مولانا فضل الرحمان نے پشاور کے جلسے میں جو کچھ کہا وہ شاید الیکٹرانک میڈیا نے تو پورا نہیں دکھایا مگر سوشل میڈیا پر مولانا کی تقریر کا جو کلپ وائرل ہواہے اس میں مولانا نے حقارت سے براہ راست فوج کے جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے ،کسی رکاوٹ کی صورت میں اپنا رخ فوج کی طرف موڑ دینے کا ببانگ دہل اعلان کرتے ہوئے یہ عندیہ اور تاثر دے دیا ہے کہ وہ پر امن طور پر اسلام آباد میں داخلے کی شرط پوری ہونے کے بعد مقتدر اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنائیں گے تاکہ حالات حکومت وقت ہی نہیں لاءاینڈ آرڈر کے ذمہ دار اداروں کے بس سے بھی باہر ہو جائیں۔۔
مولانا کی اس تقریر اور طرز عمل نے پہلے سے موجود بہت سے سوالات کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔۔کیا مولانا ، پاکستان کا ملا عمر بننا چاہتے ہیں اور کیا مولانا کے مسلح جتھے میں موجود افراد آنے والے وقت میں طالبان کی صورت پاکستان میں دندناتے پھریں گے اور کیا آنے والے وقت میں پاکستان ، افغانستان جیسی صورت حال کا شکار ہو جائے گا۔جہاں فوج تو حکومت کی حفاظت کے لیئے سرگرم رہتی ہے مگر مسلح گروہ فوج سے متصادم رہتے ہیں۔ہم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کی فوج ، افغانستان کی فوج سے زیادہ طاقت ور اور مضبوط ہے۔مگر کیا اس امر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ جس تواتر کے ساتھ پاک فوج کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے، وہ ساری ہاہاکار بےکار چلی جائے گی اور عوام پر اس کا کچھ اثر نہیں ہو گا۔
اس وقت فوج کے بارے میں اس گمان کو عوامی سطح پر مکمل یقین میں بدلنے کی بھرپور کوشش جاری ہے کہ فوج عمران خان کی پشت پر کھڑی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس بیانئے کی عوامی سطح پر پذیرائی کیا رنگ لائے گی۔ اس سوال کا جواب کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔سن ستتر اور آج کے حالات میں بہت مماثلت ہے۔ ستتر میں بھٹو حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے شروع ہوا تھا۔ اس وقت بھی یہی تاثر تھا کہ حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔بھٹو حکومت کوچلتا کرنے سے ایک دو دن پہلے تک یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ جنرل ضیاءاقتدار پر قبضہ کر لے گا۔ذالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیا ءپر جتنا اعتماد تھا شاید عمران خان کو بھی جنرل باجوہ پر اتنا اعتماد نہ ہو۔مگر وقت نے یہ بھی دیکھا کہ لاہور میں فوج نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔
اب آتے ہیں مولانا فضل الرحمان کے جارحانہ بیانات اور انداز کی طرف۔۔کیا یہ محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔جن سے صرف نظر کیا جانا ہی بہتر ہے۔میرا خیال ہے کہ نہیں۔مولانا چاہیں گے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کسی نہ کسی طرح تصادم کی صورت پیدا ہو۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو مولانا کی پیش قدمی کا جواز پیدا نہیں ہو گا۔۔یادش بخیر۔۔سن ستتر کی تحریک بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف شروع ہو کر تحریک نفاذ نظام مصطفی میں بدل گئی تھی اور اس وقت کے بڑے بڑے نامی گرامی علمائے کرام اس تحریک کا ہراول دستہ بن گئے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایک ”امیر المومین“نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جما لیا اور تمام علمائے وقت نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔یہ سب کچھ سیاست میں مذہب کے کارڈ کے استعمال سے ممکن ہوا۔ پاکستان کی سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کو ایک نظریاتی مملکت قرار دے کر اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اس کا سب سے طاقتور بیانیہ رہا ہے ۔یہ الگ بات کہ یہ مملکت نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے کرتے ، اپنی جغرافیائی سرحدیں ہی تبدیل کر بیٹھی۔خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔۔۔
سن ستتر میں ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی جماعت پی پی پی کو تن تنہا تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کی مخالفت کا سامنا تھا۔اس حوالے سے آج صورت حال بالکل ویسی ہی ہے۔ حکومت کی بری کارکردگی پر ڈھیروں تنقید کے باوجو د امر واقع یہ ہے کہ آج عمران خان اور اس کی جماعت بھی تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کے مقابلے میں تنہا کھڑی ہے۔
مولانا کو اپنی پوری سیاسی زندگی میں اتنی شہرت اور اہمیت نہیں ملی ، جس کے مزے وہ آج کل لوٹ رہے ہیں۔۔کشمیر جیسا اہم مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے ۔مولانا کے اسلامی مارچ کی گھن گرج کے ساتھ مارچ پاسٹ اور گارڈ آف آنر کا مظاہرہ کرتی ہوئی ان کی فورس کے روپ میں یہ جتھہ طالبان کا دوسرا جنم بھی ہو سکتا ہے۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ جتھہ صرف مدرسوں کے معصوم طلبہ پر ہی مشتمل ہے۔ تربیت یافتہ طالبان کی اس میں شمولیت کا پہلو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔اور میرے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ابھرتا ہے کہ اگر یہ لوگ کسی طرح بھی کامیاب ہو گئے ،تو باقی لوگوں کا کیا بنے گا ؟
اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ اپنے مخصوص اسلامی نظریئے سے اتفاق نہ کرنے والوں کو سکون و اطمینان سے جینے کا حق دیں گے۔میرے اس وہم سے قطع نظرسن ستتر میں پی ٹی وی سے نشر ہونے والے ” میرے عزیز ہموطنو“ کے الفاظ ابھی تک سماعتوں میں موجود ہیں۔۔

