تازہ ترین خبروں کے مطابق لوگ ایک بار پھر لاک ڈاؤن کا شکار ہوں گے، اس بار Smart Lock Down کی تجویز رکھی گئی ہے، تو یہ ضرورت کیوں درپیش آئی کے نرم کئے گئے لاک ڈاؤن کو پھر سے سخت بلکہ کرفیو کی سی کیفیت کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :
اپنی تباہیوں میں میرا ہاتھ بہت ہے، جتنا بھی دیا تم نے میرا ساتھ بہت ہے۔
کچھ روز پہلے تک ہم اس بات پر حیران تھے کہ لاک ڈاؤن میں اتنی نرمی کیوں کی جا رہی ہے اور آج اس نرمی کے مضمرات دیکھ کر دل کہتا ہے کہ ہم واقعی صحیح سمت میں ہی سوچ رہے تھے، کیوں کہ ہم اپنے آپ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمیں پکا یقین تھا کہ یہ قوم ماننے والی نہیں، یہ وہی کریں گے جو ان کے پیر فقیر یا بابے کہیں گے، یہ دنیا بھر میں پھیلی خبروں پر بھلا کہاں یقین کرنے والے ہیں۔ نتیجتاً جی بھر کر نافرمانی کی گئی اور اب کرونا سے متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
جو لو گ اس وقت اپنی عمر کے چالیس سے ستّر سال کے درمیان ہیں بہت سارے حوالوں سے نہایت ہی خاص لوگ ہیں کیونکہ وہ اب اُس دنیا میں نہیں جی رہے ہیں جس میں وہ پیدا ہوئے تھے، دنیا اب ہر لحاظ سے بہت بدل گئی ہے، اتنا زبردست بدلاؤ گذشتہ صدیوں میں کبھی نہیں آیا، لگتا ہے جیسے ایجادات و تبدیلیوں کا ایک طوفان آیا ہوا ہے، چاہے وہ امن ہو، یا جنگ ، اخلاقیا ت ہوں یا اخلاقی تنزلی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ہم گذشتہ تجربوں کے تناظر میں اس کے مثبت پہلوؤں کی جانب دیکھیں تو ہم پاتے ہیں کہ دنیا نے سائنس، کمپیوٹر، ادویات، ذرائع رسد ، مواصلات و ابلاغ غرض ہر طرف زبردست ترقی کی ہے۔ نئی سے نئی ایجادات نے زندگی آسان کردی ہے ، فاصلے مٹا دئے ہیں، کمپیوٹر، روبوٹ ، سیل فون ، انٹرنیٹ نے دنیا کا قریب قریب نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ہم اگر نگاہ ڈالیں تو پائیں گے کہ منفی رجحانات میں بھی اسی تناسب سے زبردست اضافہ ہوا ہے ، جیسا کہ، بین الا جغرافیائی سیاسی بالا دستی کا حصول، عالمی دہشت گردی، عالمی جنگیں، کیمیائی ہتھیاروں کی جنگیں، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری، ڈروں طیاروں کی تیاری، یہی وجہ ہے کہ آسانی کے ساتھ ساتھ مندرجہ بالا ایجادات نوع انسانی کے لئے ہر وقت خطرہ اور درد سری بھی بنی ہوئی ہیں جیسے کہ ہیکنگ، بلیک میلنگ اور جانے کس کس قسم کے جرائم کیلئے ان ہی ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا جاتا ہے، نئے نئے قسم کے ہتھیار بنی نوع انسان کو صفحہء ہستی سے مٹانے کیلئے تیار کر لئے گئے ہیں ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان تمام تر ترقی کے باوجود انسان نئی نئی بیماریوں اور وباؤں کے آگے بالکل بے بس و مجبور نظر آتا ہے۔ چشم کشاء امر یہ ہے کہ مسلسل نئی نئی بیماریاں اور وبائیں منظر عام پر آرہی ہیں اور سوچنے پر مجبور کررہی ہیں کہ ۔ ایک طاقت ایسی بھی ہے جو ان سب سے بالاتر ہے، آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کہیں اللہ ہم سے ناراض تو نہیں ؟ اب آپ موجودہ کرونا کی وباء ہی کو مثال بطور لے سکتے ہیں تمام ترقی یافتہ ممالک بالکل بے بس و لاچار نظر آ رہے ہیں۔
ہم نے دیکھا کہ حیرت انگیز تبدیلیوں، اور دیگر تمام چیلنجز کے ساتھ ساتھ وبائی امراض بھی زبردست امتحان کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ اور ہم کس طرح ان سب کا مقابلہ کرتے ہیں یہ جتا تا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کہاں کھڑے ہیں، پوری نوع انسانی کیلئے موجودہ کرونا وائرس کا وبائی حملہ اپنی ذات میں ایک نیا، انوکھا اور کڑا امتحان ہے، اب ہم اس کا جواب اپنے رویوں اور طریقوں سے کس طرح دے پاتے ہیں یہ بتائے گا کہ ہم کتنے ترقیافتہ اور متمدّن ہیں۔ ان مشکل حالات میں ہمارا رویہ ہی ہماری اصل شخصیت کو بے نقاب کریگا۔
جو اس وباء کو اللہ کی جانب سے ایک امتحان اور آزمائش بطور لے رہے ہیں اور اس سے نمٹنے کے تمام ممکنہ طریقے اور جتن کر رہے ہوتے ہیں کہ کس طرح خود بھی اس سے بچ سکیں اور دوسروں کو بھی بچا سکیں۔ وہ کہیں لوگوں میں راشن بانٹ رہے ہوے ہیں تو کہیں مالی امداد کر رہے ہوتے ہیں ، کہیں ضروری طبّی سامان کی فراہمی کیلئے پیسے فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے اسی معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو حقیقت سے نظریں چراتے ہوئے یا اپنی کم علمی کی وجہ سے توہمات و رسومات میں مبتلا ہوکر اس کا حل جعلی پیروں، ڈھونگی باباؤں، ٹوٹکوں اور تعویزوں میں تلاش کر رہا ہوتا ہے، اور ان رسومات میں اس قدر ملوث ہوجاتے ہیں کہ شرک و بدعت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور بلا جھجھک ان پر عمل کرتے رہتے ہیں، بعض دیواروں پر لکھے جعلی باباؤں کے اشتہارات ہمارا منہ چڑ ا رہے ہوتے ہیں جس میں کرونا سے شرطیہ علاج کا تعویز دینے کی گانٹی دی گئی ہوتی ہے۔ شفاء کاملہ کی گارنٹی دی گئی ہوتی ہے ۔
تو یہاں ایک اور طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا نظر آتا ہے کہ کچھ نہیں ہوتا سب ٹھیک ہو جائے گا، بالکل ڈرنے کی اور کوئی احتیاطی عمل یا تدابیر اختیار کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ کیونکہ اللہ سب ٹھیک کردے گا، ارے بھائی پہلے اونٹ کی رسّی باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو، آنکھیں بند کرکے کنویں میں چھلانگ لگاؤگے تو یقینا ڈوب ہی جاؤ گے۔ یہ دنیا دارلااسباب ہے یہاں تدبیر و دوا سے کام لینے کی دین و دنیا دونوں نے ہدایت کی ہے۔ جبکہ یہ لوگ جو کہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ وہ ان تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ کر جو موجودہ حالات میں نہایت اہم اور ضروری ہیں بلا وجواز خطروں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ کرونا متاثرین کی تعداد میں زبردست اضافے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ جو حکومتی اداروں کو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن عام آدمی سے لیکر بڑے تاجروں تک سب کے لئے شدید نقصاندہ ہے، مگر ہم اپنی من مانیوں سے کب باز آتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق بہت سے ایسے لوگ بھی پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جنہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا۔
کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہم کون ہوتے ہیں جو لوگوں کو موجودہ حالات کے تناظر میں ان کے رویوں پر پرکھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، مگر گذشتہ حالات و تجربات کی روشنی میں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ جلد یا بدیر یہ کورونا کی وباء بھی انشاءاللہ ختم ہوجائے گی اور زندگی پھر معمول پر آجائے گی۔ مگر جب یہ وقت گزر جائے گا اور زندگی پھر سے اپنے معمول پر آکر دوڑنے بھاگنے لگے گی تو لوگ انفرادی طور پر اور معاشرہ اجتماعی طور پر کیا اس بات پر کبھی غور کریگا کہ انہوں نے ان حالات میں کن طریقوں کو اپنایا تھا، کیا جو طریقے اپنائے گئے تھے وہ درست تھے؟ ہمارا طریقہ کار ثابت کرے گا کہ اس مشکل حالات میں ہمارا عمومی رویہ ہی ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا ۔
فیس بک کمینٹ

