لاہور : پنجاب پولیس نے سیشن کورٹ کے حکم پر ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی کے لاہور کے گھر سے مبینہ طور پر ملازمت کرنے والی کم عمر لڑکی کو بازیاب کرا لیا۔ لڑکی کے والد محمد منیر نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ لڑکی کو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی مرضی کے بغیر وہاں قید رکھا گیا ہے۔ لڑکی کی بازیابی سے قبل مبینہ طور پر غریدہ فاروقی اور شازیہ نامی خاتون کے درمیان تین فون کالز کی ساؤنڈ ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ریکارڈنگ میں شازیہ نے غریدہ فاروقی پر لڑکی پر تشدد کرنے اور اسے اس کے والدین سے ملاقات سے زبردستی روکنے کا الزام لگایا۔ تاہم غریدہ فاروقی کے نام سے ریکارڈنگ میں پہچانے جانے والی دوسری خاتون نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پہلی خاتون سے کہا کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں۔
اتوار, جولائی 26, 2026
تازہ خبریں:
- انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
- بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب
- حسن رضا گردیزی ۔سرائیکی اور انگریزی : رضی الدین رضی کا 1989 میں لکھا گیا مضمون
- اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال ( جنگ کے گم نام ہیرو ) – وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب اصل وارث آگئے ہیں، مریم نواز
- ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹانک میں خود کش حملہ : 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد لقمہ اجل
- جنرل عامر رضا کو ترقی دے کر پاکستان کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا گیا
- عوام کا میدانِ جنگ ، جہاں روز حملے ہوتے ہیں : شہزاد عمران خان کا کالم

