Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, اپریل 27, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
  • ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
  • ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے
  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اندھیر نگری چوپٹ راج : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم
  • ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»میرے لطیف الزماں خاں صاحب ملتانی ( پہلا حصہ ) : ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خاکہ
ادب

میرے لطیف الزماں خاں صاحب ملتانی ( پہلا حصہ ) : ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خاکہ

ایڈیٹراپریل 26, 202323 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
lateef uz zaman
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سچ پوچھیں تومجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ اِن آنکھوں نے اپنے نہایت محترم استاد، بزرگ دوست اور بے تکلف ساتھی لطیف الزماں خاں کو سکوتِ ابد کی سفید چادر اوڑھے ہوئے دیکھا ہے۔ آواز اور مزاج کی ایک مخصوص لہر اور رویے کا بلند آہنگ تسلسل، جو ایک زمانے میں پوری گھن گرج اور شکوہ کے ساتھ سنائی دیتا تھا آج محض ایک نحیف باز گشت کی مانند ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔ حرف و صوت کی رنگا رنگی اور بے باکی بھی کفن کی سفیدی اور خامشی کے سامنے نوحہ کناں ہے۔ ایک دور جاتے اور غبار اوڑھے مسافر کی طرح جسے آخرِ کار نظروں سے اوجھل ہو ہی جانا ہوتا ہے۔ زندگی کے طویل شب و روز جو اُن کے ساتھ گزارے اور شاید جن کا حساب لگانا ہی ممکن نہیں، ایک خواب کی طرح دیکھا اور افسانے کی طرح سنا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
ملتان کینٹ کے پوش اور پر سکون علاقے میں واقع گھر کے خاموش کمرے میں اُن کی میّت گزرے دنوں کا خلاصہ بیان کر رہی تھی۔ کیا واقعی اِس شخصیت کے ساتھ میں نے زندگی کے تیس برس عقیدت، احترام، محبت، دوستی اور عداوت ایسی ہمہ رنگی میں گزارے ہیں؟ نہ آنکھوں پر یقین آتا ہے اور نہ دل مانتا ہے کہ کبھی اُنھیں اِس حالت میں بھی دیکھنا پڑے گا کیونکہ اپنے پیاروں اور بہت قریبِ دل و جاں لوگوں کے بارے میں مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ یہ کبھی نہیں مر سکتے۔ فانی بدایونی کا وہ شعر جو خان صاحب اکثر اپنی مرحومہ بیگم کو یاد کرکے پڑھا کرتے تھے،آج خود اس شعر کی مجسم تصویر بنے زیرِ کفن ہماری بے بس کیفیت پر مسکرا رہے تھے کہ جیسے پوچھ رہے ہوں کہ”میاں کیا آج اس شعر کی کیفیت اور معنویت کا اندازہ ہوا؟“
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
وہ لمحہ بلامبالغہ بے زبانی کی تصویر ہی تو تھا، ایک ایسی تصویر جسے ہم کبھی دوبارہ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کفن سے جھلکتے چہرے پرشانتی اور سکون کے ساتھ الوداعیہ اداسی کا تاثر بھی تھا۔ نواسی برس کی آتش زیر پائی اور گل افشانیئ گفتار کی نیرنگی اُس ایک لمحے میں ہزار داستان سنارہی تھی۔ ”گرمیئ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک“ کے مصداق اَن گنت کہانیوں کا ایک نہ ٹوٹنے والا سلسلہ اُس الوداعی لمحے سے اب تک ذہن کی سکرین پر جاری و ساری ہے۔وہ سب کہانیاں جو ہم نے سنیں یا جن کا مشاہدہ کیا یا جن میں بطور کردار شامل رہے وہ سب کسی ماورائی جہانوں کا قصہ لگتا ہے۔
لطیف الزماں خاں سے میری شناسائی، نیاز مندی، عقیدت، احترام، دوستی، بے تکلفی اور عداوت تین عشروں سے کچھ زیادہ پر محیط ہے۔ یہ غالباً 1982ء کا قصّہ ہے، میں اُس وقت آٹھویں جماعت کا طالب علم تھااور گورنمنٹ کمپری ہنسو ہائی سکول ملتان میں زیرِ تعلیم تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے میرے بڑے بھائی کے ایک دوست کی آنہ لائبریری تھی۔”عباس لائبریری“ کے نام سے یہاں بچوں کے لیے کہانیوں اور جاسوسی ناولوں کا بڑا اسٹاک موجود تھا۔ میں سکول کی کتابوں سے ہٹ کر اس لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھتا تھا اور جب ان ناولوں کے پڑھنے پر پابندی عائد ہوئی تو بڑی بہنوں اور بھائیوں کی ایف اے اور بی اے کی کتب پڑھنا معمول بن گیا۔ ان دنوں ایف اے کی اردو کتاب ”مرقع ادب“ کے نام سے تھی جس میں نثر کے ساتھ ساتھ حصہ نظم کا شاندار انتخاب شامل تھا۔ شعر و ادب سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف اسی کتاب کے ذریعے سے ہوا۔ سچ پوچھیں تو شعر کہنے کا شوق بھی اسی کتاب کے ذریعے دامن گیر ہوا اور کچھ ہی عرصہ میں بزعم خود میر و غالب کے قبیلے کا شاعر سمجھنے لگا تھا۔ لطیف الزماں خاں اُن دنوں میری ہمشیرہ کو انگریزی کی ٹیوشن دینے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک دن میری ہمشیرہ نے بڑے فخر و انبساط کے ساتھ خان صاحب کو میری غزلوں کی ڈائری دکھائی کہ ”سر میرا بھائی آٹھویں میں ہے اور شعر کہتا ہے“۔ خان صاحب نے اپنی روایتی تنک مزاجی کے ساتھ ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے حسبِ توقع یہ انکشاف کیا کہ برخوردار کی بیشتر غزلیں خارج از وزن ہیں اور شاید کسی بحرِ نامعلوم میں کہی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے جنابِ عاصی کرنالی سے اصلاحِ شاعری کا مشورہ بھی مفت میں دے ڈالا۔مجھے خان صاحب کی یہ تلخ رائے حسد پر مبنی محسوس ہوئی (اُس عمر میں حسد اور رشک کی تمیز بھلا کہاں ہوتی ہے) اور میں اُن کے مشورے کے بر خلاف اُسی بحرِ نامعلوم میں بے سمت سفر کرتا رہا۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ جنابِ عاصی کرنالی کی بے پناہ عزت اور تکریم کے باوجود میں ذہنی طور پر اِس لیے بھی اُن کے قریب نہ ہو سکا کہ خان صاحب نے مجھے اُن سے اصلاحِ شاعری کا مشورہ دیا تھا۔ ویسے بھی لڑکپن میں بُنے گئے خوابوں اور تعمیر کیے گئے ہوائی قلعوں پر اپنی ہی حکمرانی ہوتی ہے بھلا کسی اور کا علم لہراتا کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
اپنی پہلی ہی ملاقات میں اس خلافِ منشا رائے پرخان صاحب دلِ یزداں میں کانٹے کے مصداق قرار پائے گئے۔اب کوئی شخص اگر کسی ”ابھرتے ہوئے شاعر“کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے سرے سے شاعر ہی نہ مانے تو بھلا اُس سے راہ و رسم کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پس خان صاحب کو ”نوجوان دشمن بزرگ“ مان کر نظر انداز تو کر دیا گیامگر ”نفیِ شاعر“ کی رڑک (جو یقینا نفیِ ذات سے بڑھ کر ہے) کا احساس تلملاتا رہا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہ اچانک سرِ راہے اُن سے ملاقات ہو گئی۔لیڈیز پارک سے گول باغ جانے والی سڑک پر خان صاحب سائیکل پر بیٹھے میری مخالف سمت سے نمودار ہوئے۔ وہ اتنے سست روی یا شاید احتیاط سے سائیکل چلاتے تھے کہ اردگرد کے سبھی منظروں کو اپنے اندر جذب کرتے چلے جاتے تھے۔ میں نے اُن کی نظروں سے بچنے کی کوشش تو کی مگر خان صاحب کی نظر سے کون بچا ہے سو میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ خان صاحب نے جواباً سائیکل روک لی اور پہلا سوال ہی بھرتے زخموں کو ہرا کر گیا۔ ”ارے میاں کیسی چل رہی ہے تمھاری شاعری واعری“۔صاف ظاہر ہے میرے پاس اُن کے کسی سوال کا شافی جواب نہیں تھا تاہم اِس بار اُن کا لہجہ طنزیہ نہیں بلکہ مشفقانہ تھا۔ ”اچھا بھئی ہم چلتے ہیں اور ہاں ملتے رہا کرو“۔اِن تاکیدی جملوں میں وہ محبت اور شفقت تھی جس نے آنے والے تین عشروں تک مجھے ان کے ساتھ جوڑے رکھا۔
اِس ملاقات کے بعد خان صاحب سے وقتاًفوقتاً ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ وہ جب بھی بہت شفقت اور محبت سے گھر آنے کی دعوت دیتے تو میں سمجھ جاتا کہ اب یقینا لائبریری کی صفائی اور کتابوں کی جھاڑ پونچھ کا کام ذمہ لگنے والا ہے۔ صفائی کا یہ کام مجھے کبھی مشکل نہیں لگا مگر غصہ اس بات پر آتا کہ خان صاحب سر پر سوار رہتے اور اگر کبھی اتقاق سے کوئی کتاب کھول کر دیکھنے لگتا تو خان صاحب ”چلیں میاں جلدی سے صفائی کیجئے ابھی اس کمرے کو دارالمطالعہ بنانے کا میرا کوئی پروگرام نہیں ہے“۔ یہ عرصۂ صفائی میرے لیے عرصۂ شفقت ہوتا مگر عام دنوں میں اُن کے مزاج کی دھنک کئی رنگ بدلتی۔ ایک مرتبہ خان صاحب ڈاک خانہ سے نکلتے دکھائی دیئے تو میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ابھی وہ گھر کے دروازہ میں داخل بھی نہ ہونے پائے تھے کہ میں نے زور دار مگر شفقت طلب انداز سے انھیں سلام کیا۔ جواباً خان صاحب نے بڑے روکھے انداز میں کہا ”جی فرمائیے کیا مسئلہ ہے“۔ اُن کے اجنبیت بھرے لہجے اور رنگِ شناسائی سے عاری آنکھوں کو دیکھ کر میں نے وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنے ہی میں عافیت سمجھی۔مزاج کی یہ تغیر پذیری آغاز میں تو بہت گراں گزری مگر بہت جلد خود کو اِس کے ساتھ ڈھال لیا۔ بعض اوقات میں انھیں تنگ کرنے کے لیے الٹی سیدھی باتیں بناتا رہتا تھا جنھیں اکثر اوقات مجھے خود ہی پورا کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً سردیوں کے دنوں میں انھیں گھٹنوں کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے ازراہِ مذاق انھیں مرغوں کے پنچوں کی یخنی پینے کا حکیمانہ مشورہ دے ڈالا۔ اس مشورے پر مجھے ڈانٹنے کی بجائے یہ حکم نامہ جاری ہوا کہ میں ہفتے میں دو بار مرغوں کے پنچوں کی یخنی کا انتظام کیا کروں گا، حکم عدولی کی صورت میں کتابوں کی متوقع رسد کو کاٹا بھی جا سکتا ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا یہ کام بھی انجام دینا پڑا۔
ہمشیرہ کے امتحانات کے بعد ٹیوشن کا سلسلہ تو موقوف ہو گیا تاہم اُن سے ملنے کا سلسلہ وقفوں کے ساتھ جاری رہا۔1984ء میں میڑک کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب گورنمنٹ کالج (حال ایمرسن کالج) ملتان میں داخلہ لیا تو وہاں ایک بار پھر اُن سے ملنے کا موقع ملا۔ تدریس کے علاوہ اُس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر جی ایم ملک نے غلط پارک کی ہوئی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکالنے کا ناخوش گوارکام اُن کے ذمہ لگایا۔ کام تو بظاہر ناخوش گوار تھا مگر تھا عین ان کی طبیعت کے مطابق سو پہلے ہی دن انھوں نے ڈاکٹر جی ایم ملک کے اسکوٹر کے دونوں پہیوں کی ہوا نکال کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا ثبوت پیش کیا۔ویسے بھی خان صاحب ہوا نکالنے کے ماہر سمجھے جاتے تھے وہ گاڑی کی ہو یا بندے کی۔اُنھی دنوں ہٹ دھرمی کی حد تک میری شاعرانہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اُنھوں نے مجھے عروضی شد بد کے لیے ڈاکٹر محمد امین کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔خان صاحب ڈاکٹر امین کی علمیت کے قائل تھے مگر اِس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے اپنے تخلیق کردہ دو تین لطائف بھی سنا ڈالے جو اب تو یاد نہیں مگر ان میں ڈاکٹر صاحب کی مخصوص کھانسی کا ذکر آتا تھا۔ اتفاق سے ڈاکٹر صاحب اُن دنوں میرے ساتھ والے گھر میں مقیم تھے۔ میں خان صاحب کے مشورے کے مطابق کچھ عرصہ ڈاکٹر صاحب سے عروضی سبق پڑھتا رہا۔
ایف اے کا وہ زمانہ خاصا یادگار زمانہ تھا۔ سٹوڈنٹس یونین پر تازہ تازہ بین لگا تھا مگر سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔کالج میں آئے دن ایشیا کو سرخ اور سبز کیا جاتا تھا۔ دائیں اور بائیں بازو کا امتیاز ابھی قائم تھا اور یہ تفریق طالب علموں ہی میں نہیں اساتذہ میں بھی موجود تھی۔ خان صاحب کو عموماً بائیں بازو کے قریب سمجھا جاتا تھا اس لیے نہیں کہ وہ بائیں بازو کے نظریاتی حامی تھے بلکہ اس کی وجہ دائیں بازو سے ان کی بیزاری کا رویہ نمایاں تھا اور بالخصوص جماعت اسلامی کے بارے میں ان کے اقوال سننے کے لائق تھے۔ وہ مولانا مودودی کی عزت کرتے تھے مگر عزیز ہمیشہ جوشؔ کو رکھتے تھے۔ وہ بادہ خوار نہیں تھے مگر بادہ خواروں اور ان کی مجلسوں کو پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب ان کے عشق کا مرکز بنا۔ منٹو،جوش،بیدی، مصطفی زیدی،محمد علی صدیقی اور وارث علوی کی تخلیقی و ادبی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی بادہ خواری کو دل سے عزیز رکھتے تھے۔ علامہ نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھپوری کے بہت قائل تھے بقول ان کے ”علامہ نیاز کی تحریروں نے ذہن سے اوہام کے سارے جالے صاف کر دیئے ہیں۔“خیر بات ہو رہی تھی خان صاحب کے فکری رجحانات کی تو وہ بہت واضح تھے۔ 1986ء میں خان صاحب کالج سے ریٹائر ہوئے یوں ان کی زندگی کا ایک باب ختم ہوتا ہے.
1986ء میں میں نے ایف اے کے بعد بی اے میں داخلہ لیا اور اردو اختیاری کے مضمون کا انتخاب کیا۔ اب تک جو تھوڑا بہت پڑھا یا سیکھا تھا وہ اپنی جگہ مگر اب ایک ترتیب اور مطالعاتی تنظیم کی ضرورت تھی جس کی فہم اس وقت تک مجھے نہیں تھی۔ سو اس مشکل وقت میں دو شخصیات نے ادب پڑھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک عزیز دوست پروفیسر ندیم جعفری اور دوسرے لطیف الزماں خاں۔ ان دو صاحبان نے بی اے میں میری بہت مدد کی۔ خان صاحب گفتگو تو کرتے تھے مگر کتاب دینے میں بظاہر کافی سخت گیر تھے۔ ہمارے بی اے کے کورس میں غالب کی ردیف ن شامل تھی۔ اب غا لب کا ذکر آئے اور خان صاحب کا نہ آئے یہ کیسے ممکن تھا سو شعرِ غالب کی تفہیم کے لیے خان صاحب اور ان کی لائبریری میں موجود غالب کی شرحوں کی اشد ضرورت تھی۔ خان صاحب تک رسائی تو ممکن تھی مگر غالب کی شرحوں تک رسائی تقریباً ناممکن تھی۔ اس کے لیے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے گئے، یہ الگ قصہ ہے کسی اور وقت پر سہی۔
1988ء میں میرا داخلہ ایم اے اردو میں ہوا تو یہاں تو گویا کتابوں کا دبستان کھل گیا مگر اکثر کتب رسائی سے باہر تھیں۔ کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ ابھی اس سطح پر نہیں پہنچا تھا جہاں آج ہے۔ سو کتابوں کے حصول کے لیے خان صاحب ہی اکیلے پیر و مرشد کی طرح نظر آئے۔ اب کتاب خزانے تک رسائی کیسے ہو اور اس طلسم ہوشربا کی نگری تک کیسے پہنچا جائے کہ ایک دن خان صاحب نے اس مشکل کو کچھ آسان کر دیا۔ ہوا یہ کہ خان صاحب ان دنوں رشید احمد صدیقی، جن سے انھیں بے پناہ عقیدت تھی کے مکاتیب کی تدوین میں مصروف تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ رشید احمد صدیقی کے مضامین کو بھی یک جا کر رہے تھے مگر ایک مشکل کام ان صفحات کی پروف ریڈنگ کا تھا۔ اس کام کو پہلے پہل میں نے اور بعد ازاں میرے بہت سے ادبی دوستوں نے انجام تک پہنچایا۔ اس زمانے میں خان صاحب کی ایک ہی ترجیح تھی اوروہ تھی مسودات کی پروف ریڈنگ۔ اب گرمیاں ہوں یا سردیاں، خزاں ہو یا بہار، خشک سالی ہو یا برسات ہر موسم میں ایک ہی کام تھا پروف ریڈنگ۔سچ پوچھیں تو اُن دنوں خان صاحب ہمیں ایک دہشت گرد نظر آتے تھے مگر ہمیں بھی کتابوں کی ضرورت تھی سو اس راہِ پر خار پر چلتے ہی بنی۔ مہینوں بلکہ برسوں پر پھیلے اس کام نے سبھی کو تھکا کر رکھ دیا۔ ہاں البتہ خان صاحب اس کٹھنائی میں بھی خوش نظر آتے کہ انھیں اپنے محبوب کی تحریروں کی یک جائی کا انبساط ہی سرشار کئے رکھتا تھا۔ اس پروف ریڈنگ کے لیے خان صاحب نے ہم سب کو بہت سی دل فریب آفرز دی تھیں مثلاً پسند کی کتاب، اعلیٰ نسل کے سگار، سگریٹ، چائے اور کافی وغیرہ۔ کچھ عرصہ تک تو یہ آفرز بہت دل فریب محسوس ہوئیں مگر آخر کب تک؟ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے، اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے کے مصداق دوستوں کا سارا حلقہ اس پل صراط سے گزرا، میرے علاوہ لیاقت جعفری، علی حسین، افکار احسن، مبشر مہدی،شوکت نعیم قادری، سجاد رضوی، اجلال زیدی اور نجانے کتنے اس پروف ریڈنگ کی بھینٹ چڑھے۔ اگرچہ اُس وقت یہ کام ایک مصیبت سے کم نہیں لگتا تھا مگر آج سوچتا ہوں کہ اِسی بہانے غالب اورر شید احمد صدیقی کی بیشتر کتب پڑھنے کا اتفاق ہوا، اور پروف ریڈنگ کے دوران خان صاحب جو گفتگو کرتے اور شخصیات و واقعات کو جس طرح بیان کرتے وہ آگے چل کر ہمارے لیے بہت سود مند ثابت ہوئے۔
( جاری)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

لطیف الزماں خاں ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکل سے سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی
Next Article فنڈز کے اجرا کا غیر آئینی کام کرنے کا کہا جا رہا ہے،ایوان رہنمائی کرے، وزیر خزانہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

اپریل 26, 2026

ملتان میں شدید بارش اور ژالہ باری، گندم کی تیار فصل کو خطرہ

اپریل 2, 2026

ملتان کے مجاہدِ ادب مشتاق کھوکھر کی 13 ویں برسی : رضی الدین رضی کی یاد نگاری

اپریل 1, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون اپریل 27, 2026
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری اپریل 26, 2026
  • ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی اپریل 26, 2026
  • ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے اپریل 26, 2026
  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.