Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, مئی 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار
  • امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب :سیدمجاہد علی کا تجزیہ
  • پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے نئے وائس چانسلر : چارج سنبھال لیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»رضا علی عابدی»جعل سازی کے امکانات روشن ہوگئے۔۔رضا علی عابدی
رضا علی عابدی

جعل سازی کے امکانات روشن ہوگئے۔۔رضا علی عابدی

ایڈیٹرجولائی 12, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
raza ali abidi column
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

میری جوانی اخبار نویسی میں گزری۔ اس دوران کیسے کیسے منظر دیکھے، بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک بات جو ہر روز سننے میں آتی تھی وہ یہ کہ لوگ ایک روز بیان جاری کرتے اور اگلے روز مُکر جاتے۔ یہ ایک معمول سا بن گیا تھا۔ اُس کے بعد جو جملہ سننے میں آتا تھا اور آج تک آتا ہے وہ یہ تھا کہ میرا بیان توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب خبر رسانی کا سب سے بڑا ذریعہ چھپا ہوا اخبار ہوا کرتا تھا۔ بے چارے نامہ نگاروں اور رپورٹروں پر ہمیشہ یہ الزام دھرا جاتا تھا کہ انہوں نے بیان توڑ مروڑ کر شائع کیا ہے۔


اب جو وہ فرسودہ نظام ختم ہوا اور کیا تحریر، کیا تصویر، کیا آواز اور کیا بدن کی حرکات و سکنات، سب یوں محفوظ ہونے لگیں کہ تردید یا انکار کرنے کی گنجائش نہیں رہی، لوگ اب تک وہی بھونڈی شکایت دہراتے ہیں، وہی توڑنے مروڑنے والی بات لیکن اب تو لوگوں کی کہی ہوئی بات یوں محفوظ ہو جاتی ہے کہ انکار کرنے یا منحرف ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ یوں سمجھئے کہ کسی بااختیار شخص نے کسی عدالت کے منصف کو ٹیلی فون پر کہا کہ فلاں شخص کو ذرا سخت سزا دینا۔ آج کل کے برقی آلات ایسے چالباز ہو گئے ہیں کہ اس طرح کی ٹیلی فونی گفتگو محفوظ کر لیتے ہیں اور اگر وہ گفتگو نشر ہو جائے تو وہ اتنی سچی اور حقیقی گواہی ہوتی ہے کہ اس پر دروغ گوئی کا الزام نہیں لگ سکتا۔ گفتگو کرنے والے کو انکار یا تردید کرنے کی جرأت نہیں ہوتی اور وہ بات ایک ایس گہری لکیر بن جاتی ہے جو کسی پتھر پر کھودی گئی ہو۔ مثلاً میں اگر کہہ دوں کہ لندن تو کیا، پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں تو میری یہ بات پھر مٹ نہیں سکتی۔ پھر میڈیا میرے اس ایک فقرے کو اس طرح بار بار دہرا سکتا ہے جیسے ایک ہی زخم پر ہر روز نمک چھڑکا جا رہا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ میں پھر ایسا بھولا اور نادان بن جاؤں جیسے میں نے یہ بات کبھی کہی ہی نہیں تھی۔ اس میں ذرا سا حیا کا معاملہ ہے مگر ان دنوں حیا نے دل و دماغ میں چٹکیاں لینا چھوڑ دیا ہے، کس کو پڑی ہے کہ اپنے کہے پر نادم اور شرمسار ہو۔ لوگ دلیر ہو گئے ہیں لیکن ان باتوں سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جدید ٹیکنالوجی آجانے کے بعد حقیقت کو توڑنا مروڑنا ممکن نہیں رہا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جیسی ہیرا پھیری اور جعل سازی اب ہوتی ہے، گزرے وقتوں میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اِدھر کا بیان اٹھا کر اُدھر چپکا دینا، یہاں کا فقرہ نکال کر وہاں چسپاں کر دینا، زیر زبر بدل دینا، لفظ مٹا دینا، فقرہ حذف کر دینا، عبارت کو تہ و بالا کردینا، اب بیحد آسان ہو گیا ہے اور اگر آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور یہ ہیرا پھیری نہیں کر پا رہے تو گھر کے لڑکے لڑکیوں سے کہئے، وہ پلک جھپکتے میں کر دیں گے۔


یہ تو خیر تحریر کی بات ہوئی، تقریر میں بھی اتنی الٹ پھیر ہو سکتی ہے کہ تقریر والا خود سنے تو حیران رہ جائے کہ اُس نے یہ سب کہا ہی نہیں تھا۔ الفاظ آگے پیچھے اور فقرے اوپر نیچے کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسی طرح آواز کا بدلنا، میری آواز کو بھاری بھرکم کرنے یا باریک یا نسوانی بنا دینے میں بس اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا پلک جھپکنے میں۔ میرا بی بی سی کا زمانہ پرانی ریل پر چلنے والے ٹیپ کا دور تھا۔ ساری ریکارڈنگ ایک چرخی سے کھل کر دوسری چرخی پر لپٹنے والے فیتے پر ہوتی تھی۔ اس میں ساری کاٹ چھانٹ کے لئے ٹیپ یا فیتے کو بلیڈ سے کاٹا جاتا تھا۔ ایک لفظ نکالنا ہو یا ایک فقرہ، وہ سب کچھ بلیڈ سے کاٹ کر نکالا جاتا تھا۔
پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ اس ساری دقیانوسی چرخی کاری کی جگہ سامنے میز پر رکھے ہوئے کمپیوٹر کے پردے پر آواز یوں نمودار ہو گئی کہ وہ نہ صرف سنائی دیتی تھی بلکہ لہروں کی شکل میں دکھائی بھی دیتی تھی۔ بس پھر آپ پوری طرح آزاد تھے کہ آواز کے ساتھ جیسی اکھاڑ پچھاڑ کرنا چاہیں، شوق سے کریں۔ یہاں کی بات وہاں اور وہاں کی آواز یہاں چسپاں کرنے کیلئے بس ایک بٹن دبانا ہوتا تھا۔ (شکر ہے اُن ہی دنوں میں ملازمت سے سبک دوش ہوگیا)۔
تحریر اور تقریر کے بعد تصویر کا تو بس کچھ نہ پوچھئے۔ جتنی جعل سازی اور ڈھونگ بازی تصویر میں ہو سکتی ہے اس کو بیان کرنا تو کیا، تصور کرنا بھی دو بھر ہے۔ ادھر کیمرہ شاپ نام کی کوئی بلا ایجاد ہو گئی ہے۔ اس سے تو خدا سب کو محفوظ رکھے۔ اس میں ڈال کر آپ تصویر کے ساتھ وہی سلوک کر سکتے ہیں جو گائے اپنی جگالی کے ساتھ کرتی ہے۔ اسے بگھارئیے، ابالئے، کھنگالئے، نتھارئیے اور انسان کو پلک جھپکتے میں گدھا بنا دیجئے۔ جس کے سر پر چاہے سینگ اگا دیجئے یا سامنے کے دو دانتوں کو ڈریکولا جیسے خون چوسنے والے دانت بنا دیجئے۔ ہم نے ٹیلی وژن پر ایسے منظر دیکھے ہیں جو کبھی وجود ہی میں نہیں آئے لیکن اسکرین پر یوں نظر آئے جیسے سچ مچ ظہور میں آئے ہوں۔ اس سارے کام کے لئے آپ کا مصور یا کاریگر ہونا ضروری نہیں۔ بس کی بورڈ پر دوڑتی ہوئی انگلیاں ایسی ایسی کرامات دکھا سکتی ہیں کہ انسان ایک لمحے میں فرشتہ اور دوسرے میں شیطان نظر آسکتا ہے۔
ان سارے کمالات کے بعد جعل سازوں کے مزے آگئے ہیں۔ آپ دنیا کی جو دستاویز چاہیں چھاپ کر نکال سکتے ہیں۔ کسی عظیم درس گاہ کی سند ہو یا کسی ملک کی بڑی سے بڑی مالیت کی کرنسی، بس وہی ایک بٹن دبائیے، محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔
ان حالات میں عدالتوں کا کام دشوار ہوا جاتا ہے۔ کیا اصلی ہے کیا جعلی، کیا حقیقی ہے کیا فرضی، بادی النظر یا کسی بھی نظر میں کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ اب آپ سارا تام جھام اٹھا کر کسی جدید لیبارٹری میں جائیے، وہاں ماہرین مل کر سر کھپائیں اور فرانزک ٹیسٹ کریں تو پتا چلے کہ اس میں کتنا جھوٹ ہے اور کتنا مہا جھوٹ۔
پھر بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پانی کا پانی ہوا، وہ بھی گندے جوہڑ کا، یا دودھ کا دودھ، وہ بھی پھٹا ہوا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleرحیم یار خان میں اکبر ایکسپریس اورمال گاڑی میں تصادم، 9 افراد جاں بحق
Next Article جانور نامہ۔۔عطا ء الحق قاسمی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

مئی 4, 2026

پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور

مئی 4, 2026

پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

مئی 3, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ مئی 4, 2026
  • پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور مئی 4, 2026
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ مئی 3, 2026
  • بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک مئی 2, 2026
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ مئی 2, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.