اسلام آباد : گجرات کے چوہدری برادران کی سیاسی راہیں جدا ہو گئی ہیں اور انہیں ایک صف میں لانے کی کوششیں اب تک ثمر آور ثابت نہیں ہوسکیں اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ شریف برادران کی جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد برقرار رکھیں گے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چوہدری شجاعت کے صاحبزادے و وفاقی وزیر سالک حسین اور شافع حسین نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور اعلان کیا کہ ان کی ’مکمل حمایت‘ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت کے ساتھ ہے۔چوہدری شجاعت کے بیٹوں نے ایک بار پھر یقین دہانی کروائی کہ ان کا سیاسی اتحاد مستقبل میں بھی قائم رہے گا۔
اس موقع پر حمزہ شہباز نے چوہدری شجاعت کی صحت دریافت کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
قبل ازیں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی کابینہ کا حصہ مونس الہٰی شریف خاندان اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان کی ڈیل میں ناکامی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ مشکل وقت میں ان کا خاندان عمران خان کی حمایت کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن پھر بھی بات نہیں بنی۔حمزہ شہباز، سالک حسین اور شافع حسین کی ملاقات کو مسلم لیگ (ن) کی جاری کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اگر بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں شہباز حکومت کو ہٹانے کے لیے ‘کچھ حلقوں’ کی جانب سے کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے تو مسلم لیگ (ق) کے شجاعت کیمپ اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سمیت تمام ‘مشکوک’ اتحادیوں پر نظر رکھی جائے۔
ادھر مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت کے صاحبزادے حسین الہیٰ نے ق لیگ چھوڑدی ہے۔ذرائع کے مطابق چوہدری حسین الہیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘ق لیگ کے ساتھ اپنا سیاسی سفرختم کررہا ہوں، ہمیشہ یہ ہی کہا ہے میرے لیے میرا ملک سب سے پہلے ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت میں نہیں رہ سکتا جو شہبازشریف کو سپورٹ کرتی ہے۔
حسین الہیٰ نے کہا کہ مستقبل کی سیاست کا فیصلہ مونس الہیٰ کے ساتھ کروں گا۔
( ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

