مکہ مکرمہ : شدید گرم موسم کی وجہ سے رواں سال فریضۂ حج کے دوران سینکڑوں حجاج کی ہلاکت کے بعد اب خبر رساں اداروں نے متعلقہ ممالک کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر ایسے افراد تھے جو ان ممالک کے باقاعدہ حج وفد کا حصہ نہیں تھے اور انھوں نے بظاہر غیرقانونی طریقے سے حج کیا اور اس دوران قانونی حجاج کو دستیاب سہولیات کے حقدار نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے۔
سعودی حکام کے مطابق رواں برس تقریباً 18 لاکھ افراد نے حج کا فریضہ ادا کیا جن میں سے 16 لاکھ بیرون ممالک سے سعودی عرب پہنچے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے مختلف ممالک کی وزارت خارجہ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کم از کم 562 افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال حج کے دوران کم از کم 922 عازمین کی موت ہوئی، جن میں سے زیادہ تر کی ہلاکت کی وجہ شدید گرمی تھی۔
سعودی حکام نے گرمی کی وجہ سے بیمار ہونے والے دو ہزار سے زائد حجاج کا علاج کرنے کی تصدیق تو کی ہے لیکن اتوار کے بعد سے اس تعداد کو اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اموات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی ہیں۔
پیر کو سعودی ٹیلی ویژن نے بتایا کہ عازمین حج نے انتہائی گرم حالات میں مناسک حج ادا کیے جس کی وجہ سے موجودہ حج سیزن کے دوران ان میں سے بعض کی موت واقع ہوئی، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے اندر سایہ دار مقام پر درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔
پاکستان حج مشن کے ڈائریکٹرعبدالوہاب سومرو کے مطابق کم از کم 35 پاکستانی عازمین حج بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے 26 اموات حج سے قبل مکہ میں ہوئیں جبکہ مشاعر کے دوران نو افراد وفات پا گئے تاہم انھوں نے ان افراد کی ہلاکت کی وجوہات کے متعلق تفصیل نہیں بتائی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرکاری سکیم کے تحت جانے والی متعدد پاکستانی حجاج نے حج کے ایام میں بدانتظامی اور مشکلات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ بی بی سی نے پاکستانی عازمین حج کی جانب سے سہولیات کی عدم فراہمی اور بدانتظامی کی شکایات پر پاکستان حج مشن کا کہنا ہے کہ مشاعر میں پاکستانی عازمین کو بے یارومددگار چھوڑنے کے الزامات بے بنیاد ہیں
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

