لاہور : پنجاب پولیس نے سیشن کورٹ کے حکم پر ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی کے لاہور کے گھر سے مبینہ طور پر ملازمت کرنے والی کم عمر لڑکی کو بازیاب کرا لیا۔ لڑکی کے والد محمد منیر نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ لڑکی کو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی مرضی کے بغیر وہاں قید رکھا گیا ہے۔ لڑکی کی بازیابی سے قبل مبینہ طور پر غریدہ فاروقی اور شازیہ نامی خاتون کے درمیان تین فون کالز کی ساؤنڈ ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ریکارڈنگ میں شازیہ نے غریدہ فاروقی پر لڑکی پر تشدد کرنے اور اسے اس کے والدین سے ملاقات سے زبردستی روکنے کا الزام لگایا۔ تاہم غریدہ فاروقی کے نام سے ریکارڈنگ میں پہچانے جانے والی دوسری خاتون نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پہلی خاتون سے کہا کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں۔
اتوار, مئی 3, 2026
تازہ خبریں:
- پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک
- حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ
- یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
- باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار
- امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب :سیدمجاہد علی کا تجزیہ
- پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے نئے وائس چانسلر : چارج سنبھال لیا
- مزدوروں کے عالمی دن پر پیٹرول پھر مہنگا کر دیا گیا: سات روپے لیٹر اضافہ
- معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام

