ملتان : سرائیکی کے نام ور شاعر اور دانش ور ارشاد تونسوی منگل کے روز تونسہ میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 75 برس تھی ۔ ارشاد تونسوی 15اکتوبر 1946ء کو تونسہ شریف میں پیدا ہوئے۔ میٹرک ہائی سکول تونسہ سے کیا، ایف۔ اے، بی۔ اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازیخان سے کئے، اور ایم۔ اے تاریخ 1968ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا۔ ایم اے کے بعد انہوں نے بطور ڈسٹرکٹ منیجر اوقاف میں ملازمت کا آغاز کیا اور مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو گئے۔
ارشا دتونسوی ایک سچے، کھرے تخلیق کار تھے ان کا شعری مجموعہ ’’ ندی ناں سنجوک“ سرائیکی ریسرچ سینٹر بہأ الدین زکریایونیورسٹی ملتان نے 2006ء میں شائع کیا تھا۔ارشاد تونسوی کے اس شعری مجموعہ کو اکادمی ادبیات کی طرف سے ایوار ڈ بھی مل چکا ہے
ارشاد تونسوی کا شمار ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے خطے میں عوام کے حقوق اور شناخت کے لیے آواز بلند کی ۔ان کے پسماندگان میں بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ وہ اے پی پی سرائیکی سروس کی انچارج سعدیہ کمال کے سسر بھی تھے ۔
فیس بک کمینٹ

