ حضرت کو غصہ کس بات پر آیا؟ اس پر کہ عمران خان کو ضیاء الحق کا سیاسی جانشین کیوں کہا گیا یا فاطمہ بھٹو نے کیوں کہا؟ کیونکہ حسن نثار کے مالکان فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کو پیپلز پارٹی اور خصوصاً بلاول بھٹو کے مقابلے پر لانچ کرنا چاہتے ہیں تو شاید اپنے مالکان کے منصوبے کو خاک میں ملتا حسن نثار سے نہ دیکھا جا رہا ہو۔
میں فاطمہ بھٹو کا وہ ارٹیکل یا بیان نہیں دیکھ پایا اور ضرورت اس لیے محسوس نہیں ہوئی کہ اس کا جواب تو ہم جیسوں کو معلوم ہے فاطمہ بھٹو تو بہت پڑھی لکھی شخصیت ہیں۔
آؤ حسن نثار تمہیں بتائیں کہ عمران خان ہی ضیاء الحق کا اصل وارث ہے کیونکہ تم نے آج تک جہالت پڑھی، تعصب پھیلایا اور ذلت ہی تمہارا مقدر ہے۔
1982 وہ سال ہے کہ جب عمران خان ٹیم میں ظہیر عباس، خود سرفراز نواز اور ماجد خان کے ہوتے ہوئے کپتان بنے ماجد خان وہ ہیں کہ جو عمران خان کو کرکٹ میں لے کر آئے سرفراز نواز وہ کہ جنہوں نے عمران خان کو باؤلنگ اور خصوصاً ریسورس سوئنگ سکھائی اور ظہیر عباس کا تعارف کرانا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، نوجوانوں کے لیے صرف اتنا کہ ان کو آج بھی زمانہ ایشین ڈان بریڈ مین کہہ کر یاد کرتا ہے، ان تین دیو ہیکل کرکٹرز کی موجودگی میں یہ صاحب کپتان بنا دیے جاتے ہیں، اور نہ صرف کپتان بلکہ با اختیار کپتان جو خود کہتا ہے کہ آج تک پاکستان کرکٹ بورڈ مجھے کسی بات پر مجبور نہیں کر سکا تو کوئی اور کیا کرے گا۔ جس کو دل کیا کھلایا، جس کو دل کیا ڈراپ کر دیا، اس ایماندار کی ایمانداری کی ایک جھلک یہ بھی ہے کہ 1982 میں کپتان بنا تو 1983 میں آف شور کمپنی بنائی جو 2018 تک ظاہر نہیں کی تھی اور ان کے اپنے بقول آف شور کمپنیاں چوری کا پیسہ چھپانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
ضیاء الحق پاکستان کے وہ پہلے حکمران ہیں کہ جنہوں نے سیاست میں کرکٹ کا استعمال شروع کیا جب وہ کلکتہ میں ہونے والے ایک میچ کو دیکھنے پہنچ گئے تھے، جب اسی لاڈلے کی سربراہی میں پہلا ٹیسٹ جیتنے پر قومی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا تھا اور انہی عظیم کارناموں کے نتیجے میں کرکٹ ڈپلومیسی کی ٹرم ایجاد ہوئی۔
1983 کا ورلڈ کپ ہندوستان نے کپل دیو کے کپتانی میں جیتا ایک بار محسن حسن خان جو کہ 1983 کے ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ تھے ایف ایم 103 لاہور اسٹیشن پر آئے تو انہوں نے بتایا تھا کہ عمران خان زندگی میں سب سے زیادہ رنجیدہ اور غمزدہ تب تھا کہ جب ہم سب نے اکٹھے بیٹھ کر کپل دیو کو ورلڈ کپ اٹھاتے دیکھا، وہ کہتے ہیں کہ عمران کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اس دنیا کو آگ لگا دے اور اسی دن اس نے کہا تھا کہ اب میں کرکٹ ہی نہیں کھیلوں گا۔ ان کی بات اس لیے رد کرنے والی نہیں کہ ایک تو وہ ان لمحات کے عینی شاہد ہیں دوسرے وسیم اکرم سمیت ہر کوئی عمران خان اور کپل دیو میں مقابلے بازی کا تذکرہ بہت زور و شور سے کرتا ہے اور تیسری بات یہ کہ عمران خان نے 1984 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کیا تھا اور حسن نثار کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس ریٹائرمنٹ سے عمران خان کو ضیاء الحق نے روکا اور اس طرح کپتانی با اختیار سے بڑھ مطلق العنان ہو گئی۔ وہ شخص کہ جو دس سال ایک فرعون کی طرح ٹیم پر مسلط رہا، وہ کہ جو گراؤنڈ میں ایسے چلتا تھا کہ جیسے سلطان راہی فلموں میں، جو بدمعاش تھا، جس میں سپورٹس مین سپرٹ نام کی چیز موجود نہیں تھی، جو ہر بہتر پرفارم کرنے والے سے خوفزدہ تھا، اس کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ اس کی کپتانی میں پچاس میں سے پاکستان نے صرف چودہ ٹیسٹ جیتے، اس آدمی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وہ پاکستان کی جیت پر لڑکوں کی میچ فیس لگواتا رہا ہے، وہ کہ جس نے بال ٹیمپرنگ، میچ فکسنگ اور نہ جانے کیا کیا ایجاد کیا، ابھی کل عبد القادر کا ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا کہ جو انہوں نے انڈیا میں سنیل گواسکر کی موجودگی میں دیا اور بتایا کہ ہمیشہ شروع کی وکٹیں ہم لیتے تھے اور جب ٹیل شروع ہوتی تو عمران خود آ جاتا ایک بار میں اڑ گیا کہ نہیں میں ہی اسپیل کراؤں گا تو خان نے مجھے کہا کہ یہ آخری اوور ہے یا آخری میچ خود فیصلہ کر لو، عمران خان کا ہر ٹریننگ یافتہ جوئے باز تھا، وسیم اکرم صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا مجھے عظیم فاسٹ باؤلر مانتی ہے جبکہ ہمارے بچے مجھے میچ فکسرز کہتے ہیں تو ہم وسیم بھائی کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ اور وقار یونس کے بعد دنیا نے وہ بنانا یارکر نہیں دیکھے کیوں؟ کیونکہ آپ لوگ بال ٹیمپر کیا کرتے تھے بلیڈ، پیسی کی بوتلوں کے ڈھکن، ٹراوزر میں لگی بڑی بڑی زپس سب اسی کام کے لیے استعمال ہوتا تھا، میں نے ثقلین مشتاق سے بالمشافہ ملاقات میں سنا تھا کہ ایک بار وقار یونس نے مجھے کہا تھا کہ جس طرف سے ہم نے بال شائن کی ہوئی ہے اس کو رف کیا تو تم ٹیم سے باہر ہو گے۔
یہ تو ہو گئی کرکٹ سرفراز نواز نے کرکٹ سے فراغت کے بعد پیپلز پارٹی جوائن کی ان کا انٹرویو کہ جو انہوں نے مذاق رات پروگرام میں دیا کہ بینظیر بھٹو نے مجھے کہا کہ عمران خان کو بھی کہو کہ مجھ سے ملے جب سرفراز نواز نے عمران خان کو فون کیا کہ بینظیر تم سے ملنا چاہتیں ہیں تو آگے سے جو جواب ملا وہ حسن نثار کے لیے ہے کہ ”مجھے ضیاء الحق نے بیٹا بنایا ہوا ہے میں نہیں جا سکتا وہ ناراض ہو گا“ (یہ انٹرویو یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔)
آئیے اب آپ کو ایک اور انٹرویو کا حوالہ دیتے ہیں ماریہ ذوالفقار خان انٹرویو کر رہی تھیں عبد الستار ایدھی کا جن سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ انگلینڈ کیوں چلے گئے تھے؟ جس پر ایدھی صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے پاس جنرل حمید گل اور عمران خان آئے تھے اور ان سے بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے مدد چاہتے تھے جب ایدھی صاحب نے انکار کیا تو ان کو دھمکیاں دی گئیں جس کی وجہ سے وہ چند ہفتوں کے لیے انگلینڈ چلے گئے تھے، (ایدھی کو ڈرانا اس بھی ضروری تھا کہ شوکت خانم ہسپتال کی کمپین چلانا آسان ہو سکے) تو حسن نثار صاحب یہ بتائیں کہ حمید گل کون تھا؟ اور کس کی پراڈکٹ تھا؟
عمرانی سیاست کا ضیائی ہونا اس اسلامی ٹچ سے واضح ہوتا ہے کہ جو عمران خان کی سیاست کا تاج ہے اس میں پائی جانے والی نرگسیت، گفتگو کا عامیانہ بلکہ گھٹیا پن، اسلام کی غلط ترین تعبیر، لبرل ازم کے متعلق گمراہ کن رویہ، دروغ گوئی، الزام تراشی سب کچھ ضیاء الحق کی ہی طرز سیاست ہے۔
ایک ضمنی بات اس ملک کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ نواز شریف ضیاء الحق کی باقیات میں سے ایک ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ نواز شریف نے پہلا الیکشن کب لڑا؟ نہیں تو سنیے نواز شریف نے پہلا الیکشن 1979 میں لڑا۔ پہلی بار نواز شریف کو ضیاء الحق سے جنرل غلام جیلانی نے ملوایا تھا اور تعارف یہ کرایا تھا کہ لڑکے میں بڑا دم ہے، بزنس کرنا بھی جانتا ہے، کرکٹ بھی اچھی کھیلتا ہے، سیاست کا بھی شوقین ہے۔ سب سے بڑی بات بھٹو سے اسے بہت الرجی ہے یہ ایک جھلک ہے کہ کب سے کسی کو تیار کیا جاتا ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن کچھ کردار ایسے ہمارے ارد گرد ہوتے ہیں کہ جنہوں نے ہمارے مستقبل کا تعین کرنا ہوتا ہے جبکہ اس بات سے وہ اور ہم دونوں بے خبر ہوتے ہیں آئیے اسی طرح کا ایک اور منظر دیکھتے ہیں۔
عمران خان ڈکٹیٹروں کا وارث ہی نہیں گارڈین بھی ہے کیونکہ جب 2006 / 2007 میں تمام سیاسی پارٹیوں نے پرویز مشرف کے خلاف ایکا کیا اور چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیا تو اس میں صرف دو جماعتیں نہیں تھیں ایک ق لیگ اور دوسری تحریک انصاف آج بھی پی ڈی ایم میں سب ہیں اگر نہیں ہیں تو یہی دو جماعتیں نہیں ہیں باقی سب وہی ہیں جو پرویز مشرف کے خلاف اکٹھے ہوئے تھے۔
آخری دلیل جو حسن نثار کے لئے وہی تاثیر رکھتی ہے جس طرح ہر روز ارشاد بھٹی جمہوریت کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ کیا ہی عجب اتفاق ہے کہ آج اگر کسی بھی امر کی اولاد کو کسی سیاسی پارٹی میں پناہ ملتی ہے تو وہ تحریک انصاف ہے چاہے وہ ایوب خان کا پوتا عمر ایوب ہو، ڈھاکہ کے مفرور جنرل غلام عمر کا بیٹا اسد عمر ہو یا ضیا الحق کا بیٹا اعجاز الحق ہو جو کہ ضیاء لیگ نامی پارٹی سمیت تحریک انصاف میں ضم ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف کے ڈی این اے میں آمریت کی جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی، پوری ہو جائے۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

